• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نئے سال کے آغاز پر ہم پاکستان کی جانب سے بھارت کے عوام کو امن، استحکام اور خوشحالی کی دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ یہ پیغام نہ کمزوری کی علامت ہے، نہ جذباتی نعرہ، بلکہ حقیقت پسندی، وقار اور خیرسگالی پر مبنی ایک پُراعتماد اپیل ہے۔اگر ہمارے دونوں ممالک کے درمیان دوستی ہونی ہے تو وہ سچی، بامعنی اور خلوص پر مبنی ہونی چاہئے،علامتی، مشروط یا منافقانہ نہیں۔ دوہرا معیار دوستی کو پنپنے نہیں دیتا، اور بداعتمادی کو ریاستی پالیسی بنانے سے امن قائم نہیں رہ سکتا۔آج پاکستان ایک مضبوط، مستحکم اور مکمل طور پر باصلاحیت ملک ہے،اپنی خودمختاری میں محفوظ اور اپنے دفاع میں پُراعتماد۔ یہ قوت جارحیت کیلئے نہیں بلکہ استحکام اور توازن کیلئے ہے۔ اسی طرح یہ اس خطے کی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ نہ بھارت پاکستان کو فتح کر سکتا ہے اور نہ پاکستان بھارت کو، بغیر اسکے کہ دونوں کو تباہی کا سامنا کرنا پڑے۔ ایسی جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہوگا،صرف ناقابلِ تلافی نقصان۔پھر کیوں ہم اپنی توانائیاں فرضی نفرتوں اور موروثی دشمنیوں پر ضائع کریں؟ کیوں ایک تلخ ماضی کے قیدی بنے رہیں، جب مستقبل ہم سے بصیرت، تحمل اور دانش کا تقاضا کرتا ہے؟آئیے، اس نئے سال کو حقیقی تجدید کا لمحہ بنائیں۔پرانا رخصت ہو، نیا وارد ہو،برف پر خوشی کی گھنٹیاں بجیں؛یہ سال جا رہا ہے، اسے جانے دو؛جھوٹ کو رخصت کرو، سچ کو خوش آمدید کہو۔آئیے حقیقی امن کا انتخاب کریں،ایسا امن جو باہمی احترام اور اسٹریٹجک توازن پر قائم ہو۔ خوف کی جگہ اعتماد، اور اشتعال کی جگہ مکالمہ لے۔ دونوں قومیں اتنی محفوظ محسوس کریں کہ مستقل محاذ آرائی سے ایک قدم پیچھے ہٹ کر اپنی بے پناہ صلاحیتوں کو انسانی ترقی کیلئے بروئے کار لا سکیں۔جھوٹی انا، خون اور نسب کے غرور کو رخصت کرو،شہری الزام تراشی اور عناد کو ختم کرو؛سچ اور انصاف کی محبت کو خوش آمدید کہو،مشترکہ بھلائی کی محبت کو جگہ دو۔پرانی مہلک بیماریوں کی صورتیں مٹا دو،سونے کی تنگ نظری پر مبنی ہوس کو رخصت کرو؛ہزاروں پرانی جنگوں کو دفن کرو،اور ہزار سالہ امن کو خوش آمدید کہو۔آئیے ہم اپنے عوام کے اصل دشمنوں کے خلاف جنگ لڑیںغربت، بھوک، بیماری، جہالت اور عدم مساوات کیخلاف۔ ایک ایسے برصغیر کا تصور کریں جو ایٹمی تصادم کے خدشے کی علامت نہ ہو بلکہ تہذیب، تجارت، ثقافت اور انسانیت کا گہوارہ ہو۔بھارت اور پاکستان کو صرف ایک دہائی کے حقیقی، مسلسل اور مخلص امن کی ضرورت ہے تاکہ جنوبی ایشیا دنیا کے طاقتور ترین معاشی اور ثقافتی خطوں میں تبدیل ہو سکے۔ شرط صرف یہ ہے کہ امن سچا، مستقل اور باہمی ہوبالکل ویسا جیسا آج یورپ کے ممالک کے درمیان قائم ہے۔آخر بھارت اور پاکستان کب تک ایک منقسم کوریا کی طرح زندگی گزاریں گے،ہمیشہ الرٹ، بداعتماد اور دشمنی میں منجمد؟ ہم متحد یورپ کی طرح کیوں نہیں رہ سکتے؟ وہ یورپ جو صدیوں کی جنگوں اور دو عالمی جنگوں کے بعد عقل و شعور کی طرف آیا، اور آج امن، اتحاد اور مشترکہ خوشحالی کے ثمرات سمیٹ رہا ہے۔بھارت اور پاکستان دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں۔ ہمارے درمیان جنگ بہادری نہیں بلکہ اجتماعی خودکشی ہوگی۔ حتیٰ کہ’’محدود جنگ‘‘کا تصور بھی ایک خطرناک فریب ہے۔ کوئی بھی تصادم ایسی تباہی لا سکتا ہے جو نہ صرف ہماری زمینوں کو بلکہ آنیوالی نسلوںکے مستقبل کو بھی زہر آلود کر دے۔لہٰذا امن کوئی کمزوری نہیں، بلکہ سب سے اعلیٰ درجے کی اسٹریٹجک دانشمندی ہے۔مسائل ہمیشہ موجود رہیں گے،کوئی بھی ہمسایہ اختلافات کے بغیر نہیں ہوتا۔ مگر تہذیب اس وقت ترقی کرتی ہے جب امن کو اشتعال پر، اور مکالمے کو ضد پر ترجیح دی جائے۔آئیے اس نئے سال کا آغاز ایک سادہ مگر عظیم عزم کے ساتھ کریں:بھارت اور پاکستان کے کروڑوں عوام کی دوستی زندہ باد۔احترام، اعتماد اور ایک پُرامن و خوشحال سال کی دلی تمنا کے ساتھ۔

تازہ ترین