خوراک میں بادام کا دودھ شامل کیا جائے تو اس کےصحت پر کئی مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
بادام کا دودھ وٹامن ای کے سے بھرپور ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس میں اینٹی آکسیڈینٹ خصوصیات ہوتی ہیں۔ ایک کپ بادام کا دودھ تقریباً 8.1 ملی گرام وٹامن ای فراہم کرتا ہے۔ وٹامن ای مدافعتی نظام، میٹابولک سرگرمیوں اور قلبی صحت کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔
وزن میں کمی کیلئے معاون
ایک کپ بادام کے دودھ میں صرف 37 کیلوریز ہوتی ہیں اس لیے یہ وزن کم کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے زیادہ کیلوریز والے دودھ کا بہترین متبادل ہو سکتا ہے۔
لیکٹوز کا بہترین متبادل
بادام کے دودھ میں لیکٹوز (گائے کے دودھ میں پایا جانے والا مٹھاس) نہیں ہوتی۔ اس لیے ایسے افراد جو لیکٹوز کو ہضم نہیں کر پاتے، ان کے لیے بادام کا دودھ بہترین انتخاب ہوسکتا ہے۔
ہڈیوں کو مضبوط بنانے میں معاون
بادام کا دودھ ہڈیوں کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری غذائی اجزاء جیسے کیلشیم اور وٹامن ڈی فراہم کرسکتا ہے، کیلشیم ہڈیوں کی کمزوری کو روکنے میں مدد کرتا ہے جبکہ وٹامن ڈی جسم کو کیلشیم کو مؤثر طریقے سے جذب کرنے میں مدد کرتا ہے۔ یہ دونوں غذائی اجزاء ایک ساتھ مل کر مضبوط اور صحت مند ہڈیوں کو برقرار رکھنے میں مدد کرتے ہیں۔
شوگر کو کنٹرول کرنے کیلئے بہترین
بادام کے دودھ میں میٹھا بہت کم ہوتا ہے، ایک کپ بادام کے دودھ میں صرف 1 گرام چینی ہوتی ہے، اس لیے یہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ایک بہترین انتخاب ہو سکتا ہے۔
آنکھوں کی صحت کیلئے معاون
بادام کے دودھ میں وٹامن اے وافر مقدار میں پایا جاتا ہے جو آنکھوں کی صحت کے لیے ضروری ہے۔ وٹامن اے نا صرف بینائی کو برقرار رکھنے میں بلکہ مدافعتی نظام کو بہتر بنانے میں بھی مدد کرسکتا ہے۔