• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہزاروں سال کی تاریخ وقت کے سمندر میں بہتی ایک عظیم الشان لیکن پراسرار کہانی ہے جہاں عظمت اور تباہی کا کھیل ازل سے جاری ہے۔ کبھی یونان کی فصیلوں سے دانشوری کی صدائیں گونجیں کبھی روم کے میدانوں میں سیزر کی تلواریں چمکیں کبھی پٹنہ کی گلیوں میں علم کے چراغ روشن ہوئے اور کبھی دہلی کے بازاروں میں سونے چاندی کے ڈھیر لگے۔ اس ساری آب و تاب کے نیچے ایک خاموش مہلک بیماری پروان چڑھتی رہی وہ بیماری جسے تاریخ نے کرپشن اور بدعنوانی کا نام دیا۔ یہ وہ دیمک ہے جو دیواروں کو باہر سے نہیں اندر سے چاٹتی ہے یہ وہ زہر ہے جو رگوں میں دھیرے دھیرے سرایت کرتا ہے اور پھر اچانک دل کی دھڑکن روک دیتا ہے۔ قوموں کا زوال تلواروں کے حملے سے کم اور اپنے ہی ضمیر کی موت سے زیادہ ہوتا ہے۔ تاریخ کے شکستہ آئینوں میں جھانک کر دیکھیں رومن سلطنت کی وہ آخری شام جب حکمران طبقہ عوامی خزانے کو عیاشیوں میں صرف کر رہا تھا جبکہ سرحدوں پر بربریت کے بادل گرج رہے تھے۔ سینیٹ کے ہر رکن کا ضمیر بک چکا تھا ہر فیصلہ ریشم کے لبادوں میں لپٹی رشوت کا مرہونِ منت تھا۔ قانون صرف کمزور کے لئے ایک تلوار تھا۔طاقتور کے لئے ایک کاغذ کا ٹکڑا۔ وہ عمار تیں وہ شاہراہیں جو کبھی رومن انجینئرنگ کا شاہکار تھیں کرپشن کرکے ناقص مواد سے بنائی گئیں اور پھر وقت سے پہلے ٹوٹ گئیں۔یورپ کی تاریخ میں بھی ایسے عہد گزرے ہیں۔ سترہویں صدی میں فرانس کا نظام اسی بدعنوانی کی وجہ سے بوجھل ہو چکا تھا۔ طاقت کے مراکز میں اشرافیہ کی مراعات اور مالیاتی بے ضابطگیاں اس قدر بڑھ چکی تھیں کہ پورا مالیاتی ڈھانچہ درہم برہم ہو گیا۔ ٹیکس وصولی کا نظام نجی ٹھیکیداروں کے سپرد تھا جو غریبوں کو نچوڑتے تھے جبکہ امیر طبقہ مراعات یافتہ تھا۔ یہ عدم مساوات اور بدعنوانی بالآخر فرانسیسی انقلاب کی آگ کا ایندھن بنی۔ انقلاب کے بعد نظام بدلا مگر بدعنوانی کا سایہ مکمل طور پر نہ ہٹا کیونکہ نفسیاتی زوال گہرا ہو چکا تھا۔اس کے برعکس کچھ قوموں نے اپنی تاریخ کے سب سے تاریک ادوار میں اس دیمک کو پہچانا اور اسے جڑ سے اکھاڑنے کا فیصلہ کیا۔ سنگاپور کی مثال دیکھیے۔ 1960 کی دہائی میں یہ ایک غریب اور شدید کرپٹ ملک تھا۔ اس کے بانی لی کوان یو نے سختی کے ساتھ یہ اصول اپنایا کہ قوم کی بقا کے لئے سخت احتساب اور آئین کی بالادستی ضروری ہے۔ انہوں نے نہ صرف کرپشن کو مالیاتی جرم قرار دیا بلکہ اسے قومی غداری سمجھا۔ ججز اور سرکاری افسران کی تنخواہیں مارکیٹ کے مطابق رکھی گئیں تاکہ وہ لالچ سے دور رہیں اور احتساب کے ادارے کو مکمل آزادی دی گئی۔ اس عمل نے آہستہ آہستہ معاشرتی اعتماد کو بحال کیا اور آج سنگاپور دنیا کے کم ترین کرپٹ ممالک میں سے ایک ہے۔

