(گزشتہ سے پیوستہ)
نیشنل کالج آف آرٹس کی 150 ویں تقریبات اب اختتام کو پہنچ رہی ہیں۔ نومبر کا پورا مہینہ لاہور میں این سی اے کی تقریبات کا چرچا رہا ۔کاش گورنمنٹ کالج لاہور، پنجاب یونیورسٹی ،کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی ، سینٹرل ماڈل اسکول اور ایچیسن کالج (چیف کالج)بھی ایسی تقریبات کا اہتمام کرتے۔ ان تعلیمی اداروں کو بھی ایک سے ڈیڑھ سو برس ہو چکے ہیں یہ تعلیمی ادارے بھی بہت قدیم ہو چکے ہیں۔ این سی اےنے ہمیشہ پورے ملک میں ایک سافٹ امیج دیا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ فنون لطیفہ کے حوالے سے اس کالج کی بہت خدمات ہیں ۔لیں جناب لاہور کو خوبصورت کرنے کے چکر میں لاہور کی قدیم ترین سائیکل مارکیٹ نیلا گنبد کو مسمار کر دیا گیا ہے اب یہاں پر ایک پارکنگ پلازہ اور نجانے کیا کچھ تعمیر کیا جائے گا۔ اس سے قبل لاہور کی قدیم پرندہ مارکیٹ جو حضرت علی ہجویری رحمت اللّٰہ علیہ کے مزار مبارک کے قریب تھی اس کو بھی مسمار کر دیا گیا ۔لاہور میں پیرا فورس نےآج کل جگہ جگہ تجاوزات کو مسمار کر دیا ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان تجاوزات کو کارپوریشن اور ایل ڈی اے نے کیوں بننے دیا اب لوگوں کو یہاں بیٹھے ہوئے 30 سے 40 برس ہو چکے ہیں تو ان کی دکانیں اور مکانات کو مسمار کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف پیر ا فورس کا رویہ لوگوں کے ساتھ انتہائی توہین آمیز ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت کو تمام تجاوزات کو ختم کرنے کیلئے کم از کم ایک سال سے زائد کا وقت دینا چاہیے تھا، دوسرے جو کام پیرا فورس کر رہی ہے تو پھر کارپوریشن کے عملے تہہ بازاری کا اب کوئی جواز نہیں کارپوریشن والے بھی یہی کام کرتے رہے ہیں۔ پیرا فورس کے نظام کو بنانے کیلئے ابھی بھی نکات کی ضرورت ہے، دیکھتے ہیں کہ نیلا گنبد پہلے سے زیادہ خوبصورت ہوتا ہے یا نہیں یہ تو وقت بتائے گا۔ شہر خوبصورت اور صاف ستھرا ہوگا یہ بات بھی قبل از وقت ہے۔گزشتہ کالم میں ہم لاہور میں کارپوریشن کی ڈسپنسریوں کا ذکر کر رہے تھے لاہور میں کئی جگہ کارپوریشن کی ڈسپنسریاںہوا کرتی تھیں کبھی لوگ ان ڈسپنسریوں میں جا کر انجکشن لگوایا کرتے اور ادویات بھی لیا کرتے تھے۔ انگریز نے اپنے دور اقتدار میں لاہور میں شہریوں کو صحت اور تعلیم کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے خصوصی توجہ دی تھی ہمیں یاد ہے کہ لاہور میں گورنمنٹ مسلم ہائی ا سکول نمبر2کے بالکل سامنے فوجی بارک نما ایک ڈسپنسری ہوا کرتی تھی جس کی چھت لکڑی اور مٹی کے ہاف کٹ پیالوں کی بنی ہوئی تھی۔ مین ریٹی گن روڈ، ٹیپ روڈ ،سنت نگر ،دیو سماج روڈ ،آؤٹ فال روڈ ،لوئرمال اور کچہری کے لوگ اس ڈسپنسری پر علاج کے لیے آیا کرتے تھے۔ شاید پرانے لاہوریوں کو یاد ہو کہ لاہور کی ضلع کچہری 1980 تک اپنی اصل شکل و صورت میں تھی سفید اور پیلے رنگ کی چار دیواری جس پر بڑے خوبصورت چھوٹے چھوٹے گنبد نما ہوتے تھے۔