پاکستان پبلشرز اینڈ بک سیلرز کے تحت کراچی ایکسپو سینٹر میں جاری 5 روزہ کراچی عالمی کتب میلہ علم و آگاہی کے چاہنے والوں کی پیاس بجھاتا ہوا کامیابی کے ساتھ اختتام پریر ہو گیا۔
کراچی عالمی کتب میلے نے ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے، ایک محتاط اندازے کے مطابق ساڑھے 5 لاکھ افراد نے 5 روزہ میلے میں شرکت کی، جن میں 300 سے زائد اسکولز، کالج، جامعات اور مدارس کے طلبہ بھی شامل تھے۔
کراچی ورلڈ بک فیئر کا افتتاح صوبائی وزیرِ تعلیم سید سردار علی شاہ نے کیا، اس کتب میلے کے پانچوں روز سیاسی، ادبی، سماجی اور صحافتی شخصیات کی آمد رہی۔
وفاقی وزیرِ تعلیم و تربیت خالد مقبول صدیقی، سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی، رکنِ صوبائی اسمبلی عادل عسکری، جماعتِ اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر، ادیبہ ڈاکٹر فاطمہ حسن، نیشنل بک فاؤنڈیشن کے مینیجنگ ڈائریکٹر کامران جہانگیر، ریجنل ڈائریکٹر فیاض، نذیر حسین یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مسرور احمد شیخ، رکنِ اسمبلی معید انور، ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن کراچی ارشد بیگ سمیت دیگر سیاسی، سماجی، ادبی اور تعلیمی شخصیات نے شرکت کی۔
عالمی کتب میلے میں ملکی اور 17 غیر ملکی پبلشرز و بک سیلرز سمیت 329 اسٹالز لگائے گئے تھے، آخری روز پبلشرز اور بک سیلرز کی جانب سے کتب پر 30 سے 70 فیصد تک رعایت دی گئی۔
کتب میلے کی انتظامیہ کے مطابق اگلے سال 2026ء میں 5 روزہ کراچی عالمی کتب میلہ 17 دسمبر 2026ء سے منعقد کیا جائے گا۔
آخری روز نذیر حسین یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مسرور احمد شیخ نے بھی کتب میلے کا دورہ کیا۔
اس موقع پر اِن کا کہنا تھا کہ نوجوان نسل کو اسلامی اقدار اور روایات کو فروغ دینے کے لیے ایسی سرگرمیوں کا انعقاد ضروری ہے، یہ کتب میلہ صرف ایک سرگرمی نہیں بلکہ پاکستان کی پہچان بن چکا ہے، اِسے اسی آب و تاب سے روشن رہنا چاہیے، انٹرنیٹ اور موبائل کے اس دور میں اتنی بڑی تعداد میں کتب میلے میں لوگوں کی آمد ایک اچھے مستقبل کی نوید سنا رہی ہے۔
پاکستان پبلشرز اینڈ بک سیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین کامران نورانی اور کراچی کتب میلے کے کنوینر وقار متین نے کتب میلے میں عوام کی غیر معمولی دلچسپی اور بھرپور شرکت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ میلہ شہرِ قائد میں مطالعے کے فروغ اور علمی سرگرمیوں کی بحالی کا مظہر ہے۔
اس موقع پر کتب میلے کے ڈپٹی کنوینر سید ناصر حسین، نائب چیئرمین ندیم مظہر، احسن جعفری، محمد اقبال غازیانی، اقبال صالح محمد، ندیم اختر، سلیم عبدالحسین، ارسلان متین خان، راشد الحق اور شیخ جمال الدین بھی موجود تھے۔
کراچی کتب میلے کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نوجوانوں اور بچوں کی بڑی تعداد کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ آج بھی کتاب سے رشتہ مضبوط ہے، ڈیجیٹل دور میں کتابوں کے اس قدر شاندار استقبال نے ان کی توقعات سے بڑھ کر نتائج دیے ہیں۔
منتظمین نے حکومتِ سندھ، کراچی انتظامیہ، سیکیورٹی اداروں، پبلشرز اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تمام اداروں کے تعاون سے کتب میلہ خوش اسلوبی سے منعقد ہوا۔
انتظامیہ کے مطابق آئندہ برس کراچی کتب میلے کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ علمی و ادبی سرگرمیوں کو مزید فروغ دیا جا سکے۔