• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نئی کہانی، نیا فسانہ: تیز بارش میں ہونے والا واقعہ (پہلی قسط)

مدوّن و مرتب: عرفان جاوید

(محمّد عاصم بٹ)

محمد عاصم بٹ، ممتاز و موقر ادیب، ناول نگار، افسانہ نویس، مترجّم اور دانش وَر، لاہور میں پیدایش، گورنمنٹ کالج لاہور سے فلسفے میں تعلیم، حرف و خیال سے منسلک ابتدائی ملازمتوں کے بعد اسلام آباد نقل مکانی، البتہ لاہور اِن کے اندر، باہر ساتھ ساتھ رہا۔

فلسفہ و نفسیات کی جانب خاص رغبت رکھنے والے، وقت کے اسرارمیں گُم، خواب وخیال کی دھندلی سرحدوں پر سرگرداں محمد عاصم بٹ کا شمار آیندہ زمانوں میں بھی دورِجدید کے رجحان ساز اوریگانۂ روزگار ادیبوں میں ہوگا۔ 

اپنے زمانے سے دو گام آگے چلنے والے اِس خُود مگن درویش، فلسفی، ادیب نے اُردو ادب کو ’’دائرہ‘‘ جیسا بڑا ناول تحفہ کیا۔ درجنوں کتب کے مترجم، چار ناولوں اور کہانیوں کے دو مجموعوں کے خالق کے قلب و قلم کے قریب وقت کی بوالعجبیاں، شعور و لاشعور کے تال میل کا طلسم، محبت، اکلاپا، فرار اور بارہ دروازوں اور ایک موری کے اندراندر آباد شہرِ بے مثال، شہرِ لاہورٹھہرے۔

’’تیز بارش میں ہونے والا واقعہ‘‘ ایک تحیّر انگیز کہانی ہے، ایک پروفیسر کی کہانی، جسے بارش سے بچنے کے لیے پیپل، شیشم، مولسری اور سفیدے کے درختوں اور ڈیلیا کے پھولوں کی بیل میں گِھری ایک کوٹھی میں پناہ لینی پڑگئی تھی اور راج دَور کے قدیم، پُراسرار بنگلوں کی یاد دلاتی اِس کوٹھی میں مُحیّرالعقول واقعات اُس کے منتظر تھے۔

چار بجنے میں سات منٹ باقی تھے، جب وہ گھر سے نکلا۔ آسمان دھویں جیسے سیاہ بادلوں سے ڈھک چُکا تھا اور ہلکی ہلکی بوندا باندی ہونے لگی تھی۔ ’’نیا بازار‘‘ سے ہوتا ہوا وہ میکلورڈ روڈ پہنچا۔ ایئرپورٹ جانے کے لیے اُس نے ایک ٹیکسی والے سے کچھ جھک جھک کے بعد پانچ سو پچاس روپے کرایہ طے کیا۔

پچاس روپے ٹیکسی والے نے بارش کی ہنگامی صورتِ حال کےپیشِ نظراضافی مانگے تھے۔ ٹیکسی بانسوں والے بازار سے ہوکر ابھی مال روڈ پر ہی پہنچی تھی کہ بےضرر سی بوندا باندی تیز بوچھاڑ میں بدل گئی، جسے تیز ہوا کے جھونکے اِدھر اُدھر اُڑا رہے تھے، جیسے شرارتی بچّے کے ہاتھ پانی کا پائپ آجائے اور وہ اُسے گھما گھما کر دوسروں کو بھگوئے۔ 

سڑکیں چھوٹے چھوٹے جوہڑوں کی صُورت اختیار کرگئی تھیں، جن میں ٹیکسی کے پہیے ڈوبے جاتے تھے۔ اُس نے کھڑکیوں کے شیشے اوپر نہیں چڑھائے، حالاں کہ سڑک پر جمع ہونے والا بارش کا پانی دونوں اطراف سے ٹیکسی کے پہیوں کے زور سے پانی کے چھینٹوں کی صُورت اندر اُس کے لباس، پتلون پر گر رہا تھا۔ گھر سے چلتے ہوئے اُس نے ایک بڑی چھتری احتیاطاً ساتھ لے لی تھی۔ تب اُسے لگا تھا کہ وہ ایک اضافی بوجھ اُٹھا رہا تھا۔ لیکن اب وہ مطمئن تھا کہ اس نے غلط فیصلہ نہیں کیاتھا۔ یہ ایک لمبے سفر کا بہرطور ایک اچھا آغاز نہیں تھا۔

