• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دھڑا دھڑ شادیاں ہو رہی ہیں، لگاتار دعوت نامے مل رہے ہیں، کچھ میں شریک ہو جاتے ہیں، کچھ میں نہیں ہو پاتے، جن شادیوں میں شریک ہوتے ہیں ان میں اکثر کوئی معاشرتی ذمہ داری نبھا رہے ہوتے ہیں، بہت کم ایسی شادیاں ہوتی ہیں جن میں شوق سے شرکت کی جاتی ہے۔ اس شوق کے پیچھے عموماً ایک وجہ ہوتی ہے، اور وہ ہے تعلق کی لمبان۔ پچھلے ہفتے ایک’’شوق‘‘والی شادی میں شرکت کا دعوت نامہ موصول ہوا، مصدق کے بیٹے کی شادی تھی، یعنی سینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک کے بیٹے کی۔

پچیس تیس برس قبل جب دلہا پیدا ہوا تو اس کا نام رکھنے کے مرحلے میں ہم بھی شامل تھے۔ بچے کا نام ایسا رکھنا تھا جو مغرب میں بھی کوئی دشواری نہ پیدا کرے، کیونکہ بچے کی والدہ امریکا میں پلی بڑھی تھیں، اور مصدق بھی ان دنوں امریکا میں پڑھا رہے تھے۔ بہرحال کچھ دن گزر گئےبچے کا نام طے نہیں ہو پا رہا تھا۔ ایک دن مصدق نے بتایا کہ میں نے ’’ملان‘‘نام تجویز کیا ہے مگر گھر کے بڑے نہیں مان رہے ان کا کہنا ہے کہ نام بامعنیٰ ہونا چاہیے، ملان کیا نام ہوا۔ قصہ کچھ یوں تھا کہ انہی دنوں میں نے اور مصدق نے ایک ناول نیا نیا پڑھا تھا، ’’لائف از الس وئیر‘‘جس کا مصنف معروف چیک لکھاری ملان کندیرا تھا، وہیں سے یہ نام ان کے ذہن میں آیا تھا۔ خیر جب انہوں نے گھر کے بزرگوں کا اعتراض بتایا تو میں نے برجستہ عرض کی کہ آپ انہیں بتائیں کہ یہ دراصل فارسی لفظ ہے’’میلان‘‘ جس کا معنیٰ ہے ’’رجحان‘‘۔ اس طرح بزرگوں کا اعتراض دور کر دیا گیا اور بچے کا نام میلان رکھ دیا گیا۔ پچھلے ہفتے میلان کی شادی تھی۔ شوق سے شرکت تو بنتی تھی۔

