• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چار اپریل کومنتخب وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو شہید کی چھیالیسویں برسی منائی جا رہی ہے۔ گزشتہ سال سپریم کورٹ پاکستان نےکئی سال پہلے صدر مملکت جناب آصف علی زرداری کے دائر کیے گئے ریفرنس کی فل کورٹ سماعت کے بعد بھٹو کو نواب احمد خان کےقتل کے مقدمے میں دیے گئے سپریم کورٹ کے جاری کیے گئے حکم کو کالعدم قرار دیا بعد ازاں جناب سہیل وڑائچ نے ایک دن جیو کے ساتھ پروگرام میں مولانا سید ابو لااعلیٰ مودودی کے بڑے فرزند سے تفتیشی انداز میں یہ انکشاف حاصل کرلیا کہ جن چار گواہوں کی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے بھٹو کو سزا کاحکم جاری کیا تھا ان میں تین گواہوں کا تعلق جماعت اسلامی سے وابستہ خاندانوں سے تھا جنہیں جنرل ضیاءالحق نے بھٹو کو عدالت سے سزا دلوانےکیلئے امیر جماعت اسلامی میاں محمد طفیل کے ذریعےمینج کیا تھا۔یہ خبر پاتےہی کہ بھٹو کی سزاے موت پرعمل کروایا جا رہا ہے۔ڈاکٹر مبشرحسن اپنے لیڈر چیئرمین بھٹو کوبچانے کیلئے اسلام آباد پہنچے ۔ ڈاکٹر مبشرحسن کی بھٹو بچاو سرگرمیوں کو اخبارات میں نمایاںطور پرشائع کیا جا رہا تھا ۔ ڈاکٹر مبشر حسن کی صدر جنرل ضیاء الحق سے ملاقات کے اگلے روز امریکی سفیر سے ملاقات کی خبر نمایاں تھی۔ میں ان دنوں لاہور آیا ہوا تھا ۔تین اپریل کی شام میں ڈاکٹر مبشر حسن سے ملنے ان کی رہائش گاہ چلا گیا، وہ ایئر پورٹ سے گھر پہنچے تھے ہم دونوں لان میں بیٹھ گئے بھٹو نے مجھے پاور میں حصہ نہیں دیا تھا بلکہ تین بار نظر بندی سے دوچار کیا تھا لیکن اسکے باوجود میں بھٹو کو سوشلسٹوں اور عوام کیلئے ناگزیر سمجھتا تھا اس لیے بھٹو کو بچانے کا حامی تھا۔ڈاکٹر مبشر حسن بھی ایسی ہی خواہش رکھتے تھے ان کی کوشش تھی کے بھٹو کو درست ڈائریکشن پر رکھا جاے ہم دونوں اس بات پر متفق تھے کہ بھٹو آوٹ کر دیئے جائیں گے اور ہم سوشلسٹ لاوارث ہو جائیں گے۔

قصہ کوتاہ میں نے جلدی میں ڈاکٹر مبشر حسن سے پوچھا تھا کہ اسلام آباد میں بھٹو بچاو مہم کا کیا رسپانس رہا ان کا کہنا تھا کہ بھٹو کو پھانسی دینا ہوگی تو ایک دو دن میں پھانسی دے دی جاے گی اور اگر بھٹو ایک ہفتہ بچ گیا تو سمجھو بھٹو بچ گیا ۔انہوں نے بتایا کہ میں نے جنرل ضیاءسے کہا تھا کہ بھٹو کو مارو نہیں اسےجیل میں رکھو بھٹو کی مخالف قوتیں خوف زدہ رہ کر تمہارے نیچے لگی رہیں گی، جنرل ضیاء کاکہنا تھا کہ ڈاکٹر صاحب ! آج جس سیٹ پر میں بیٹھا ہوں یہ بھٹو کی عطا کردہ ہے، میں اپنے محسن کو کیسے مارسکتا ہوں اس موقع پر میں نے سوال کیا ،ڈاکٹر صاحب آپ کا اس پر کیا خیال ہے۔؟ ڈاکٹر مبشر حسن نے برملا کہا تھا جنرل ضیاء کمزورآدمی ہے بھٹو مخالف قوتوں کا دباو برداشت نہیں کر سکے گا یہ بھٹو کو پھانسی لگا دے گا۔ امریکی سفیر سے اپنی ملاقات کا حال سناتے ہوے انہوںنے کہاکہ میں نے امریکی سفیر سے کہا تھا کہ بھٹو عوام کا مقبول لیڈر ہے اسے مارو نہیںجیل میں رکھوممکن ہےدوبارہ امریکہ کے کام آجاے،جس پر امریکی سفیر کا جواب تھا کہ میں تمہارا یہ میسج واشنگٹن پہنچا دوں گا۔ ڈاکٹر مبشر حسن سے ملاقات کے بعد میں بہاولپور لوٹا تو صبح کے چار بج رہے تھے راستے میں ملتان بس اسٹینڈ پر روزنامہ نواے وقت کا ضمیمہ آواز لگا کر فروخت کیا جا رہا تھا بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔ قارئیں کیلئے ڈاکٹر مبشر حسن کے امریکی سفیر سے کہا گیا یہ باریک جملہ’’بھٹو مقبول لیڈر ہے اسے مارو نہیںممکن ہے بھٹو مریکہ کے دوبارہ کام آجاے‘‘ اہم ہوگا۔ میرے نزدیک ڈاکٹر مبشر حسن کے اس جملے کا پس منظر اس طرح ہے کہ بنگلہ دیش کے قیام کے بعد جب صدرجنرل یحیٰ خان اور اس کے ساتھ وابستہ دائیں بازو کی ٹیم مغربی پاکستان میں نہ صرف حکمرانی جاری رکھنے کی صلاحیت کھو بیٹھی تھی بلکہ خطرہ پیدہ ہوگیا تھاغضب میں آئے ہوےعوام کے ہاتھوں حکمران کلاس ہلاک ہو جاےگی جبکہ سویت یونین کی یلغار سے جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کی امریکہ نواز حکومتوں کو بچانے کیلئے مغربی پاکستان کو بطور پاکستان قائم رکھنا امریکہ کی سٹریٹجیکل ضرورت تھا ۔ بھٹو نے پاکستان کو بچانے کی ذمہ داری قبول کی۔جب بھٹو کو پھانسی دی گی تو اندرا گاندھی کا یہ اظہار خیال سامنے آیا تھاکہ جس بھٹو نے پاکستان کے اداروں کو بحال کیا ان اداروں کو چلانے والا ہی اسےکھاگیا۔قارئین کرام تاریخ نے سوشلسٹ انقلاب، افغانستان اورخمینی انقلاب ایران کے ذریعے پاکستان کو ترقی کا شاندار موقع دیا تھا جسے کارگر بنانے کیلئے شہیدذوالفقار علی بھٹو جیسے مقبول اور ذہین لیڈر کی ضرورت تھی کاش بھٹو کو مارا نہ جاتا اور اسے عوام کی مرضی کے مطابق اقتدار میں آنے دیا جاتا تو بھٹو سوشلسٹ انقلاب افغانستان کو بطور تھریٹ استعمال کرکے پاکستان کو خطے کو لوٹنے والی قوت کے ذریعے ہی مغربی جرمنی اور جنوبی کوریا کی طرح ڈویلپ کرا چکا ہوتا مسلم ممالک امریکی کنٹرول سے آزاد ہوچکے ہوتے اور غیر وابستہ ممالک کی طرح او آئی سی کی تنظیم اپنا وقار قائم کر چکی ہوتی۔ پاکستان عوامی چین کی طرح ترقی یافتہ ملک ہوتا۔

تازہ ترین