• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آرکیٹیکٹ، دوسرے پیشوں سے مختلف اور چیلنجنگ

ایک آرکیٹیکٹ یا معمار آپ کی نئی عمارات یا توسیع یا تبدیلی کا ڈیزائن تیار کرتا ہے، اور پرانی خصوصیات کی بحالی اور تحفظ پر مشورہ دیتا ہے۔ اس کے علاوہ انفرادی عمارات یا بڑے ترقیاتی منصوبوں پر کام کر تاہے، مزید برآں اس کی ذمہ داریوں میں زمین اور مقامات کی تزئین بھی شامل ہو سکتی ہے۔

یونی ورسٹی سے یا انجینئرنگ کالج سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد ایک ایک آرکیٹیکٹ کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ دو سال کسی سرکاری یا نجی ادارے میں ملازمت کرے۔ اسی تجربے کے بعد وہ اپنا نجی کام پاکستان میں شروع کرسکتا ہے۔

آرکیٹکٹس کے دفاتر کا ماحول پرسکون اور صاف ستھرا ہوتا ہے اور پیشے میں ترقی کے امکانات روشن ہیں اور دو سالہ ملازمت کی تکمیل کے بعد بیش تر آرکیٹیکٹس اپنا دفتر قائم کرنے کو ترجیح دیتے ہیں یا دوسرے آرکیٹیکٹس کے اشتراک سے کمپنی قائم کرتے ہیں۔

آرکیٹکٹ کی اقسام درج ذیل ہیں۔

ریزیڈینشل آرکیٹیکٹ

معیاری عمارتوں کے بعد رہائشی عمارتیں بعض مقامات پر مماثلت رکھتی ہیں اور بعض اوقات بالکل مختلف ہوتی ہیں۔ رہائیشی عمارتوں میں چونکہ مالکان کا بھی عمل دخل ہوتا ہے اس لئے آرکیٹیکٹ اگر مالک کے ساتھ متفق ہو تو وہ اسے ڈیزائن اور تعمیر کروانے کی حامی بھرتا ہے لیکن اگر آرکیٹکٹ متفق نہیں تو پھر اسے دوبارہ ڈیزائن کرکے مالکان کو قائل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنے پلان اور لے آؤٹ سمیت تمام تر ضروریات اور شرائط کے مطابق کام کی شروعات کرتا ہے۔ مٹیریل اورخدمات کی لاگت کے ساتھ ساتھ اس کی تکمیل کی تخمینہ کردہ مدت بھی شامل ہوتی ہے۔

کمرشل آرکیٹیکٹ

ایک عمدگی سے بنی عمارت آنکھوں کو بھلی معلوم ہوتی ہے اس کی کشادگی اور ڈیزائن اسے قابل قبول بناتا ہے۔ ایک کمرشل یا پبلک بلڈنگ کا کامیاب ڈیزائن اس بات کا غماز ہوتا ہے کہ اس کی بھول بھلیوں میں لوگ بھٹکیں نہیں۔ 

مثال کے طور پر ایک عمدگی سے بنا شاپنگ مال خریداروں کیلئے اس قدر آسان ہو کہ ان کا خریداری میں وقت ضایع نہ ہو اور اس میں رہنمائی والے نشانات سمیت ہر جگہ تک آسان رسائی حاصل ہو۔ اسے صرف کمرشل آرکیٹیکٹ ہی ممکن بناتا ہے۔

انہیں غیر رہائشی عمارت سازی میں اسپیشلائزیشن کی ہوتی ہے۔ جس کیلئے انجینئرنگ، کنسٹرکشن اور آرٹسٹک مہارت درکار ہوتی ہے۔ مزید برآں بلڈنگ کوڈز، حفاظتی اقدامات اور تعمیری لاگت کی آگاہی بھی اس ڈگری کیلئے ضروری ہیں۔

