اگر آپ معمولی باتوں پر فوراً غصہ ہو جاتے ہیں تو یہ تحقیق آپ کے لیے اہم ہو سکتی ہے۔
حالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ نو عمری میں جارحانہ رویہ 30 سال کی عمر تک جلد بڑھاپے سے براہِ راست منسلک ہے۔
نئی تحقیق کے مطابق نو عمری میں جارحانہ رویہ رکھنے والے افراد میں 30 سال کی عمر تک حیاتیاتی عمر تیزی سے بڑھنے کے آثار پائے گئے ہیں۔
سائنسی جریدے ہیلتھ سائیکالوجی میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق غصے والے نوجوانوں میں 30 سال کی عمر تک وزن بڑھنے کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔
تحقیق کے لیے ماہرین نے امریکا کے شہری اور مضافاتی علاقوں سے تعلق رکھنے والے مڈل اسکول کے 121 طلبہ کا جائزہ لیا۔
سائنس دانوں نے 13 سال کی عمر سے لے کر بلوغت تک ان طلبہ کی نگرانی کی اور اس دوران جارحیت، مسائل اور تعلقات میں عدم توازن سے متعلق رپورٹس جمع کیں۔
جب یہ طلبہ 30 سال کی عمر کو پہنچے تو محققین نے خون کے ٹیسٹ کے ذریعے ان کی حیاتیاتی عمر کا تجزیہ کیا، اس عمل سے خلیوں اور بافتوں کے انحطاطی بڑھاپے کی نشاندہی ہوتی ہے جو بعض اوقات کسی فرد کی حقیقی عمر سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
محققین کے مطابق دونوں طریقوں سے یہ بات سامنے آئی کہ نوعمری کے ابتدائی برسوں میں جارحیت کی بلند سطح 30 سال کی عمر تک زیادہ حیاتیاتی بڑھاپے کی پیشگوئی کرتی ہے۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ لڑکوں اور کم آمدنی والے خاندانوں سے تعلق رکھنے والے بچوں میں بڑھاپے کی علامات نسبتاً زیادہ تھیں، جس کی ممکنہ وجہ مالی دباؤ اور تعلقات میں مشکلات ہو سکتی ہیں۔
محققین کے مطابق لڑکے عموماً اپنے والد کے ساتھ زیادہ تنازعات کا سامنا کرتے ہیں، جبکہ کم آمدنی والے خاندانوں کے نوجوان اپنے ہم عمر افراد کے خلاف زیادہ ردِعمل ظاہر کرتے ہیں، تاہم تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ ابتدائی جارحیت اس وقت تک بڑھاپے کا باعث نہیں بنتی جب تک وہ بعد کی زندگی میں تعلقات کے عدم توازن کا سبب نہ بن جائے۔
محققین کے مطابق اس تحقیق کے نتائج اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں کہ نوجوانوں کو مضبوط تعلقات قائم کرنے اور تنازعات کو بہتر طریقے سے حل کرنے کی مہارتیں سکھائی جائیں۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