اسی طرح چین کی حالیہ تاریخ میں بھی کرپشن ایک مرکزی مسئلہ رہا ہے۔ چینی کمیونسٹ پارٹی نے جب یہ محسوس کیا کہ بدعنوانی حکومتی ڈھانچے اور عوامی حمایت کو تباہ کر رہی ہے تو انہوں نے ’ٹائیگرز اور فلائیز‘ کے خلاف ایک وسیع مہم شروع کی۔ بڑے سے بڑے رہنما اور چھوٹے سے چھوٹے اہلکار کو احتساب کے کٹہرے میں لایا گیا۔ یہ مہم صرف قانون کی بالادستی کے لئے نہیں تھی بلکہ حکومتی نظام میں عوامی اعتماد کی بحالی کے لئے تھی۔ چین کا معاشی کرشمہ کافی حد تک اسی سخت حکمرانی اور بدعنوانی کے خلاف جاری لڑائی کا مرہونِ منت ہے۔پاکستان بھی خدانخواستہ آج اسی خاموش زوال کے راستے پر کھڑا ہے ۔آئی ایم ایف کی تازہ گورننس اور کرپشن ڈائگناسٹک رپورٹ پاکستان کے ادارہ جاتی معاشی اور حکمرانی کے پورے ڈھانچے پر ایک بے رحمانہ مگر سچی روشنی ڈالتی ہے۔ یہ کوئی تکنیکی دستاویز نہیں بلکہ ایک جامع چارج شیٹ ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکمرانی کا بحران اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ شفافیت قانون کی بالادستی اور احتساب کے بنیادی اصول برائے نام ہی ہیں۔ صنعتی سکڑاؤ ایک معاشی حادثہ بن چکا ہے۔ پاکستان کے صنعتی ڈھانچے میں خاص طور پر لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں تقریباً پچاس فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔کرپشن کی وجہ سے عوامی خدمات کی قیمت (Cost of Public Services) کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ جب سرکاری ٹھیکے شفاف طریقے سے نہیں دیے جاتے تو سڑکیں ہسپتال اور سکول یا تو وقت پر مکمل نہیں ہوتے یا ان کا معیار ناقص ہوتا ہے جس کا بوجھ بالآخر عام آدمی پر پڑتا ہے۔ سرمایہ کاری کے فیصلے سیاسی منافع کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں نہ کہ معاشی ضرورت کی بنیاد پر۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں توانائی کے شعبے میں گردشی قرضہ ایک لاعلاج بیماری بن چکا ہے۔ اس بیماری کی جڑیں کرپٹ معاہدوں اور اداروں کی کمزوری میں پیوست ہیں۔رپورٹ میں کرپشن کے حوالے سے جو جملے استعمال کیے گئے ہیں وہ کسی عام آدمی یا کسی کالم نگار کےنہیں بلکہ بین الاقوامی ادارے کے الفاظ ہیں۔یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ ایک ہوتی ہے پیٹی کرپشن (Petty Corruption) جو ایک کلرک یا چھوٹے افسر کے سطح پر ہوتی ہے اور دوسری ہوتی ہے گرینڈ کرپشن (Grand Corruption) جو پالیسی سازی کی سطح پر کی جاتی ہے۔ پاکستان کا اصل مسئلہ پیٹی کرپشن سے زیادہ گرینڈ کرپشن ہے۔ کرپشن دراصل ریاست اور شہری کے درمیان موجود ’عہدِ وفا‘ کو توڑتی ہے۔ یہ صرف ایک معاشی نقصان نہیں ہےیہ اس جمہوری اعتماد کی بنیاد کو ہلا دیتی ہے جس پر ریاست کھڑی ہوتی ہے۔ ظاہر ہے جب ریاست اپنے وسائل کی منصفانہ تقسیم کی ضمانت نہیں دے پاتی تو عوام کا ریاست پر اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔ اس سے ایک ایسا مایوسی کا کلچر (Culture of Despair) پیدا ہوتا ہے جہاں لوگ ریاست سے امیدیں رکھنا چھوڑ دیتے ہیں اور ہر شخص اپنے لیے کچھ حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ہو جاتا ہے۔تاریخ کی گہرائی میں جھانکنے سے ہمیں یہی سبق ملتا ہے کہ قومیں تب تک ترقی نہیں کرتیں جب تک وہ اپنے ضمیر کی آواز سننے کی ہمت نہیں رکھتیں۔اصلاحات ممکن ہیں لیکن وہ صرف اخلاقی اور اجتماعی وقار کی بنیاد پر کامیاب ہوں گی۔

تازہ ترین