• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی خصوصاً خودکش حملہ آوروں کے مسلسل استعمال نے ملک بھر میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ اب ایک مرتبہ پھر پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر پر فتنہ خوارج کا حملہ سیکورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا۔ کارروائی کے دوران تینوں خودکش حملہ آور مارے گئے جبکہ ایف سی کے 3اہلکار شہید اور 11افراد زخمی ہوئے۔ سی سی پی او ڈاکٹر میاں سعید کے مطابق 3 حملہ آور پیدل آئے جنہوں نے خودکش جیکٹس پہن رکھی تھیں۔ ایک حملہ آور نے خود کو مرکزی گیٹ پر دھماکے سے اڑایا جبکہ2حملہ آور اندر داخل ہوئے جنہیں اہلکاروں نے بروقت فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا۔ دھماکہ اس وقت ہوا جب ہیڈکوارٹر میں پریڈ جاری تھی اور 450اہلکار موجود تھے۔ ہلاک دہشتگردوں کی عمریں 18 سے 22 سال کے درمیان تھیں اور وہ افغان باشندے تھے۔ ان کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا۔ یہاں یہ امرقابل ذکر ہے کہ پشاور میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملہ کرنیوالے 3خودکش دہشتگرد افغانستان سے آئے تھے۔ یہ کہیں نہ کہیں ٹھہرے بھی ہونگے، انہیں بارودی مواد بھی فراہم کیا گیا ہوگا اور حملے کی تربیت بھی دی گئی ہوگی۔ سہولت کاری کا یہ پورا نیٹ ورک موجود ہے جسکے تدارک کے بغیر دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔ نیشنل ایکشن پلان کا سب سے کمزور پہلو دراصل دہشتگردوں کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی ہے، جسے اب بھرپور قوت کیساتھ نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ رواں ماہ نومبر کے دوسرے ہفتے وانا کیڈٹ کالج پر بھی 4 دہشتگردوں نے حملہ کیا اور طلباء کو یرغمال بنانے کی کوشش کی۔ سیکورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے چاروں دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ انکا تعلق افغانستان سے تھا اور انکے پاس وہی امریکی اسلحہ موجود تھا جو عموماً ٹی ٹی پی استعمال کرتی ہے۔ وہ اسلحہ جو امریکہ کے افغانستان سے انخلا کے دوران پیچھے رہ گیا تھا۔ اگر یہ دہشتگرد اپنے منصوبے میں کامیاب ہو جاتے تو خدانخواستہ یہ سانحہ اے پی ایس سے بھی بڑا المیہ ثابت ہو سکتا تھا۔ سانحہ اے پی ایس میں طلبہ، اساتذہ اور عملے سمیت 150سے زائد افراد شہید ہوئے تھے۔ افغانستان میں طالبان حکومت آنے کے بعد ان عناصر کو دوبارہ سرگرم ہونے کا موقع ملا اور انہیں کھلی سرپرستی حاصل ہوئی۔ یہ محض الزام نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی باقاعدہ رپورٹس بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ افغانستان میں دہشتگردوں کے منظم ٹھکانے موجود ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) نے بھی ایسی ہی رپورٹ جاری کی ہے جسے افغان جریدے افغانستان انٹرنیشنل نے شائع کیا۔ اینٹی ٹیررسٹ اسٹرکچر کے سربراہ اولاربیک شارشیف کے مطابق افغانستان اور شام میں بین الاقوامی دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، سلیپر سیلز قائم کئے جا رہے ہیں، اور فنڈنگ کے ذرائع وسیع کیے جا رہے ہیں۔ متعدد افغان پناہ گزین دہشتگردی یا سہولت کاری میں ملوث پائے گئے ہیں۔ پاکستان نے افغان مہاجرین کو عزت، احترام اور روزگار کے مواقع فراہم کئے، مگر ان میں شامل چند عناصر نے دہشتگردی میں کردار ادا کرکے باقی مہاجرین کو بھی مشکوک بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہر افغان پناہ گزین کو شک کی نظر سے دیکھا جانے لگا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ جو افراد پاکستان میں قانونی یا غیر قانونی طور پر موجود ہیں وہ اپنے ملک واپس چلے جائیں تاکہ دہشتگردی میں نمایاں کمی لائی جا سکے۔دہشتگردی کے خاتمے کیلئے وسیع تر قومی اتحاد بھی ناگزیر ہے۔ مرکزی حکومت، خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت اور پاک فوج کے درمیان مکمل ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ کل تک خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے دہشتگردوں کیخلاف فوجی کارروائیوں پر مکمل یکسوئی نظر نہیں آتی تھی، تاہم گزشتہ روز وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے ایف سی ہیڈکوارٹرز میں شہداء کے جنازے میں شرکت کرکے دہشتگردی کیخلاف عزم کا اظہار کیا ہے۔دوسری جانب پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اسٹرٹیجک مکالمے کے ساتویں دور کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا جس میں افغانستان سے مطالبہ کیا گیا ہےکہ افغان حکومت دہشت گردی کے خاتمے کیلئے عملی کردار ادا کرے۔یہ امر واقع ہے کہ پاکستان نے علاقائی امن و استحکام کی خاطر افغانستان میں قیام امن کیلئے ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیا اور امریکی افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد طالبان کی کابل کے اقتدار میں واپسی کی راہ ہموار کی مگر طالبان عبوری انتظامیہ نے نہ صرف پاکستان کے احسانات کو فراموش کیا اور طوطا چشمی اختیار کی بلکہ پاکستان کے دشمن بھارت کے ہاتھوں میں کھیلتے ہوئے دہشت گردی کے ذریعے اسکی سلامتی کمزور کرنے کے بھارتی ایجنڈے کو بھی عملی جامہ پہنانا شروع کر دیا۔ افغان سرزمین کو دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بنا دیااور فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی شکل میں موجود بھارتی پراکسیز کی سرپرستی کر کے انہیں افغان سرحد سے پاکستان میں داخل ہونے کی سہولت فراہم کی اور پاکستان میں دہشت گردی کا سلسلہ بڑھا دیا۔ پاکستان کی جانب سے کابل انتظامیہ سے متعدد بار احتجاج کیا گیا اور دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کرنے پر زور دیا گیا مگر طالبان رجیم ٹس سے مس نہ ہوئی۔ پاکستان نے برادر ملکوں قطر اورترکی کے کہنے پر افغانستان کیساتھ عارضی جنگ بندی کی اور انہی کی میزبانی میں استنبول میں چار رائونڈز پر مشتمل مذاکرات بھی کئے مگر طالبان پاکستان کیساتھ امن کیلئے سنجیدہ نظر نہیں آئے جن کی سرپرستی میں بھارتی پراکسیز کی پاکستان میں دہشت گردی کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ اس کشیدہ صورتحال سے جہاں علاقائی اور عالمی امن پر مسلسل خطرے کی تلوار لٹکی ہوئی ہے وہیں افغانستان خود بھی عدم استحکام کا شکار ہورہا ہے۔ اندریں حالات علاقائی امن کی خاطر عالمی اداروں اور قیادتوں کو کابل حکومت کو راہ راست پر لانے کیلئے سخت اقدامات کرنے اور اس کے سرپرست بھارت کو بھی شٹ اپ کال دینے کی ضرورت ہے تاکہ خطے کے امن کی ضمانت مل سکے۔

تازہ ترین