• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جلد، بال اور جوڑوں کی بہتری کیلئے کولیجن سپلیمنٹس لینا کتنا مفید ہے؟

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

حالیہ برسوں میں کولیجن سپلیمنٹس تیزی سے مقبول ہوئے ہیں اور اِنہیں خوبصورت جِلد، مضبوط بالوں اور صحت مند جوڑوں کے لیے مؤثر حل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اِن کے فوائد کے ساتھ کچھ ممکنہ خطرات بھی موجود ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

کولیجن ایک اہم پروٹین ہے جو انسانی جسم میں قدرتی طور پر بنتا ہے اور جِلد، ہڈیوں، پٹھوں، ٹینڈنز اور کارٹلیج کی ساخت برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ 

عمر بڑھنے کے ساتھ جسم میں کولیجن کی مقدار کم ہو جاتی ہے جس کے باعث جِلد پر جھریاں، جِلد کی لچک میں کمی اور جوڑوں میں سختی پیدا ہو سکتی ہے، اسی وجہ سے لوگ کولیجن سپلیمنٹس کا استعمال شروع کرتے ہیں۔

ہاضمے کے مسائل

تحقیقی جریدے ’نیوٹریئنٹس‘ میں شائع ہونے والے ایک مطالعے کے مطابق بعض افراد کولیجن سپلیمنٹس لینے کے بعد اپھارہ، معدے کی جلن یا متلی محسوس ہوتی ہے، یہ علامات عموماً ہلکی ہوتی ہیں مگر مسلسل استعمال میں پریشانی پیدا کر سکتی ہیں۔

الرجی کا خطرہ

زیادہ تر کولیجن مچھلی، چکن یا دیگر حیوانی ذرائع سے حاصل کیا جاتا ہے، سمندری غذا سے الرجی رکھنے والے افراد میں خارش، جلدی ردِعمل یا گلے میں تکلیف جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں، اس لیے احتیاط ضروری ہے۔

بھاری دھاتوں کی ممکنہ آمیزش

بین الاقوامی جریدے ’اوپن میڈیسن‘ کی تحقیق کے مطابق ناقص معیار کے سپلیمنٹس میں بعض اوقات بھاری دھاتوں کے معمولی ذرات پائے جا سکتے ہیں، ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ سپلیمنٹس کے استعمال کے لیے صرف مستند اور معیاری برانڈز کا انتخاب ہی کیا جائے۔

زیادہ پروٹین کا عدم توازن

کولیجن سپلیمنٹ اضافی پروٹین فراہم کرتا ہے، گردوں کے مریض یا پہلے ہی زیادہ پروٹین لینے والے افراد کے لیے یہ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے اور جسم پر اضافی دباؤ ڈال سکتا ہے۔

سائنسی شواہد محدود

اگرچہ کچھ مطالعات کولیجن کے استعمال سے جِلد کی نمی اور جوڑوں کے درد میں معمولی بہتری ظاہر کرتے ہیں لیکن ماہرین کے مطابق کولیجن بڑھاپے کا کوئی جادوئی حل نہیں ہے، متوازن غذا، مناسب نیند، دھوپ سے حفاظت اور ورزش ہی زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے۔۔

قدرتی غذائیں بہترین آپشنز ہیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ وٹامن سی سے بھرپور غذائیں جیسے ترش پھل، بیریز اور شملہ مرچ کولیجن بنانے میں مدد دیتی ہیں، انڈے، مچھلی اور دالیں جسم کو ضروری امائنو ایسڈ فراہم کرتی ہیں۔ 

تمباکو نوشی سے پرہیز اور سورج کی تیز شعاعوں سے حفاظت بھی جِلد کو صحت مند رکھتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کولیجن سپلیمنٹس کچھ افراد کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں مگر یہ ہر شخص کے لیے ضروری نہیں، استعمال سے پہلے ممکنہ خطرات کو سمجھنا اور طبی ماہر سے مشورہ کرنا بہتر ہے، اکثر صورتوں میں متوازن غذا اور صحت مند طرزِ زندگی قدرتی طور پر کولیجن کی پیداوار کو بہتر بنا سکتے ہیں۔


نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کیلئے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

صحت سے مزید