پاکستان اور افغانستان کے درمیان کنفیڈریشن کا تصور تاریخ میں مختلف ادوار میں پیش ہوتا رہا ہے۔ اگرچہ یہ کبھی عملی شکل اختیار نہ کرسکا، مگر یہ خیال دراصل گہرے جغرافیائی، نسلی، معاشی اور سیکورٹی عوامل سے جڑا ہوا تھا۔یہ سمجھنا کہ یہ کنفیڈریشن کیوں تجویز کی گئی اور اسے نظری طور پر کیسے قائم کیا جاسکتا تھاآج کے علاقائی تعاون کیلئے اہم سبق رکھتا ہے۔
تاریخی پس منظر: یہ خیال کیوں پیدا ہوا؟
مشترکہ جغرافیہ اور نسلی روابط،پاکستان اور افغانستان کے درمیان2600کلومیٹر طویل سرحد، گہرے پشتون نسلی رشتے،باہمی قبائلی خطے اور صدیوں پرانے تجارتی راستےیہ تمام عوامل سیاسی اتحاد کے امکانات پیدا کرتے رہے۔
سوویت یلغار اور سرد جنگ 1980:کی دہائی میں سوویت حملے کے بعد خطہ شدید عدم استحکام کا شکار ہوا۔ اس دور میں اسلام آباد کے بعض حلقوں نے ایک ڈھیلی کنفیڈریشن کا امکان سوچا، جس کا مقصد سوویت اثر کو روکنا،پناہ گزین بحران کا نظم اور افغان مزاحمتی قوتوں کو علاقائی حکمتِ عملی میں سمو دینا تھا۔
اسٹرٹیجک ڈیپتھ کا تصور: پاکستان کیلئے بھارت کے مقابلے میں اسٹرٹیجک ڈیپتھ اہم تھی، جبکہ افغانستان کو معاشی و عسکری مدد درکار تھی۔ کنفیڈریشن بعض حلقوں کے نزدیک ’’دو طرفہ فائدہ‘‘ تھی۔ ایک معاشی باہمی انحصاریعنی فغانستان زمینی طور پر محصور ہے اور پاکستانی بندرگاہوں پر انحصار کرتا ہے۔ دوسرا اس سے دونوں ملک مشترکہ تجارت، توانائی راہداری، انفراسٹرکچر منصوبے، اسمگلنگ میں کمی کے ذریعے فائدہ اٹھا سکتے تھے۔
کنفیڈریشن کیوں نہ بن سکی؟
افغان خودمختاری کا حساس معاملہ :افغانوں نے ہمیشہ بیرونی اثر کو رد کیا۔ کنفیڈریشن کو اکثر خودمختاری پر حملہ اور پاکستان کا غلبہ قائم کرنے کی کوشش سمجھا گیا۔
ڈیورنڈ لائن کا تنازع:سرحدی تنازعے نے باہمی اعتماد کو کمزور کیا۔سرحد حل کیے بغیر کوئی سیاسی ڈھانچہ ممکن نہ تھا۔
پاک بھارت رقابت:افغانستان کی بھارت سے قربت اور پاکستان کے خدشات نے ماحول مزید پیچیدہ بنا دیا۔
اندرونی سیاسی عدم استحکام:افغانستان میں بغاوتیں، خانہ جنگیاں، طالبان دور، بیرونی مداخلت۔
پاکستان میں سیاسی بحران، فوجی ادوار، اور نسلی کشیدگی کنفیڈریشن ایسے حالات کے برعکس ایک مستحکم داخلی نظام چاہتی تھی۔
کیا اس کی حقیقی ضرورت تھی؟
مشترکہ سیکورٹی چیلنجز:دونوں ممالک نے دہشتگردی، منشیات کی اسمگلنگ، غیرقانونی اسلحے کے بہاؤ، سرحد پار عسکریت پسندی کا سامنا کیا ایسے میں ان چیلنجز سے نمٹنے میںمشترکہ حکمتِ عملی فائدہ مند ہوسکتی تھی۔
معاشی تکمیلیت:پاکستان کی صنعتیں اور افغانستان کے قدرتی وسائل مل کر ایک مضبوط اقتصادی بلاک بنا سکتے تھے۔
علاقائی طاقت کا توازن: دونوں ملکوں کا متحد بلاک بھارت کے ساتھ مذاکراتی طاقت بڑھا سکتا تھا، عالمی طاقتوں پر انحصار کم کرسکتا تھا ،پورے خطے کیلئے رابطہ پل بن سکتا تھا۔
کنفیڈریشن کیسے کام کرسکتی تھی؟
کنفیڈریشن، انضمام نہیں ایک حقیقت پسندانہ ماڈل:یورپی یونین یا مصرشام کی متحدہ عرب جمہوریہ جیسا ہوتا۔
پہلا مرحلہ:اعتماد سازی،ڈیورنڈ لائن پر باہمی اتفاق، مشترکہ سیکورٹی کمیشن، تجارتی شفافیت، پروپیگنڈا کم کرنا۔ دوسرا مرحلہ: اقتصادی انضمام آزاد تجارتی زون، مشترکہ کسٹمز،بنیادی ڈھانچے کا مشترکہ فنڈ، جدید ٹرانزٹ ٹریڈ نظام۔ تیسرامرحلہ:دفاعی تعاون، مشترکہ بارڈر نگرانی،انٹیلی جنس شیئرنگ، انسدادِ منشیات کی کارروائیاں۔ چوتھا مرحلہ: سیاسی فریم ورک،دو خودمختار ریاستیں، مشترکہ اقتصادی و دفاعی کونسل، باری باری قیادت، مشترکہ ادارے۔
کیا آج یہ ممکن ہے؟
مکمل کنفیڈریشن اب بھی مشکل ہے، لیکن علاقائی اقتصادی تعاون،چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے، ایس سی او سکیورٹی شراکت، توانائی و تجارت کی راہیں کنفیڈریشن جیسے ڈھانچے کا راستہ ہموار کرسکتے ہیں۔
پاکستان افغانستان کنفیڈریشن کا خیال جغرافیہ، سکیورٹی اور معیشت کے فطری تقاضوں پر مبنی تھا۔ اگرچہ مکمل کنفیڈریشن ایک دور ازکار بات تھی، مگر اس کی روح تعاون، نہ کہ انضمام ہے جو آج بھی ناگزیر ہے۔حقیقی سوال یہ نہیں کہ کنفیڈریشن ہونی چاہئے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ دونوں ممالک کن اصولوں پر کنفیڈریشن جیسے تعلقات استوار کرسکتےہیں۔پاکستانی قیادت، افغان طالبان کے سب سے طاقتور حلقے امیرالمومنین شیخ ہیبت اللہ اخوندزادہ (نورزئی درانی پشتون جو ترین قبیلے کی شاخ ہے) کیساتھ اہم پاکستانی شخصیات کے بااثر روابط کے ذریعے اس سمت بہت کچھ کرسکتی ہے۔اگر پاکستان اور افغانستان مشترکہ کنفیڈریشن قائم کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو یہ تقریباً 30 کروڑ لوگوں کیلئے امن، ترقی اور خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہوگااور پورے خطے کا نقشہ بدل دے گا۔پاکستانی قیادت کو یاد رکھنا چاہئے کہ ناکامی کوشش چھوڑ دینے میں ہے، نہ کہ بڑے اہداف مقرر کرنے میں۔ ناممکن کو ممکن وہی بناتا ہے جو خیالات کی حدوں سے آگے بڑھنے کی ہمت کرتا ہے۔