کبھی لاہور کی کارپوریشن کی ڈسپنسریوںمیں لوگ جایا کرتے تھے لوگ وہاں سے اپنا علاج کرواتے تھے اب تو مدت ہوگئی ایسی ڈسپنسری نہیں دیکھی ۔ میاں میر چھائونی جسے اب لاہور کینٹ کہتے ہیں اس کا اصل نام میاں میر چھائونی تھا اور ا سٹیشن کینٹ کا نام بھی میاں میر چھائونی تھا لاہور میں 1970 کے بعد تبدیلیاں آنا شروع ہوئی تھیں۔ 2000 کے بعدیہ شہر ہی بدل گیا آج ہماری وزیراعلیٰ مریم نواز کہتی ہیں کہ لاہور میں اسموگ آگئی ہے لاہور دنیا کا سب سے گندا شہر بن گیا ہے اس پر کسی نے غور نہیں کیا ۔وہ سندرداس روڈ جہاں سورج کی کرن نظر نہیں آتی تھی اور بادل نظر نہیں آتے تھےایچی سن کالج کے درختوں اور اس سڑک کو ڈھانپ رکھا تھا وہ لارنس گارڈن جہاں جگنوئوں کا راج ہوا کرتا تھا رات کو پورالارنس گارڈن ایسے دور سے نظر آتا تھا جس سے چھوٹی بتیاںپہاڑی پر لگائی گئی ہوں اب تو جگنوئوں کا وہاں نام و نشان تک نہیں ہے ۔سبز رنگ کے طوطے جگہ جگہ نظر آتے تھے آج تلاش کرنے پر بھی نہیں ملتے ہم نے وہ درخت ہی کاٹ دیے جو طوتے، چڑیا، مینا ،ہدہد کے پسندیدہ درخت تھے ۔ نہر پر ستمبر کے مہینے میں سردی لگا کرتی تھی آج وہ نہر اپنی خوبصورتی کھو چکی ہے ۔کیا مذاق والی بات ہے نہر پر پلاسٹک کی بطخیں لگا کر نہر کو خوبصورت بنانے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے۔ ارے بابا! لاہور کا ماحول درست کرو تو ہی خوبصورت ہوگا۔ سڑکوں پر سرکاری گاڑیاں،بسیں آلودگی پھیلا رہی ہیں نہر کو چوڑا کرنے کے لیے ہم نے سارے درخت کاٹ دیئے ہیں ۔وہ نہر جہاں پنجاب یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹ کشتی رانی کیا کرتے تھےاب وہاں ایک بھی کشتی نہیں ہے۔کبھی لاہور شہر کے لوگ مکانوں پر کبوتر بازی کیا کرتے تھےآپ نے ان پر پابندی لگا دی۔اب آپ پتنگ بازی شروع کرنا چاہتے ہیں ہمارے اس پر کچھ تحفظات ہیں ۔بہرحال ان دنوں لاہورا سموگ کی شدید زد میں ہے۔ آج سے 10 سال پہلے کسی کو بھی اسموگ کا نام نہیں پتا تھا آج حالات یہ ہیں کہ اسموگ کی وجہ سے نزلہ، زکام، سینے کی بیماریاں ہو رہی ہیں اب تو لوگ لارنس گارڈن ،ریس کورس پارک اس ڈر سے نہیں جاتے کہ الٹا بیمار ہو کر آجائیں گے۔ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ لاہور کا تو حلیہ ہی بگاڑ دیا گیا ہے گزشتہ دنوں ہم انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ 1898 کی بلڈنگ دیکھنے چلے گئے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس عمارت کے احاطےمیںکئی اور میڈیکل کے ادارے بنے ہیں بلڈنگ کےاحاطے میں لاہور میڈیکل کالج کا آغاز ہوا علامہ اقبال میڈیکل کالج بن گیا یہیں پر امیر الدین میڈیکل کالج کی کلاسز بھی ہوتی ہیں یہیں پہ پوسٹ میڈیکل کی کلاسز بھی ہوتی ہیں یہیں پر پاگل کتے کے کاٹنے کی ویکسین بھی ہوتی ہے۔یہیں پر پنجاب کنٹرول پراگرام کا دفتر ہے۔ڈیڑھ سو سال پرانے سرونٹ کوارٹر بھی ہیں عجیب و غریب بلڈنگ ہے جہاں بے شمار ادارے کام کر رہے ہیں اور کسی کو نہیں پتہ کہ کس نے کہاں جانا ہے ۔(جاری ہے)