امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای مارے جاچکے ہیں۔
اپنے سوشل میڈیا بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے آیت اللّٰہ خامنہ ای کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ ایرانی عوام کے لیے اپنا ملک واپس لینے کا واحد سب سے بڑا موقع ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ہمیں پتہ چلا ہے کہ ایرانی فورسز اور پولیس اب لڑنا نہیں چاہتے۔
قبل ازیں انہوں نے کہا کہ وہ جو ایران میں بیشتر فیصلے کرتے تھے اب مارے جاچکے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر کے انتقال کی خبریں درست معلوم ہوتی ہیں۔
امریکا اور اسرائیلی حکام کے مطابق زیر زمین بنکر سے آیت اللّٰہ خامنہ ای کی میت مل گئی۔ درجنوں اہم ساتھی بھی مارے گئے۔ حملوں میں آیت اللّٰہ خامنہ ای کے داماد اور بہو بھی جاں بحق ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایران کے صدر مسعود پزشکیان، سابق صدر محمود احمدی نژاد اور ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف محمد باقری کو بھی ہدف بنایا گیا۔ ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر علی شمخانی اور بحریہ کے کمانڈر علی رضا بھی ہدف تھے۔
برطانوی میڈیا نے بھی اسرائیلی حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ خامنہ ای کی لاش ملی ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کا دعویٰ ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای اور صدر مملکت پزشکیان خیریت سے ہیں، سپریم لیڈر جنگ کی کمانڈ کررہے ہیں۔
آیت اللّٰہ خامنہ ای کے دفتر کا کہنا ہے کہ دشمن نفسیاتی جنگ کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔
ایران کی قومی سلامتی کے سیکریٹری علی لاریجانی نے کہا کہ امریکیوں اور مجرم صیہونیوں کو پچھتانے پر مجبور کریں گے، نہ بھولنے والا سبق دیں گے۔
اس سے پہلے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے دعویٰ کیا تھا کہ ایسے اشارے ملے ہیں کہ ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای اب نہیں رہے ۔یہ بھی کہا کہ خامنہ ای کی موت کی تصدیق نہیں کی گئی، ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر بھی مارے گئے۔
خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کو تباہ اور سینئر جوہری حکام بھی مارے گئے۔ آئندہ دنوں ایران میں ہزاروں اہداف کو نشانہ بنایاجائے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کے کمپاؤنڈ پر 30 بم گرائے گئے۔
ایرانی حکام نے تردید کرتے ہوئے کہا کہ آیت اللّٰہ علی خامنہ ای ٹھیک اور محفوظ مقام پر ہیں۔