اُس کا نام پروفیسر حمید ناصر تھا۔ وہ ایک دُور افتادہ مقام، شکارپور میں ایک انٹرکالج میں ریاضی پڑھاتا تھا۔ اِسی موضوع پر کبھی کبھار مضامین بھی لکھا کرتا تھا۔ اُس کا اپنا تعلق ایک زراعت پیشہ خاندان سے تھا۔ اُس کا باپ ایک معمولی مزارعے کے طور پر فوت ہوا تھا اور تمام عُمر ایک کسان کی حیثیت سے اپنے مالک کی زمین پر کھیتی باڑی کرنے میں بسر کی تھی۔ بچپن کا زمانہ اُس نے کھیتوں میں کھیلتے کودتے اور بیج چھانٹتے یا فصل کی کٹائی اور بوائی کے کاموں میں اپنے باپ کا ہاتھ بٹاتے صرف کیا تھا۔ 

زراعت کے موضوع پر مضامین لکھنے کا نتیجہ تھا کہ زرعی ماہرین کے حلقے میں وہ تھوڑے ہی عرصے میں ایک جانا پہچانا نام بن گیا تھا اور زراعت پر لکھنے والوں کی برادری میں ایک باحیثیت مقام بنا لیا تھا۔ نیشنل ایگری کلچرل فیڈریشن کی جانب سے اُسے بیرونِ مُلک، کلکتہ میں منعقد ہونے والی ایک عالمی کانفرنس میں شرکت کا دعوت نامہ اور ہوائی جہاز کا ریٹرن ٹکٹ موصول ہوا تھا۔ 

کانفرنس میں بین الاقوامی شہرت کے حامل ماہرینِ زراعت شرکت کر رہے تھے۔ اُس نے سیم و تھور کی روک تھام کے موضوع پر شب و روز کی محنت اور دقت نظری سے مقالہ تیار کیا اور اب اُسے ایک چرمی تھیلے میں ڈالے دونوں کہنیوں کے نیچے گود میں رکھے بیٹھا تھا۔

سڑک پر جو شہر سے دُور ایک ان جان علاقے میں واقع تھی، ایک جگہ ٹیکسی کے انجن نے معاً چند پھسپھسی آوازیں نکالیں اور کام کرنا چھوڑ بیٹھا۔ کچھ دُور تک تو ٹیکسی انجن بند ہو جانے کے باوجود تیز بارش میں بھیگے راستے پر اپنے زور میں آگے بڑھتی گئی، ڈرائیور نے بریک نہیں لگائے اور انتظار کیا کہ ٹیکسی خُود ہی کہیں رُک جائے۔ 

فٹ پاتھ کے برابر ایک مقام پر جہاں سڑک پر جمع ہونے والے پانی کی مقدار کم تھی، اُس نے ٹیکسی روک لی۔ پھر کچھ دیر بونٹ کا ڈھکن کھول کر انجن میں مختلف پُرزوں اور تاروں کو چھیڑنے اور انجن کا معائنہ کرنے کے بعد اُس نے اعلان کیا کہ کہیں وائرنگ شاٹ ہوگئی ہے۔ اِسے کوئی میکینک یاالیکٹریشن ہی درست کرے تو کرے، اُس کے بس سے باہر ہے۔ 

