حالیہ برسوں میں چند پاکستانی فلمیں اگرچہ بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں، تاہم یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ’ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں‘۔ البتہ ایک میدان ایسا ہے جہاں پاکستان نے مضبوط قدموں کیساتھ اپنی موجودگی منوائی، اور وہ ہے فیچر ڈاکومینٹری۔ فیچر ڈاکیومینٹری سے مراد ایسی طویل دستاویزی فلم، جسکا دورانیہ ساٹھ منٹ یا اس سے زائد ہو، جو سنیما اسکرین یا بین الاقوامی فلم فیسٹیولز میں نمائش کے معیار پر پوری اترتی ہو، اور محض معلومات نہیں بلکہ ایک گہرا فکری و جمالیاتی تجربہ پیش کرے۔ اس صنف میں پاکستان کے جو چند نمایاں نام ابھر کر سامنے آئے ہیں، ان میں سرفہرست نام ’’جواد شریف فلمز‘‘ کا ہے۔ جواد شریف فلمز نے یکے بعد دیگرے نہ صرف اچھوتے بلکہ بعض اوقات ممنوع اور حساس سمجھے جانیوالے موضوعات پر اعلیٰ فنی معیار کیساتھ دستاویزی فلمیں بنا کر خود کو ایک عالمی سطح کے فلمساز کے طور پر منوایا ہے۔ آج یہ حقیقت کسی تعارف کی محتاج نہیں کہ جواد شریف فلمز کے بینر تلے بننے والی دستاویزی فلموں کی دنیا کے سو سے زائد ممالک میں نمائش ہو چکی ہے تقریباً ڈھائی سو سے زیادہ بین الاقوامی فلم فیسٹیولز کا حصہ بنکر سینکڑوں بین الاقوامی ایوارڈز اپنے نام کر چکی ہیں۔ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہونے کے باوجود کہ پاکستان جیسے ملک میں دستاویزی فلموں کا دائرۂ اثر محدود ہے، اور نہ ہی اس صنف کو وہ قدر حاصل ہے جسکی یہ حق دار ہے، جواد شریف نے ایک دشوار اور غیر مقبول راستہ اختیار کیاـ یہ انتخاب محض پیشہ ورانہ نہیں بلکہ فکری اور اخلاقی وابستگی کا اظہار ہے۔ سیکنڈز پر مشتمل ریلز کے اس عہد میں، جہاں ناظرین کا صبر اور توجہ دونوں سمٹ کر رہ گئے ہیں، وہاں عموماً دستاویزی فلموں کو بھی پندرہ سے بیس منٹ تک محدود کر دیاگیا ہے۔ تاہم جواد شریف فلمز کی زیادہ تر ڈاکیومینٹریز ساٹھ منٹ یا اس سے زائد طویل ہیں اوردیکھنے والے کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہیں،وجہ یہ ہے کہ یہ فلمیں روایتی دستاویزی اسلوب سے ہٹ کر تخلیق کی گئی ہیں۔ یہاں فوٹیج کے پس منظر میں چلتی ہوئی وائس اوور یا نریشن پر انحصار نہیں کیا جاتا، بلکہ فیچر فلم کی طرح مکمل اسکرپٹ، مربوط پلاٹ، گہری کردار نگاری، بامعنی پس منظر موسیقی، نفیس ایڈیٹنگ اور حساس کیمرہ ورک کے ذریعے کہانی خود بولتی ہے۔ ہر فلم میں آپ کرداروں کے سنگ جیتے ہیں، کبھی ان کیساتھ ہنستے ہیں تو کبھی انکے دکھوں پر آبدیدہ ہو جاتے ہیں ـ یہ فنی پختگی اور تخلیقی تسلسل محض ایک فرد کا کمال نہیں، بلکہ’ جواد شریف فلمز‘ کی پوری ٹیم کی مشترکہ محنت، فہم اور وابستگی کا نتیجہ ہے، جو دستاویزی فلم کو محض صنف نہیں بلکہ ایک سنجیدہ فن سمجھتی ہے۔ جواد شریف فلمز کی تمام دستاویزی فلمیںایسے موضوعات کو سامنے لاتی ہیں جو بظاہر ہماری آنکھوں کے سامنے موجود ہوتے ہیں مگر جنہیں ہم دیکھنے، سمجھنے اور محسوس کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ یہ فلمیں ہمیں محض حقائق سے نہیں، اپنی اجتماعی بے حسی سے بھی روبرو کرتی ہیں۔ چاہے’’انڈس بلوز‘‘میں ہمارے قدیم اور معدوم ہوتے ہوئے موسیقی کے آلات کا نوحہ ہو، یا ’’کے ٹو اینڈ اِن وزیبل مین‘‘ میں پہاڑوں کے سائے تلے پسنے والے پورٹرز کی کربناک زندگی۔ کہیں ’’بھنشالی‘‘ کے ذریعے کراچی میں آباد بنگالی برادری کی بے وطنی کے زخم دنیا کے سامنے کُھلتے ہیں، تو کہیں’’دی لوسنگ سائیڈ‘‘ میں سندھ کی ہندو بچیوں اور عورتوں کے اغوا اور جبری شادیوں پر فلم بنا کر انسانی حقوق کےنعروں پر سوالیہ نشان ثبت کر دیتے ہیں۔اسی تسلسل میں، لاہور کی دم گھونٹتی فضا پر ’’دی کَلر آف اسموگ‘‘ تخلیق کر کے ماحولیاتی بے حسی کو آئینہ دکھانے کی سعی ہو ، یا مرتے ہوئے انڈس ڈیلٹا کی کہانی ’’ناتاری‘‘ میں دکھا کر یہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ بینر محض سماجی ناہمواریوں ہی نہیں، بلکہ موسمیاتی وماحولیاتی تبدیلیوں کے المیوں کا بھی گہرا ادراک رکھتا ہے۔جواد شریف فلمز کی حالیہ دستاویزی فلم’’موکلانی ـ دی لاسٹ موہاناز‘‘نے جیکسن وائلڈ میڈیا ایوارڈ (نیچر آسکر) حاصل کر کے تاریخ رقم کردی۔موکلانی منچھر جھیل کی قدیم آبادی پر بنائی گئی دستاویزی فلم ہے۔اب اس جھیل کا پانی زہریلا ہو چکا ہے اور ہر جاندار کی ہلاکت کا باعث بن رہا ہے ـ افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس جھیل کا زہر آلود ہونا موسمیاتی تبدیلی یا قدرتی آفت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک غیر معیاری پروجیکٹ، ہماری غفلت، بے حسی اور بدانتظامی کا شاخسانہ ہے۔ جس میں حکومت اور بڑے ادارے پوری طرح ملوث تھے۔ ـ جواد شریف فلمز نے منچھر جھیل کے المناک انجام کو موکلانی کا نام دیا ـ ’’موکلانی ‘‘ یعنی الوداع، یہ منچھر جھیل کے سینے پر ہزاروں سال سے تیرتی کشتیوں میں بسنے والی موہانا قوم کی کہانی ہے ـ جہاں صرف دو دہائی قبل تقریباً چار سو سے زائد خاندان کشتیوں پر آباد تھے اور اب محض چالیس رہ گئے ہیں۔ موکلانی ایک ایسی کہانی جو پانی پر لکھی گئی اور پانی ہی کے ساتھ مٹتی جا رہی ہے۔ یہ جھیل، جو کبھی زندگی، رنگ اور روایت کا گہوارہ تھی، ایک قدیم تہذیب تھی ، آلودگی کے زہر سے آہستہ آہستہ دم توڑ رہی ہے۔ اس کہانی کے کردار وہاں کے قدیم باشندے ہیں ـ جس طرح مچھلی بن پانی تڑپتی ہے اسی طرح جھیل کے قدیم باشندے’’موہاناز‘‘ کی زندگیاں بھی پانی سے وابستہ ہیں ـ خشکی پر انکا دم گھٹتا ہے’’موکلانی ‘‘ زہر سے آلودہ ڈوبتی ہوئی دنیا میں ٹھہرنے یا سب کچھ چھوڑ دینے کے بیچ معلق خاندانوں کی کہانی ہے۔نیشنل جیو گرافک کے تعاون سے بننے والی یہ دستاویزی فلم پانچ سال میں تیار ہوئی اور ابھی ایڈیٹنگ کے آخری مراحل میں ہے۔ اس بار جواد شریف فلمز نے موکلانی کو پاکستان کے سنیما گھروں میں ریلیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو خوش آئند ہے۔ اس دستاویزی فلم کو کامیاب بنانا پاکستانی عوام کی ذمہ داری ہے۔