• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزارت صحت میں کام کرتے ہوئےکئی عالمی تنظیموں کےحوالے سے کچھ نئے انکشافات ہوئے ۔یہ ادارے زیادہ تر امداد دیتے ہوئے اپنے مقاصدکی تکمیل کرتے ہیں ۔مثال کے طور پرجنوری 2024ء میں جب صحت کے عالمی اداروں نےہمارے ڈیپارٹمنٹ کو TB اورHIVکے حوالے سے اگلے 3سال کیلئے280ملین ڈالر کی امداد دینا چاہی تو میں نے اس امداد کو لینے سے انکار کر دیاکیونکہ میری عادت تھی کہ میں جب کسی اہم میٹنگ کیلئے جاتا توہمیشہ اس میٹنگ کے مندرجات کے حوالے سے نوٹس تیار کر کے جاتا۔میں نے تیاری کے دوران پچھلے سال امداد کو خرچ کرنے کے حوالے سے چیک کیا تو پتا چلا کہ 20 فیصد اصل رقم سے Consultation Fee کی مد میں امداد دینے والا ادارہ پہلے ہی کاٹ چکا ہے ۔ پچھلے سال ایک ارب روپے کے جین ایکسپرٹ PCR ٹی بی کے ٹیسٹ کروائے گئے اور کہا یہ گیا تھا کہ ہروہ شخص جس کی کھانسی کو 14 دن سے زیادہ ہو جائیں اسے یہ ٹیسٹ جو کہ ٹی بی کی تشخیص کرتا ہے کروانا لازمی قرار دے دیاگیا۔جین ایکسپرٹ کی 80 مشینیں بھی کروڑوں روپوں میں خریدی گئیں جبکہ عموماً کمپنیاں یہ مشینیں ٹیسٹ کی کٹوں کے ساتھ فری میں رکھتی ہیں۔اسی طرح لا تعداد ریفریجریٹر بھی خریدے گئے اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہ امداد دینے والے ادارے مجبور کرتے ہیں کہ صرف انکی پسندیدہ اور من پسند کمپنیوں سے ہی یہ ٹیسٹ کٹس اور مشین خریدیں کوئی آڈٹ نہیں ہو۔جین ایکسپرٹ پی سی آر ٹیسٹ کی لاگت ایک ٹیسٹ پر 5 ہزار روپے آتی ہےجبکہ TB کی تشخیص عام ٹیسٹوں اورمشینوں سے ہو سکتی ہے ۔میں نے امداد دینے والے اداروں سے کہا کہ ہمیں یہ مشینیں اور ٹیسٹ کٹس نہیں چاہئیں بلکہ میرے ہر پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ سنٹر پر وہ عام سی سہولیات دے دیں جن سے TBکی تشخیص کا دائرہ دُوردراز پسماندہ علاقوں تک پھیل سکے ۔مثلاً خون کا CP.ESRٹیسٹ ،چیسٹ ایکسرے کی مشین ،اور بلغم میں TBکے بیکٹیریا کا پتا چلانے کیلئے عام سے مائیکرواسکوپ سے ٹی بی کی بیماریوں کی تشخیص آسانی سے ہوسکتی ہے۔ ان عام ٹیسٹوں سے جن کی مشینوں سمیت مالیت چند کروڑ روپے بنتی ہے ان سے ہم پنجاب بھر کے 98 فیصد ٹی بی کے مریضوں کی تشخیص آسانی سے کر سکتے ہیں اور 2فیصدوہ مریض جن کی تشخیص نہ ہوسکے ان کا جین ایکسپرٹ PCR ٹیسٹ کیا جاسکتا ہے۔اسی طرح میں نے ان سے پوچھا کہ آپ جو امداد دیتے ہیں کیا آپ حکومت سے پوچھتے ہیں کہ اس کا استعمال کیسے اور کہاں ہوا ۔ انہوں نے جواب دیا کہ یہ ہمارا نہیں بلکہ آپ کی حکومت کا کام ہے ۔ میں نے جواباً کہا کہ جب آپ امداد دے رہے ہیں تو آپ کو چیک رکھنا چاہیے کہ کیا امداد صحیح جگہ استعمال ہوئی ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ کس طرح ہمارے ملک میں صحت عامہ کی بہتری کیلئے دی جانے والی امداد کو غلط طریقے سے استعمال کیا جاتا ہے اور کس طرح محکمہ صحت کے افسران اس امداد پر کک بیکس لے کر عیاشی کرتے ہیں ۔