ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ پری ڈائبیٹیز یا ’ذیابطیس سے پہلے کی کیفیت‘ کی تشخیص بظاہر تشویش کا باعث بنتی ہے تاہم دراصل یہ ایک ایسا مرحلہ ہے جہاں بر وقت احتیاط اور طرزِ زندگی میں تبدیلی کے ذریعے ٹائپ ٹو ذیابیطس سے بچاؤ ممکن ہے۔
جب خون میں شوگر کی مقدار معمول سے زیادہ ہو مگر اتنی زیادہ نہ ہو کہ اسے مکمل ذیابیطس قرار دیا جائے تو اس حالت کو پری ڈائبیٹیز یا ذیابطیس سے پہلے کی کیفیت کہا جاتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق ٹائپ ٹو ذیابطیس اچانک نہیں ہوتی بلکہ کئی سال میں آہستہ آہستہ پیدا ہوتی ہے، اگر پری ڈائبیٹیز کے مرحلے پر توجہ نہ دی جائے تو یہ مستقبل میں دل، خون کی نالیوں اور گردوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
اکثر افراد میں پری ڈائبیٹیز کی واضح علامات نہیں ہوتیں تاہم بعض لوگوں میں یہ علامات ظاہر ہو سکتی ہیں جن میں زیادہ پیاس لگنا، بار بار پیشاب آنا، تھکن، نظر دھندلا ہونا اور گردن، بغل یا جسم کے دیگر حصوں پر سیاہ دھبوں کا آ جانا شامل ہے۔
ماہرین کے مطابق بہت سے لوگوں کو اس بیماری کا علم اس وقت ہوتا ہے جب پیچیدگیاں پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔
ڈاکٹروں کے مطابق پری ڈائبیٹیز خطرے کی گھنٹی ضرور ہے مگر یہ آخری مرحلہ نہیں ہے، بروقت اقدامات کے ذریعے ٹائپ ٹو ذیابیطس کے خطرے کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
اگر وزن زیادہ ہے تو جسمانی وزن کا صرف 5 سے 7 فیصد کم کرنا بھی ذیابطیس کے خطرے کو تقریباً 58 فیصد تک کم کر سکتا ہے۔
پھل، سبزیاں، دالیں، ثابت اناج، صحت مند چکنائی اور پروٹین کو خوراک کا حصہ بنائیں جبکہ چینی، میٹھے مشروبات اور پراسیسڈ فوڈ سے پرہیز کریں۔
ہفتے میں کم از کم 150 منٹ تیز چہل قدمی یا سائیکلنگ کریں اور ہفتے میں 2 دن طاقت بڑھانے والی ورزشیں بھی کریں۔
روزانہ 7 سے 9 گھنٹے کی پرسکون نیند ہارمونز کے توازن اور انسولین کی کارکردگی کو بہتر بناتی ہے۔
مسلسل ذہنی دباؤ خون میں شوگر بڑھا سکتا ہے اس لیے روزانہ چند منٹ مراقبہ، یوگا یا گہری سانس کی مشق کریں۔
سگریٹ نوشی انسولین ریزسٹنس کو بڑھاتی ہے اور دل کی بیماریوں کے خطرات میں اضافہ کرتی ہے۔
باقاعدگی سے شوگر چیک کرنے سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ خوراک اور طرزِ زندگی کا جسم پر کیا اثر پڑ رہا ہے۔
ڈاکٹر سے مسلسل رابطہ رکھنے سے صحت کی صورتِ حال پر نظر رکھی جا سکتی ہے اور بر وقت رہنمائی ملتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس بیماری کی چند بڑی وجوہات میں انسولین ریزسٹنس، موروثی عوامل، موٹاپا، جسمانی سرگرمی کی کمی، بڑھتی عمر اور ہارمونل مسائل شامل ہیں۔
ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ اگر بر وقت احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں تو پری ڈائبیٹیز کو ناصرف کنٹرول بلکہ کئی صورتوں میں مکمل طور پر ریورس بھی کیا جا سکتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کیلئے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