انٹیریئر ڈیزائنر

کسی اپارٹمنٹ ، ریسٹورنٹ یا گھر کی اندرونی ڈیزائننگ اور اسٹائلنگ کیلئے آرٹسٹک سینس اور تکنیکی معلومات درکار ہوتی ہیں۔ انٹیریئر ڈیزائنرز کے پاس مٹیریل، فیبرک، کلر اور فرنیچر ڈیزائن کی گہری معلومات ہوتی ہے۔ 

بہت سے آرکیٹیکٹس وسیع پیمانے پر کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور اس قسم کی تفصیلات وجزئیات میں نہیں پڑتے جبکہ بہت سے آرکیٹیکٹ انٹریئر ڈیزائننگ کی بھی خدمات انجام دیتے ہیں۔

گرین ڈیزائن آرکیٹیکٹ

ارضیاتی تبدیلیوں اور کم ہوتی ہوئی سبزہ زار زمینوں کی وجہ سے اس قسم کے آرکیٹکٹ کی مانگ ابھی نہیں ہے تو جلد بہت بڑھنے والی ہے۔ گرین ڈیزائن آرکیٹیکٹ کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ماحول دوست اور انرجی ایفیشنٹ آرکیٹکچر کو ڈیزائن کریں۔

یہ آرکیٹکٹس مستقل بنیادوں پر موثٔر گرین ڈیزائن طریقہ کار کو ایجاد کرنے میں مصروف ہوتے ہیں، جس سے ماحول پر کم سے کم مضر اثر ات پڑیں۔ اس کام کو انجام دینے والے آرکیٹیکٹس کو ایئر و ڈائنامکس ، سن اینڈ شیڈنگ اورمٹیریل کی خصوصیات کے بارے میں کافی علم ہونا چاہئے۔

لینڈ اسکیپ آرکیٹیکٹ

لینڈ اسکیپ آرکیٹیکٹ آئوٹ ڈور تعمیرات کیلئے کام کرتے ہیں جیسے پارک، گارڈن، کیمپس یا پبلک مقامات وغیرہ۔ لینڈ اسکیپ آرکیٹیکٹ زمینی ٹکڑوں کو ماحول کے مطابق فعال، مشغول اور انسانوں کیلئے قابل قبول بناتے ہیں۔ یہ مقامات یا زمینی ٹکڑے کیلئے عمارات، واک ویز، سبزہ زار ووغیرہ تجویز کرتے ہیں۔ 

لینڈ اسکیپ آرکیٹیکٹ واک ویز کیلئے مٹیریل کا بھی انتخاب کرتے ہیں اور گرین ایریاز کیلئے درختوں اور پودوں وغیرہ کو بھی تجویز کرتے ہیں، اس کیلئے انہیں اربن ہارٹی کلچر کی سائنس کا علم ہونا ضروری ہوتا ہے۔ مختلف آب و ہوا اور استعمالات کیلئے انہیں موزوں مٹیریل اور پودوں کی آگاہی ہونا بھی لازمی ہوتی ہے۔

اربن ڈیزائنر

اربن ڈیزائن ایک وسیع موضوع ہے جس کے تحت بلڈنگ آرکیٹیکچر ، لینڈ اسکیپ ڈیزائن، اور گرین ڈیزائن کی اسپیشلائزیشن کی جاتی ہے۔ یہ گاؤں، دیہات اور شہروں کی سطح پر ہوتی ہے۔ اربن ڈیزائنرز عمارات کی گروہ بندی کرنے، راستے، موڑ اور گلیوں کے نیٹ ورک ڈیزائن کرنے کےانچارج ہوتے ہیں۔ یہ بالکل خالی زمین پر شہر آباد کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور کر بھی گزرتے ہیں۔

اربن ڈیزائنر کا کام جتنا بڑا ہوتا ہے ان کی ذمہ داریاں اور بھی بڑی ہو جاتی ہیں اسی لیے انہیں معاشیات، سیاست اور ثقافت کے ساتھ بھی نبرد آزما ہونا پڑتا ہے۔ مزید انہیں ان کمیونیٹیز کے ساتھ بھی ڈیل کرنا پڑتا ہے جو کلائنٹ کے طور پر ان کی خدمات حاصل کرتی ہیں۔

تعمیرات سے مزید