سائنس وقت کو ناپتی ہے، فلسفہ اس پر سوال اٹھاتا ہے، مذہب وقت کے گرد تقدس کا حالہ تخلیق کرتا ہے اور ادب اسے ’’ہیومنائز‘‘ کرتا ہے۔ ہم جیسے وقت کو بس ایک نظر سے دیکھتے ہیں، ’’میں تو منیرؔ آئینے میں خود کو تک کر حیران ہوا...یہ چہرہ کچھ اور طرح تھا پہلے کسی زمانے میں‘‘ یا یہ کہ’’جنہیں ہم دیکھ کر جیتے تھے ناصر...وہ لوگ آنکھوں سے اوجھل ہو گئے ہیں۔‘‘ یا بہ قول جونؔ ایلیا ’’اور کیا چاہتی ہے گردشِ ایام کہ ہم...اپنا گھر بھول گئے انکی گلی بھول گئے۔‘‘ اسی طرح بچے بڑے ہو جاتے ہیں تو کبھی یکدم خیال آتا ہے، کتنا وقت گزر گیا۔ دیکھیے دماغ کیسے بھٹک جاتا ہے، شاہراہ چھوڑ کر پگ ڈنڈیوں پر اتر جاتا ہے، ارادہ یہ تھا کہ سیدھا سیدھا 2025ءکا جائزہ لیا جائے،’’کیا کھویا کیا پایا‘‘کی فہرست بنائی جائے، مختلف شعبوں میں حکومت کی کارکردگی کا گوشوارہ بنائیں، مملکت کے سفر میں نشیب و فراز کا احاطہ کریں، اور بس۔ یعنی جو کام ہر سال کرتے ہیں وہی کریں، یعنی وہی کالم لکھیں جو ہر سال لکھتے ہیں۔ شکر ہے، خیال کی رو نے ہمیں اس کارِ بے لذت سے بچا لیا۔ ویسے تو زندگی خود کو دہراتے ہوئے ہی گزر جاتی ہے، مگر جہاں بس چلے اجنبی منظروں کی کھوج میں لگے رہنا چاہئے۔ اگر گزرے سال کو مدنظر رکھیں تو کیا خیال ہے 2026ء کیسا گزرے گا؟ اس پر بات کرتے ہیں۔ پوری دنیا اس وقت مصنوعی ذہانت کی زد میں ہے اور صاف نظر آ رہا ہے کہ یہ معاملہ اگلے سال مزید آگے بڑھے گا۔ اے آئی کے پھیلنے کے اثرات ہمہ گیر اور دور رس ہیں، اولادِ آدم کی حیثیت از سرِ نو طے ہونے لگی ہے، کیا حضرتِ انسان اس کرہ کی سب سےذہین مخلوق ہے؟ اس حوالے سے نئے سوال کھڑے ہونے کو ہیں۔ بہرحال اے آئی کے دو اثرات تو بالکل سامنے نظر آ رہے ہیں۔ بے روزگاری بڑھے گی، امیر امیر تر ہو رہے ہیں، اگلے سال یہ عمل اور تیز ہو گا، اے آئی صلاحیت پر مٹھی بھر لوگوں کا قبضہ ہے جو اس سال مزید امیر ہو جائیں گے۔ یہ ایک سیدھا سا کلیہ ہے، جب ایک شخص ارب پتی ہوتا ہے تو لاکھوں کروڑوں انسانوں کے وسائل سکڑتے ہیں۔ آپ اس سے اندازہ لگائیں کہ دنیا میں ساٹھ ہزار لوگوں کے پاس چار ارب انسانوں سے زیادہ دولت ہے۔ یہی معاملہ ملکوں کا ہے، امیر ملک امیر تر ہوں گے اور غریب ملک مزید غربت کا شکار ہوں گے۔ جو ملٹی پولر دنیا ابھر رہی ہے اندیشہ ہے کہ اس میں جنگیں زیادہ ہوں گی، غربت بڑھے گی۔ مغربی ممالک کی عمومی فضا اور قوانین ہجرت کو مزید مشکل بنائیں گے، اور ترسیلاتِ زر پر بھروسہ کرنیوالے ممالک میں مزید لوگ خطِ غربت سے نیچے لڑھک جائیں گے۔ کالم کا بقیہ حصہ ’’مثبت رپورٹنگ‘‘کی شدید خواہش کے پیشِ نظر لکھا جائیگا۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے اگلا سال ہمارے خوابوں کی تکمیل کا سال ہو گا، آئین کی حرمت بحال کر دی جائیگی، عوامی نمائندگان کی بالا دستی تسلیم کر لی جائیگی، یہ ملک اشرافیہ کے جبڑے توڑ کر آزاد ہو جائیگا، ریاست دس بارہ کروڑ شہریوں کا ہاتھ پکڑ کر غربت کی لکیر سے اوپر کھینچ لے گی، کروڑوں بچے مکتب کا رخ کرینگے، انصاف کی خرید و فروخت کا دھندہ ٹھپ ہو جائیگا، نہ کوئی جج بکے گا نہ کوئی وکیل گردی ہو گی، تھانوں میں ہر شہری کا احترام ہو گا، پولیس ناکوں پر موٹر سائکلوں کےبجائےبڑی بڑی گاڑیوں کو روکا کرے گی، بیٹیوں کو جائداد میں ان کا حصہ ملنا شروع ہو جائیگا، بلاسفمی گینگ پکڑا جائیگا، اور صحافی کا قلم بے زنجیر کر دیا جائیگا۔ فیضؔ صاحب یاد آگئے، فرماتے ہیں’’یوں نہ تھا...میںنے فقط چاہا تھا یوں ہو جائے۔‘‘

تازہ ترین