بھارتی پولیس نے آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے بونڈی بیچ پر دہشت گردی کے ملزم ساجد اکرم سے متعلق بیان جاری کر دیا ہے۔
آسٹریلوی میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست تلنگانہ کی پولیس نے حملہ آور ساجد اکرم کے بھارتی شہری ہونے کا اعتراف کیا ہے۔
بھارتی پولیس نے بیان جاری کر کے بتا دیا کہ ساجد اکرم حیدرآباد دکن سے تعلق رکھتا تھا، وہ 27 سال پہلے اسٹوڈنٹ ویزا پر آسٹریلیا پہنچا تھا، بعد میں اس کا ویزا ریزیڈنٹ ویزے میں تبدیل ہو گیا تھا۔
بھارتی پولیس نے بتایا ہے کہ ساجد اکرم نے 1998ء میں بھارت سے آسٹریلیا جانے کے بعد 6 بار بھارت کا دورہ کیا، ملزم کا بھارت میں اپنے خاندان سے رابطہ کم تھا۔
بھارتی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ساجد اکرم کے خاندان والوں کو ساجد کے انتہا پسند خیالات سے متعلق کوئی علم نہیں تھا، نہ ہی اس کے گھر والوں کو اس کے انتہاپسندی کی طرف مائل ہونے والے حالات کا علم تھا۔
بھارتی پولیس نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ سڈنی کے بونڈی بیچ پر حملہ کرنے والے باپ بیٹے جن عوامل کی وجہ سے شدت پسندی کی طرف گئے، اُن کا بھارت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
بھارتی پولیس کے مطابق بھارت چھوڑنے سے پہلے ساجد اکرم کا بھارت میں کوئی منفی ریکارڈ بھی نہیں تھا۔
آسٹریلوی میڈیا کے مطابق حملہ آور باپ بیٹے نے فلپائن جا کر فوجی طرز کی تربیت حاصل کی تھی۔
فلپائنی حکام کا کہنا ہے کہ ساجد اکرم بھارتی شہری کی حیثیت سے بیٹے نوید اکرم کے ساتھ یکم نومبر کو فلپائن پہنچا، دونوں 28 نومبر کو فلپائن سے واپس چلے گئے، مزید معلومات لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ادھر آسٹریلیا نے حملہ آور سے متعلق معلومات کے لیے بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی سے رابطہ کر کے تفتیش میں تعاون مانگ لیا۔
واضح رہے کہ 2 روز پہلے دونوں حملہ آوروں کی سڈنی کے ساحل پر یہودی تہوار کے ہزاروں شرکاء پر فائرنگ میں 10 سال کی بچی سمیت 15 افراد ہلاک ہوئے تھے۔