جب کہ اس علاقے میں آس پاس کسی میکینک کا فوری طورپر ملنا محال تھا۔ اُس نے اُس سے طے شدہ کرائے کی آدھی رقم کا مطالبہ کیا، جو اس نے بے چون و چرا ادا کردی۔ کچھ دیر تو وہ خالی ذہن کے ساتھ ٹیکسی ہی میں بیٹھا رہا۔ جب کہ اگلی سیٹ پر ڈرائیور اپنی نشست پر قریب قریب نیم دراز ہوگیا تھا اور سگریٹ پھونک رہا تھا۔ اُسے کہیں بھی پہنچنے کی جلدی نہیں تھی۔ بارش جب تک تھم نہیں جاتی، وہ یہیں بیٹھا انتظار کرے گا۔

آخر وہ ٹیکسی سے نیچے اُتر آیا اور چھاتا کھول کر سر پر پھیلا لیا۔ پھر تیزی سے چلتا ہوا، فٹ پاتھ پر پھیلی ہوئی شاخوں والے پیپل کے چوڑے درخت کے نیچے کھڑا ہوگیا۔ اگرچہ شاخیں گھنی تھیں، لیکن شاخوں سے چھن چھن کر بارش کے قطرے اُس پر گر رہے تھے اور اُس کے پیروں کے پاس بھی پانی کا ننّھا جوہڑ ترتیب پا گیا تھا۔ اُس نے آس پاس کا جائزہ لیا۔

یہ ایک خاموش اور ویران ذیلی سڑک تھی۔ مین روڈ سے دُور اِس سڑک پر ڈرائیور شاید شارٹ کٹ کے چکر میں آیا ہوگا۔ اُس نے ایک بار پھر بغور اس علاقے کا جائزہ لیا، جو بارش کی بوچھاڑ کے عقب میں کہیں زیادہ تنہا، ویران اور اداس معلوم ہو رہا تھا۔ سڑک کے اطراف میں دو رویہ پیپل، شیشم، مولسری اور سفیدے کے درختوں کی قطاریں تھیں، جن کے عقب میں وسیع و عریض خُوب صُورت بنگلے اور کوٹھیاں وقار سے سر جُھکائے بارش میں نہا رہی تھیں۔ 

کچھ اِس لیے کہ بارش بہت تیز تھی اور اِس لیے بھی کہ یہ شارعِ عام نہیں تھی، وہاں ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھی۔ کبھی کبھار کوئی کار فراٹے بھرتی اور پانی کے چھینٹے اڑاتی گزر جاتی۔ اُس نے ہاتھ کے اشارے سے دو ایک بار لفٹ لینے کی کوشش کی، لیکن معلوم ہوتا تھا کہ کاروں میں بیٹھے ہوؤں کو وہ سِرے سے دکھائی ہی نہیں دیتا تھا۔ 

پندرہ بیس منٹ کے دوران فقط تین کاریں وہاں سے گزریں۔ کسی ایک نے بھی اُس کے ہاتھ کے اشارے کا جواب نہیں دیا۔ اُس نے کلائی پر بندھی گھڑی کے شیشے سے نمی پونچھ کر وقت دیکھا۔ پونے پانچ ہوئے تھے۔ فلائٹ کا وقت ساڑھے سات بجے کا تھا۔ اُس کا چھ بجے تک ائیر پورٹ پہنچنا ضروری تھا۔

اُس نے چرمی تھیلے کو بغل میں دابا اور سر جُھکا کر ایک طرف کوٹھیوں کے سلسلے کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔ فٹ پاتھ پر جگہ جگہ بننے والے پانی کے جوہڑوں میں سے گزرتے ہوئے اُس نے احتیاط برتی، لیکن جب جرابیں اندر تک بھیگ گئیں، تو پھر وہ بےتکلفانہ پیر چلانے لگا۔ یہ بظاہر قطعی بے آباد کوٹھیاں خُوب سجی سنوری ہوئی تھیں۔ اُس نے عینک کے شیشے رومال سے پونچھے۔ پھر عینک پہنی تو شیشے پہلے سے زیادہ دھندلے معلوم ہوئے۔ 

