لگتا ہے ہماری قسمت میں پریشانیاں ہی پریشانیاں ہیں اور ہم بحیثیت قوم زیادہ دیرتک خوش نہیں رہ سکتے ۔ 10مئی 2025ءکو ہندوستان کیساتھ ہونیوالی مختصر سی جنگ میں پاکستان کی فتح اور عالمی طاقتوں کی پاکستان کی خارجہ پالیسی کی حمایت نے برسوں بعد قوم کو ایک خوشی کا موقع فراہم کیا تھا۔ اور ہمیں احساس دلایا تھا کہ خطّے اور دنیا کی سیاست میں آج بھی ہمارا کردار نہایت اہم ہے۔ لیکن یہ خوشی بھی زیادہ دیر تک قائم نہ رہی اور موسمی تبدیلیوں نے خوفناک بارشوں اور بپھر ے ہوئے سیلاب کی شکل میں ملک کے شمالی علاقہ جات اور پنجاب کےبیشتر علاقوں میں وسیع تباہی پھیلا دی ہے جس سے پوری قوم ایک مرتبہ پھر غم زدہ ہو گئی ہے۔ سیلاب نے بستیوں کی بستیاں اجاڑ کر رکھ دی ہیں۔ کئی علاقے ہمیشہ کیلئے ویران ہوگئے ہیں اور پہلے سے غربت ، افلاس کا شکار لاکھوں عوام اپنے گھر بار کھوبیٹھے ہیں۔ابھی ہم 2022ءکے سیلاب کی تباہ کاریوں سے سنبھلے نہیں تھے کہ اس تازہ آفت نے ہمیں آگھیرا ہے۔ ’’ مریں کو مارے شاہ مدار‘‘ کے مصداق پاکستان کبھی انسانی اور کبھی قدرتی آفات کے ہاتھوں ایک قدم آگے بڑھنے کے بعد دو قدم پیچھے چلا جاتا ہے۔ کچھ سمجھ نہیں آتا کہ ان سب مسائل کا حل کیا نکلے گا۔ بہت سے لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ پاکستان کا وجود تائید ِ ایزدی کے تحت مخصوص مقاصد کی تکمیل کیلئے عمل میں آیا ہے۔ اگر یہ مفروضہ مان بھی لیا جائے تب بھی کوئی مخصوص کارنامہ سرانجام دینے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ پاکستان خود اتنا مستحکم اور طاقتور ہو کہ وہ کچھ اور کر سکے ۔ ہماری بے بسی کا تو یہ عالم ہے کہ 78سال گزر جانے کے باوجود ابھی تک ہم اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہماری معیشت علاقے میں دیگر ممالک کی نسبت سب سے نچلی سطح پر ہے وہ تو بھلا ہو شہید ذوالفقا ر علی بھٹو کا کہ جس نے اپنے مختصر سے دورِ حکومت میں پاکستان کیلئے دو ایسے اہم کارنامے سر انجام دئیے جن کی وجہ سے آج پاکستان اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہے۔ان میں سب سے بڑا کارنامہ ہندوستان کے ایٹمی پروگرام کے مقابلے میںپاکستان کے ایٹمی پروگرام کی ابتدا کرنا اور دوسرا عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ انتہائی برادرانہ تعلقات قائم کرنا ہے۔ ان کارناموں کی افادیت کا احساس حالیہ جنگ کے دوران پوری قوم کو ہو چکا ہے ۔ یہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام اور عوامی جمہوریہ چین کی آہنی دوستی کا ہی کمال تھا کہ پاکستان نے اپنے سے سات گنا بڑے اور فوجی لحاظ سے انتہائی طاقتور ملک کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا جو اپنی طاقت کے نشے میں پاکستان کو مٹا دینے پر تلا ہو اتھا۔ پاکستان کو دفاعی لحاظ سے نا قابلِ تسخیر بنانے میں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے کردارکو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جنہوں نے اپنے بابا کے شروع کئے ہوئے ایٹمی پروگرام کو مکمل طور پر ایکٹیو (Active)کرنے کیلئے کوریا اور دیگر ممالک سے میزائل ٹیکنالوجی حاصل کی۔ جس نے 200کلو میٹر کے فاصلے سے بھارتی طیاروں کو مار گرایا۔ کاش ملک میں ایسا سیاسی نظام ہوتا کہ حکومتیں ایک تسلسل کے ساتھ اپنی ٹرم پوری کرتیں تاکہ وہ اپنے شروع کئے ہوئے ترقیاتی کام پایہ ء تکمیل تک پہنچا دیتیں ۔ آپ ذرا تصّور کیجئے کہ سقوطِ مشرقی پاکستان کے بعد بقیہ پاکستان کی قومی زندگی میں اگر جنرل ضیاء اور جنرل پرویز مشرف کے ادوار نہ آتے تو پاکستان نہ تو افغان جنگ کا حصّہ بنتا اور نہ ہی خونیں انتہا پسندی کا۔ ان ادوار خصوصاََ جنرل ضیاء کے دور نے پاکستان کو ہر لحاظ سے تقسیم اور تباہ و برباد کیا۔ اگر ملک میں منتخب سیاسی حکومتیں ہوتیں اور انہیں کام کرنے دیا جاتا تو پالیسیوں کے تسلسل کے ذریعے پاکستان نجانے کہاں سے کہاں پہنچ جاتا، ہو سکتا ہے ابھی تک مسئلہ کشمیر پر بھی کوئی تصفیہ ہو چکا ہوتا کیونکہ یہ مسئلہ طاقت کے ذریعے نہیںبات چیت کے ذریعے حل ہو سکتا ہے۔ اور صرف زیرک منتخب حکمران ہی سیاسی ڈائیلاگ کے ذریعے پیچیدہ مسائل حل کر سکتے ہیں۔ جن کا مظاہرہ ہم نے 71ءکی جنگ کے بعد جون 1972 ءمیں ہونیوالے معاہدہ شملہ میں دیکھا۔ جب ایک زیرک سیاستدان ذوالفقار علی بھٹو نے انڈیا کی فتح کے بعد جبکہ اسکے پاس انڈیا کو دینے کیلئے کچھ بھی نہ تھا۔ اس سے نہ صرف مغربی پاکستان کا پانچ ہزار مربع میل کا علاقہ اور نوّے ہزار جنگی قیدی واپس لیے بلکہ مسئلہ کشمیر کو بھی زندہ رکھا۔ یہ بات طے ہے کہ انڈیا کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لائے بغیر پاکستان میں پائیدار ترقی کا خواب ممکن ہی نہیں کیونکہ دیگر سیاسی اختلافات کیساتھ ساتھ پاکستان کے سارے دریا انڈیا سے آتے ہیں۔ جنکے پانی کو انڈیا جب چاہتا ہے روک لیتا ہے اور جب چاہتا ہے اپنے سیلابوں کا رُخ ہماری طرف موڑ کر ہمارے کھیتوں اور بستیوں کو ڈبو دیتا ہے۔ اسلئے ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ جنہیں ہم قدرتی آفات کہتے ہیں ۔ وہ قدرتی نہیں ہوتیں انکے پیچھے بھی انسانوں کی غلطیاں ہوتی ہیں قدرت صرف اس کی سزا اپنے ردّ ِ عمل کے ذریعے دیتی ہے۔ اگر ہم اپنے مسائل کا کوئی حقیقی اور دیر پا حل ڈھونڈنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس سیاسی انتشار کو کسی با ضابطہ سیاسی نظام میں ڈھالنا ہوگا۔ ورنہ ہمارا حال یہی ہوگا کہ
کچھ تو جلا کے راکھ کیا گھر کو آگ نے
باقی بچا تھا جو اسے سیلاب لے گیا