دریائے سندھ سے 6 کینالز نکالنے کے منصوبے کے خلاف سندھ کے مختلف شہروں میں آج بھی احتجاج کیا گیا۔ خیر پور میں جی ڈی اے اور سندھ یونائیٹڈ پارٹی نے احتجاج کیا، دادومیں ماہی گیر، خواتین جبکہ سکھر میں سول سوسائٹی نے احتجاج کیا۔
نوشہرو فیروز، سجاول سمیت دیگر شہروں میں بھی احتجاج کیا گیا۔ خیرپور کے علاقے گمبٹ میں دریائے سندھ سے کینالز نکالنے کے خلاف جی ڈی اے اور سندھ یو نائیٹڈ پارٹی نے احتجاج کیا، جس میں زین شاہ، معظم علی عباسی، حلیم عادل شیخ، پیر سید اسماعیل شاہ اور دیگر شریک ہوئے۔
اس موقع پر مقررین کا کہنا تھا کہ کینالز نکالنے سے کراچی اور حیدرآباد سمیت سندھ بھر میں پانی کا بحران ہوگا۔
کینالز نکالنے کےمنصوبےکے خلاف سول سوسائٹی نے دریائے سندھ کے بیچ میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ احتجاج میں شہریوں نے شرکت کی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ دریائے سندھ میں مٹی اڑ رہی ہے اور وفاق نہریں بنانے پر بضد ہے۔
دادو کی تحصیل میہڑ میں ملاح فورم اور دیگر تنظیموں نے احتجاجی ریلی نکالی۔ خیرپور میں باشعور خواتین فورم نے پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی۔
مقررین کا کہنا تھا کہ کینالز منصوبے سے کراچی سمیت پورے صوبے کے عوام کو پینے کا پانی بھی نہیں ملے گا۔ نوشہرو فیروز اور مورو میں جرنلسٹ ورکر فورم کی جانب سے احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ وفاق کی سندھ کو بنجر بنانے کی کوشش ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔
سجاول میں بھی 6 کینالز کے خلاف ریلی نکالی گئی۔ ریلی میں مختلف سیاسی وسماجی تنظیموں نے شرکت کی اور منصوبے کی شدید مذمت کی گئی۔