تب ہی ایک دَم سے بارش نے جیسے اِن کوٹھیوں کے مزاج کی مناسبت سے چُپ سادھ لی۔ حتیٰ کہ فٹ پاتھ پرپانی کے قطرے گرنے کا شور بھی سنائی نہیں دیتا تھا۔ اُس نے پتلون کے پائنچے اوپر اٹھانےکی بابت سوچا، لیکن یہ احتیاط اسے اب غیرضروری معلوم ہوئی۔ جوتے، جرابیں اور گھٹنوں سے اوپر تک پتلون سب بھیگ چُکے تھے۔ اُس کی بغل میں دبے چرمی بیگ میں موجود اُس کا مضمون البتہ محفوظ تھا۔ لیکن مضمون کی اُسے کچھ زیادہ فکر نہیں تھی کہ اُس کی سافٹ کاپی اُس کی ای میل کے اِن باکس میں بھی محفوظ تھی۔ 

اُس نے اپنے تخیّل میں وقت کی نینو سیکنڈز کی سوئیوں کو غیر معمولی رفتار سے حرکت کرتے تصور کیا۔ یہ حرکت اتنی تیز تھی کہ سوئیاں دکھائی نہیں دیتی تھیں۔ صرف ایک ہیولا سا دائرے کی صُورت میں باقی تھا۔ بارش کے برسنے کا شور مختلف جگہ ایک سا نہیں تھا۔ کہیں یہ اچانک خاموش ہو جاتا۔

کہیں لوہے کی باریک چادر پر پانی کی بوچھاڑ جلترنگ بجا رہی تھی۔ فٹ پاتھ پر جمع ہو جانے والا پانی اُس کے جوتوں اور جرابوں میں گھس کر اُس کے تلووں میں گدگدی کر رہا تھا۔ یہ جوتے اُس نے خاص اِس کانفرنس میں شرکت کے لیے خریدے تھے۔ اُن کی یہ درگت دیکھ کر اُس کا دل غم سے بھنچ گیا۔

فٹ پاتھ اچانک ختم ہوگیا اور اُس نے دیکھا، اُس کے بائیں جانب ایک مختصر، مگر چوڑی گلی تھی، جو آگے جا کر بند ہوجاتی تھی۔ وہ بند گلی میں چند قدموں کے فاصلے پر قریباً ایک کنال یا اس سے زیادہ رقبے پرپھیلے ایک ویران گھر کے سامنے رُک گیا۔ اس کےصدر دروازے کے اطراف میں سُرخ اور زرد پھولوں والی ڈیلیا کی بیل لپٹی ہوئی تھی، جو ہمیشہ سے اُسے بہت مرغوب تھی۔ 

اُس نے پستہ قد دروازے سے آگے نگاہ دوڑائی۔ بارش نے اُس کی آنکھوں کے آگے باریک پردہ تان دیا تھا۔ اُس نے عینک اتار لی۔ آنکھوں پر ہاتھ پھیرا، پھر سے عینک پہنی اور دیکھا۔ دروازے سے رہائشی عمارت تک خاصا رقبہ لمبی گھاس سے ڈھکا ہوا تھا۔ اطراف میں درخت تھے اورپھولوں کی کیاریاں۔ عین وسط میں اینٹوں کا غیر پختہ چند فٹ چوڑا راستہ تھا، جو تیس چالیس قدموں کے فاصلے پر ایک رہائشی عمارت سے جا ملتا تھا۔

اُس نے کال بیل کا بٹن دبایا، جو اُس کے دائیں طرف دروازے کے برابر دیوار پر لگا تھا۔ کہیں کوئی نیم پلیٹ نہیں تھی۔ بارش کے شور میں اُسے گھنٹی بجنے کی آواز سنائی نہیں دی۔ رہائشی عمارت میں ایک کمرے کی کھڑکی کے کُھلے پٹ میں سے بجلی کے قمقمے کی روشنی چھن کر باہر آرہی تھی۔ باقی ہر طرف گہری خاموشی تھی۔ بس ایک ہی چیز زندہ، پُرشور اور بھرپور تھی…بارش۔

