آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ8؍ ربیع الثانی 1441ھ 6؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
چند سال پہلے ایک غیر ملکی سفر کے دوران میری ملاقات ایک ڈچ شخص سے ہوئی دورانِ گفتگو اس نے بڑی حیرت سے پوچھا کہ میں ستر کے عشرے کے ابتدائی سالوں میں پاکستان گیا تھا۔ وہ تو بہت پر امن ، روشن خیال اور مہذب لوگوں کا ملک تھا۔ اسے یہ کیا ہو گیا؟ پھر وہ خود ہی مسکراتے ہوئے بولا ’’ اسے شائد ضیا الحق ‘‘ لاحق ہوگیا ہے(Perhaps Zia ul Haq happened to him)۔
اُس غیر ملکی ڈچ مسافر نے ایک فقرے میں ہماری تقریباََ چالیس سالہ تاریخ اور مصائب کو بیان کردیا تھا۔ واقعی اب 5جولائی 1977سے پہلے کا پاکستان ایک خواب لگتا ہے۔ وہ پاکستان ایک پر امن معاشرہ تھا۔ جہاں ہر سال ہزاروں کی تعداد میں غیر ملکی سیاح آتے تھے، لوگ ان کے ساتھ گھل مل جاتے تھے ۔ ذوالفقار علی بھٹو کشمیر ، فلسطین اور تیسری دنیا کے مظلوم عوام کے ہیرو تھے۔ لاہور میں دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس کے انعقاد نے پاکستان کو مسلم دنیا کا لیڈر بنا دیا تھا۔ جس سے سامراجی طاقتیں خوفزدہ تھیں۔ کیونکہ بقول ذوالفقار علی بھٹو’’ہاتھی(اس وقت کی امریکی ڈیموکریٹک حکومت کا پارٹی نشان )کی یادداشت بہت تیز ہوتی ہے وہ ابھی تک ویت نام ، فلسطین اور قبرص کے بارے میں ہماری پالیسیوں کو بھولا نہیں اور وہ ہمیں اس کی سزا دینا چاہتا ہے‘‘ پھر ایسا ہی ہوا پاکستان جو امن اور ترقی کے راستے پر گامزن ہوچکا تھا، اسے

1977کے عام انتخابات سے پہلے راتوں رات تشکیل پانے والے بھٹو مخالف سیاسی اتحاد کے ذریعے عدم استحکام کا شکار بنانے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ 1977کے عام انتخابات اس کے بعد ہونے والے عام انتخابات سے کہیں زیادہ شفاف تھے۔ جس کا اعتراف بھٹو مخالف سیاستدانوں نے خود کئی بار کیا ہے۔ لیکن پاکستان ، عالم ِ اسلام اور تیسری دنیا کو عظیم بھٹو کی قیادت سے محروم کرنے کے لئے ذوالفقار علی بھٹو کی فتح کو دھاندلی کا نام دیکر انہیں ایک سازش کے ذریعے اقتدار سے ہٹا دیا گیا۔ حالانکہ بھٹو پی این اے کا نئے انتخابات کا مطالبہ بھی مان چکے تھے۔ لیکن جنرل ضیاء الحق ایک بڑے سازشی مہرے کے طور پر سامراجی طاقتوں کے ساتھ مل چکا تھا۔ اپنی حکومت کے آخری ایّام کی ایک تقریر میں ذوالفقار علی بھٹو نے ایک تاریخی فقرہ کہا تھا جسے وقت نے سچ ثابت کردیا ۔ انہوں نے کہا کہ ’’ مجھے نہیں پتہ میرے بعد فرشتے آئیں گے یا راسپوتین ،راسپوتین زار روس کے آخری زمانے کا ایک پادری تھا۔ جو مذہب کے نام پر ہر طرح کی مکّاری اور عیاری کو جائز سمجھتا تھا۔ چنانچہ مذہب کے نام پر چلنے والی تحریک کے نتیجے میں ضیاء الحق برسرِ اقتدار آگیا یا بقول ڈچ سیاح ’’ پاکستان کو ضیاء الحق ، لاحق ہوگیا۔ ‘‘ اس نے صرف پاکستان کو ہی نہیں پوری دنیا خصوصاََ مسلم دنیا کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ اس نے مذہب کے نام پر جھوٹ اور منافقت کو رائج کیا ، اس نے ایک ریفرنڈم کرایا جس میں پوچھا گیا کہ کیا عوام اسلامی نظام کا نفاذ چاہتے ہیں اگر وہ ہاں کہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ لیا جائے گا کہ وہ جنرل ضیاء کو صدر منتخب کرنا چاہتے ہیں۔ (ہے کوئی اس سے بڑی غیر منطقی دلیل؟) اس نے ملک گیر عوامی جماعت پیپلز پارٹی کا زور توڑنے کے لئے اندرونِ سندھ علیحدگی پسندوں کو مضبوط کیا اور سندھ کے شہروں میں کئی فرقہ وارانہ اور لسانی گروہوں کی سرپرستی کی اس کے غیر جماعتی انتخابات نے قوم کو عمودی اور افقی ہر سطح پر تقسیم در تقسیم کردیا۔ ذات پات، خاندان برادری اور فرقہ واریت کو سیاست کی بنیاد بنادیا۔ مخالفین کو مذہب کے نام پر بدنام کرنے اور انتقام کا نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کردیا۔ اس کے دور میں پہلی مرتبہ فرقوں کے درمیان تصادم شروع ہوگئے ۔ سیاسی مخالفین کو سرِعام غیر انسانی سزائیں دی گئیں۔کرپشن کے نئے دروازے کھول دئیے گئے۔ اس نے ہر ممبر اسمبلی کو ترقیاتی فنڈ کے نام پر لاکھوں روپے دیکر ضمیر فروشی کو سیاست کا اور َ آٹھویں ترمیم کے ذریعے آمریت کو آئین کا حصّہ بنا دیا۔
جنرل ضیاء کو عالمی تاریخ بھی اس لئے معاف نہیں کرے گی کہ اس نے سوویت یونین کے خلاف امریکی بالا دستی کی جنگ میں ہراول دستے کے طور پر حصّہ لیکر جہاں پاکستان کو انتہا پسندی اور غارت گری کی دلدل میں پھینک دیا وہیں سوویت یونین کے زوال کے بعد پوری دنیا کو امریکہ کی یک طاقتی (Unipolar)دہشت گردی کے حوالے کردیا۔ جس کا سب سے زیادہ شکار مسلم ممالک ہی بنے جبکہ تیسری دنیا کے غیر مسلم ممالک بھی عدم استحکام کا شکار ہوگئے ۔ امریکہ کو اپنے نیوورلڈ آرڈر کو نافذ کرنے کے لئے کویت، عراق، افغانستان اور ایران سمیت دیگر خلیجی ممالک میں کھل کھیلنے کا موقع مل گیا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ 5جولائی 1977صرف پاکستان ہی نہیں پوری دنیا کے لئے ایک خوفناک دن ثابت ہوا۔ ضیاء الحق کے فلسفے اور عمل کو تاریخ نے اس طرح باطل ثابت کردیا ہے کہ آج اس کے پروردہ سیاست دان بھی اس کانام لینے کے لئے تیار نہیں۔