• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چیا سیڈز ہر کسی کیلئے مفید نہیں: طبی ماہرین کی اہم وارننگ

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

چیا سیڈز (تخمِ داؤدی) کو انتہائی صحت بخش غذا سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز، فائبر، پروٹین، وٹامنز اور معدنیات بڑی مقدار میں موجود ہوتے ہیں، یہ ہاضمہ بہتر بنانے، جسم میں سوزش کم کرنے اور وزن قابو میں رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

ماہرینِ معدہ کے مطابق یہ بیج (چیا سیڈز) ہر شخص کے لیے موزوں نہیں، ایک طبی رپورٹ میں 5 ایسے افراد کو خبردار کیا گیا ہے جنہیں چیا سیڈز استعمال کرنے سے احتیاط کرنی چاہیے یا مکمل پرہیز کرنا چاہیے۔

کن افراد کو چیا سیڈز سے پرہیز کرنا چاہیے؟

ماہرین کے مطابق نگلنے میں مشکل محسوس کرنے یا غذائی نالی کی تنگی کے مریضوں کو اس کا استعمال احتیاط سے کرنا چاہیے۔

چیا سیڈز پانی میں بھگونے کے بعد کئی گنا پھول جاتے ہیں، خشک حالت میں کھانے سے بعض افراد میں ان کے غذائی نالی میں پھنسنے کا خطرہ ہو سکتا ہے، اس لیے انہیں ہمیشہ پہلے بھگو کر استعمال کرنا چاہیے۔

آئی بی ایس (آنتوں کے سینڈروم) کے مریض

چیا سیڈز میں فائبر کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے، اچانک زیادہ فائبر لینے سے آئی بی ایس کے مریضوں میں پیٹ پھولنا، گیس اور درد بڑھ سکتا ہے۔

خون پتلا کرنے والی ادویات لینے والے افراد

چیا سیڈز میں موجود اومیگا تھری (اے ایل اے) خون پتلا کرنے کی خصوصیت رکھتا ہے، اس لیے ایسے افراد کو زیادہ مقدار لینے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔

شدید ہاضمے کے مسائل کا شکار مریض

گیسٹرو پیریسس یا دیگر موٹیلٹی ڈس آرڈرز میں چیا سیڈز کا جیلی نما فائبر ہاضمے کو مزید مشکل بنا سکتا ہے۔

بیجوں سے الرجی رکھنے والے افراد

اگرچہ یہ بیماری نایاب ہے لیکن جن لوگوں کو بیجوں سے الرجی ہو انہیں چیا سیڈز سے بھی خطرہ ہو سکتا ہے۔

طبی ماہرین کا مشورہ

غذائی ماہرین کے مطابق زیادہ تر لوگوں کے لیے چیا سیڈز محفوظ بیج اور فائدہ مند ہیں لیکن انہیں صحیح طریقے اور مناسب مقدار میں استعمال کرنا ضروری ہے۔

چیا سیڈز استعمال کرنے کا درست طریقہ

پہلے ایک کھانے کے چمچ سے آغاز کریں، استعمال سے قبل بیجوں کو پانی، دہی یا اسموتھی میں ضرور بھگوئیں، آہستہ آہستہ مقدار بڑھا کر 2 کھانے کے چمچ تک کر لیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی کو صحت سے متعلق مسائل ہوں تو چیا سیڈز کو روزمرہ غذا میں شامل کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔


نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کیلئے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

صحت سے مزید