کافی دیر انتظار کے بعد جب اُسے اندر کسی قسم کی حرکت کے آثار دکھائی نہیں دئیے، تو اُس نے دوبارہ بٹن دبایا اور دیوار کے سائے میں ہو کر کھڑا ہوگیا، جہاں بارش میں دُھلی ہوئی ڈیلیا کی بیلیں باہر جھول رہی تھیں۔ اِس بار بھی اُسے کوئی جواب نہیں ملا۔ اُس نے تیسری مرتبہ بٹن دبایا۔ مزید کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد، یہ یقین کر لینے پر کہ گھنٹی خراب ہے، اُس نے چوبی دروازے کو، جو خستہ حال تھا اور تیز بارش میں ایک بےکار پڑی ہوئی شے کی مانند دکھائی دے رہا تھا، ہاتھ سے معمولی سا دھکیلا۔ 

وہ کم زور چُولوں کے شور کے ساتھ، جو بارش کے تیز شور میں دب گیا تھا، اندر سرکتا چلا گیا۔ رہائشی عمارت کا دروازہ بند تھا۔ ایک طرف دیوار میں کھڑکی کے کانچ کی چادر والے پٹ سے اندر کا منظر صاف دکھائی دیتا تھا۔ یہ دیوان خانہ تھا۔ بڑے جہازی صوفوں سے پرے آتش دان کے قریب ایک آرام کرسی پر ساٹھ پینسٹھ برس کی عورت فروکش تھی۔ اُس کا دایاں رُخ دروازے کی جانب تھا۔ اسُ کے سر کے بال دودھ کے سے سفید تھے، جن میں سے ایک لٹ اُس کی کنپٹی پر جھول رہی تھی۔ اُس نے دائیں ہاتھ کی درمیانی انگلیوں کے جوڑوں کی ضرب کانچ کی چادر پر لگائی۔ عورت نے گردن پھیر کر اُسے دیکھا۔ 

کچھ دیر بےدھیانی سے اُسےمسلسل دیکھا کی۔ پھر قریب دھری تپائی سے چشمہ اُٹھایا اور آنکھوں پر چڑھا لیا۔ کچھ دیر مزید دیکھنے کے بعد ہاتھ کے اشارے سے اُسے اندر آنے کو کہا۔ رہائشی عمارت کا دروازہ مقفل نہیں تھا۔ وہ معمولی سا دھکا دینے پر اندرسرک گیا۔ جوتے اور جرابیں اُس نے دہلیز ہی پراتاردیں۔ اپنا چھاتا اور چرمی بیگ بھی وہیں ایک طرف پڑی تپائی پر رکھ دیا۔ سلام کرنے کے بعد وہ بلاتکلف بُڑھیا کے سامنے پڑی آرام کرسی پر بیٹھ گیا۔ یہ بہت نرم اور تسکین بخش نشست تھی۔ کمرے میں آتش دان کی حدّت نے فضا کو خوش گوار اور خواب آور بنا دیا تھا۔

اِس سے پیش تر کہ عورت اُس سے کوئی سوال کرتی، اُس نے اپنے بٹوے میں سے، جس کی سطح نم آلود ہوچُکی تھی، لیکن اندر روپے اور دیگر کاغذات خشک تھے، اپنا کارڈ نکال کرعورت کودیا۔ عورت نے پھرسےعینک پہنی، کچھ دیرکارڈ کودھیان سے پڑھا، اور پھر عینک اتار کر واپس تپائی پر رکھ دی۔ کارڈ اُسے لوٹا دیا۔ اس دوران وہ اُسے اپنی کانفرنس، فلائیٹ اور رکشے اور بارش کےاجزاء پرمشتمل کہانی تفصیل کےساتھ بیان کرتا رہا، عورت سر پیچھے گرا کر آہستہ آہستہ اپنے ہاتھوں کو ملتی رہی۔ اپنی غرض بیان کر دینے کے بعد وہ خاموش ہوگیا۔ 