بدقسمتی سے اس بیرونی امداد کی غلط تقسیم اورناقص پلاننگ کی وجہ سے وہ بیماریاں جن کیلئے امداد ہمیں دی جاتی ہے ،اُن کی شرح کم ہونے کے بجائے بڑھتی چلی جا رہی ہے ۔اسی طرح وہ امداد جو عموماً N.G.Oکے ذریعے دی جاتی ہے ،اُس میں بھی زیادہ تر خوبصورت آفس بنانے ، بھاری تنخواہیں اور خوبصورت لڑکیاں رکھ کر اُن کے اخراجات پر خرچ کردی جاتی ہے ۔اس وجہ سے عام آدمی اس امداد کی افادیت سے محروم ہی رہتا ہے ۔دنیا بھر میں گلوبل ادارے خدمت عامہ کیلئے فنڈز مہیا کرتے ہیں ۔پاکستان کو بھی یہی نامی گرامی ادارے امداد فراہم کرتے ہیںلیکن المیہ یہ ہے کہ ان اداروں کے ذمہ داران ہمارے ملک کو غریب اور پسماندہ سمجھ کر ہم سے کوئی مناسب رویہ نہیں اپناتے۔ایک ادارےکی طرف سے ایک مرحلے پر یہ پیشکش کی گئی کہ وہ 350بنیادی مراکز صحت میں EPI سینٹرز (جہاں چھوٹے بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگائے جاتے ہیں) کی اَپ گریڈیشن کیلئے فنڈز مہیا کریں گے۔ابتدائی طور پرانہوں نے کچھ سنٹرز کی تزئین و آرائش کروائی اور مجھے لاہور کے قریب واقع ایک بنیادی مرکز صحت شامو کی بھٹیاں کے افتتاح کیلئے بلایا گیا۔اس دن میرے ساتھ اس ادارےکے کنٹری ہیڈ بھی تھے، جب ہم نے وہاں جا کر دیکھا تو سپلائی باکسز سمیت سبھی اشیاء کی حالت قابل رحم تھی ۔ ہمیں 350کے قریب جوVaccination Carrier Box ،چادریں اور Cutters دیے گئے وہ سبھی ناقص اور گندے تھے ۔میں نے کنٹری ہیڈ سے شکوہ کیاکہ یہ کیا ہے۔ کیوں غیر معیاری اشیاء سپلائی کی گئی ہیں تو انہوں نے اشیاء کے نا قص ہونے کی شکایت پر معذرت کی اور وعدہ کیا کہ وہ یہ سب تبدیل کراکر دیں گے ۔اس کے علاوہ مزید 12 بنیادی مراکز صحت کو اَپ گریڈ کر نے میں مدد کریں گے ۔ انہوں نے موقع پر ہی تمام بنیادی مراکز صحت کو بہترین طریقے سے اَپ گریڈیشن کے آرڈرکیے اور کہا کہ آئندہ ایسی غلطی نہیں ہو گی ۔بنیادی طور پر جب ہم کسی سے مدد لیتے ہیں تو ہم ان لوگوں سے سر اٹھا کر بات بھی نہیں کرسکتے لیکن چونکہ میں بنیادی طور پر وطن پرست واقع ہوا ہوں،میری اپنی سوچ ہے کہ ہم کسی سے کوئی بھیک تو نہیں لے رہے ہوتے اس لیے کوئی بھی ادارہ یا فرد ہماری عزت نفس مجروح کئے بغیر ہم سے تعاون کرے ۔اس لیے مجھے کسی غیر ملکی این جی او یا حکومتی نمائندے سے بات کرنے میں کوئی جھجھک نہیں ہوتی ۔مجھے حق سچ کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتی اور میری کوشش ہمیشہ یہی رہی ہے کہ کسی ملکی یا غیر ملکی این جی اویا دیگر فلاحی ادارے کا دست نگر بننے کے بجائے عزت و احترام کو برقرار رکھتے ہوئے ہم چیئریٹی اداروں سے امداد لیں تاکہ وطن عزیز کی نیک نامی پر حرف نہ آئے۔

تازہ ترین