معروف یوٹیوبر سعد الرحمان عرف ڈکی بھائی کے جسمانی ریمانڈ میں مزید چار روز کی توسیع کر دی گئی۔
ڈکی بھائی کو ضلع کچہری لاہور کے جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو کی عدالت میں پیش کیا گیا۔
حکومت کے وکیل نے بتایا کہ ابھی مزید تحقیقات جاری ہیں، 5 روز کے ریمانڈ میں کافی نام سامنے آئے ہیں، آئندہ تاریخ پر تمام تفصیلات عدالت کو پیش کردی جائیں گی، اسی لیے ان کے ریمانڈ میں مزید توسیع کی درخواست کی ہے تاہم یوٹیوبر کے وکیل چوہدری عثمان علی نے اس توسیع کی مخالفت کی۔
عدالت نے قومی سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کی درخواست منظور کرتے ہوئے ملزم کے جسمانی ریمانڈ کو ایک ستمبر تک منظور کرلیا۔
تحقیقات کے مطابق ڈکی بھائی سمیت متعدد سوشل میڈیا انفلوئنسرز پر الزام ہے کہ انہوں نے آن لائن جوا کھیلنے والے پلیٹ فارمز کی تشہیر مالی مفاد کے لیے کی، ان ایپس کے ذریعے عوام کو بڑے پیمانے پر مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
ڈکی بھائی کے اکاؤنٹ سے ایسی 27 ویڈیو لنکس اکٹھی کی گئی ہیں جن میں ان پلیٹ فارمز کی پروموشن کی گئی تھی، تاہم ان میں سے کئی ویڈیوز بعد ازاں حذف کر دی گئیں۔
ایف آئی آر کے مطابق یوٹیوبر کو الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کی متعدد دفعات کے تحت نامزد کیا گیا ہے جس میں دفعہ 13 (الیکٹرانک جعل سازی)، دفعہ 14 (الیکٹرانک فراڈ)، دفعہ 25 (اسپیم) اور دفعہ 26 (اسپوفنگ) شامل ہیں، اس کے علاوہ ان پر تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 294 بی اور 420 کے تحت بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ ڈکی بھائی کو 16 اگست کو لاہور ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا، ان کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ لیا گیا جسے بعد میں چار دن اور پھر پانچ دن کے لیے بڑھایا گیا، یوٹیوبر مزید چار روز تک حکام کی تحویل میں رہیں گے۔