اُسے وقت پر ایئرپورٹ پہنچنے کے لیے لفٹ کی ضرورت تھی۔ بوڑھی عورت اپنی آنکھیں بند کیے ہوئے تھی۔ تاہم، مسلسل اپنے ہاتھ مل رہی تھی۔ دیر تک کمرے میں خاموشی طاری رہی۔ اُسے لگا، اُس نے خوامخواہ بڑھیا کے آرام میں خلل ڈالا تھا۔ اُس کے چہرے پر کھنڈی زردی بتاتی تھی کہ وہ بہت تھکی ہوئی اور کسی دائمی عارضے میں مبتلا ہے۔ اُس نے دیکھا، عورت گہرے گہرے سانس لے رہی تھی اور ہر بار جب وہ زور لگا کر سانس کھینچتی تو اُس کی چھاتی سے سیٹی کی آواز نکلتی۔ 

وہ ضرور دمے کی مریضہ تھی۔ جب ہی وہ کھانسنے لگی اور بار بار دہری ہو جاتی۔ پھر وہ جُھکی اور کچھ دیر سجدے کی سی حالت میں رہنے کے بعد تیر کی طرح سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔ وہ خُود ہی بتانے لگی کہ اُس کا بیٹا اپنی گاڑی میں اُس کے لیے دوائیں لینے گیا ہوا ہے، واپس آنے پر اُسے ایئرپورٹ چھوڑ دے گا۔ آج اُس کی طبیعت زیادہ خراب ہے۔ موسم نم آلود ہو تو اُس پر بیماری کا حملہ ہوتا ہے۔ 

ساتھ ساتھ وہ جیسے اپنی بات کے ثبوت کے طور پر کھانستی بھی جاتی تھی۔ پھر وہ بتانے لگی کہ اُس کے بیٹے کا نام ریاض احمد ہے اور وہ ایک مقامی کالج میں معاشیات کے مضمون کا لیکچرار ہے۔ اِن دنوں اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے کی تیاری میں بری طرح مصروف ہے، اِسی لیے وہ دوائیں خریدنے کو ٹالتا رہا، حتیٰ کہ دواؤں کا اسٹاک ختم ہوگیا، اب ایمرجینسی میں اُسے بازار جانا پڑا ہے۔ جانے کہاں خوار ہورہا ہوگا۔ بارش بھی تو بہت برسی ہے۔

اُس کےبعد کچھ دیر وہ موسم کے متعلق باتیں کرتے رہے، جو غیرمتوقع طو پرشدید ہوگیا تھا۔ عورت کا خیال تھا کہ یہ جمعرات کی جھڑی ہے اور پورا ہفتہ جاری رہے گی۔ عورت نے اُس کے گھربار سے متعلق پوچھا۔ وہ اختصار کے ساتھ اپنے بارے میں بتاتا رہا تو عورت خاموشی سے اُسے سننے لگی۔ وہ اپنی ٹانگیں پھیلا کر بیٹھ گیا تھا اور اُسےعورت سے گفتگو میں لُطف آنے لگا تھا۔ 

وقفے وقفے سے بادل کی گرج کمرے میں گونجتی اور آتش دان میں جلتی لکڑیاں کڑکڑاتی تھیں۔ کھڑکی سے باہر شام کی سی نیم تاریکی چھا گئی تھی۔ لگتا تھا، موسم دیر تک ایسا ہی رہے گا۔ تاہم، وہ مطمئن تھا۔ اُسے ایئرپورٹ تک جانے کے لیے سواری ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں رہی تھی۔

طبیعت کے مزید خراب ہوجانے سے کچھ دیرپہلے عورت یک سر خاموش ہو کر آتش دان کو تکنے لگی تھی۔ وہ کوئی بات کرتے کرتے ٹھٹھک گیا۔ اُسے عورت کا چہرہ تنے ہوئے اعصاب کے ساتھ متغّیر معلوم ہوا۔ تب ہی وہ منہ پر ہاتھ رکھے ہولے ہولے کھانسنے لگی اور سینے پر ہاتھ جمائے دہری ہوگئی۔ وقفے وقفے سے وہ چہرے کو اوپر اُٹھاتی تو وہ خون کی طرح سُرخ ہوتا۔ اُس کی سانس کی نالی جیسے اندر کہیں بند ہوگئی تھی اور اُس سے سانس کھینچا نہیں جارہا تھا۔ (جاری ہے)