پاکستان اس وقت جس افسوسناک بحران سے گزر رہا ہے، وہ صرف ادویات کی قلت، بستروں کی کمی یا ہسپتالوں کی خستہ حالی تک محدود نہیں۔ اصل بحران اعتماد، تسلسل اور ریاستی ذمہ داری کے فقدان کا ہے۔ صحت کا نظام کسی فیکٹری کی طرح نہیں چلایا جا سکتا جہاں محض اخراجات کم کر کے منافع بڑھا لیا جائے۔ یہ ایک انسانی نظام ہے، جسکی بنیاد استحکام، تجربے اور پیشہ ورانہ تحفظ پر ہوتی ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں پالیسی سازوں نے صحت کو ایک انتظامی مسئلہ سمجھ کر ایسے فیصلے کیے جنہوں نے پورے نظام کو کمزور کر دیا۔حکومت پنجاب نے مالی بحران اور فنڈز کی کمی کے نام پر صحت کے متعدداداروں کو نجی شعبے کے حوالے کر دیا ہے۔مارچ 2025ءمیں صرف راولپنڈی ڈویژن کے 90عدد DHQ,s اور RHQ,s نجی شعبے کے حوالے کر دیئےگئے ہیں۔ مئی 2025ءمیں صوبہ پنجاب کے مزید 1000 RHQ,s آؤٹ سورس کر دیئے گئے۔ہزاروں ڈاکٹرز،لیڈی ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اور دیگر سٹاف کوملازمت سےبرخاست کردیاگیا۔پاکستان میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران ڈاکٹروں کی کنٹریکٹ پر بھرتی کو اصلاحات کا نام دیا گیا۔ دلیل یہ دی گئی کہ مستقل ملازمت سستی، کام چوری اور نااہلی کو جنم دیتی ہے، جبکہ کنٹریکٹ کارکردگی بہتر بناتا ہے۔ مگر یہ دلیل دنیا کے کسی بھی کامیاب صحت نظام میں درست ثابت نہیں ہوتی۔ حقیقت یہ ہے کہ کنٹریکچوئل نظام نے نہ ڈاکٹروں کی کارکردگی بہتر کی، نہ مریضوں کو بہتر علاج ملا، بلکہ اس نے پورے نظام کو عدم استحکام، خوف اور وقتی فیصلوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک پر نظر ڈالیں تو ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔ برطانیہ کا نیشنل ہیلتھ سروس (NHS) مکمل طور پر پبلک سیکٹر پر مبنی ہے، جہاں ڈاکٹر مستقل ملازم ہوتے ہیں، واضح کیریئر اسٹرکچر، تربیت، تحقیق اور ترقی کے مواقع رکھتے ہیں۔ وہاں کنٹریکٹ ضرور ہوتے ہیں، مگر وہ مستقل نظام کے اندر، شفاف اور طویل مدتی ہوتے ہیں، نہ کہ ہر دو یا تین سال بعد نوکری کے خاتمے کا خوف سر پر سوار رہے۔اسی طرح کینیڈا، جرمنی، فرانس اور جاپان میں صحت ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ڈاکٹر کو وقتی مزدور نہیں بلکہ نظام کا ستون مانا جاتا ہے۔ ان ممالک میں اگر احتساب ہے تو وہ ادارہ جاتی ہے، کسی فرد کی معاشی غیر یقینی پر مبنی نہیں۔ وہاں کوئی بھی حکومت یہ دعویٰ نہیں کرتی کہ ڈاکٹر کو غیر محفوظ بنا کر نظام بہتر ہو جائیگا۔اسکے برعکس پاکستان میں کنٹریکچوئل بھرتی نے ایک عجیب نفسیاتی کیفیت کو جنم دیا ہے۔ جب ایک ڈاکٹر کو معلوم ہو کہ اسکا مستقبل فائل، رشوت اور ایک دستخط یا ایک سیاسی فیصلے سے جڑا ہے تو وہ نہ تحقیق کرئیگا، نہ نظام سازی میں حصہ لے گا، نہ ہی طویل المدت ذمہ داری قبول کرئیگا۔ وہ صرف آج بچانے کی فکر کرئیگا، کل کی نہیں۔ یوں تجربہ ضائع ہوتا ہے، تسلسل ٹوٹتا ہے اور مریض اس کا خمیازہ بھگتتا ہے۔
یہ مسئلہ صرف ڈاکٹروں تک محدود نہیں، بلکہ یہ صحت کی نجکاری کے بڑے منصوبے کاحصہ ہے۔پاکستان میں ہسپتالوں کی نجکاری کو اصلاحات کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ حقیقت میں یہ ریاستی ذمہ داری سے فرار ہے۔ دنیا میں نجی شعبہ صحت میں معاون کردار ادا کرتا ہے، مگر ریاستی نظام کا متبادل نہیں بنتا۔ امریکہ جیسے ملک میں جہاں نجی صحت کا نظام غالب ہے، وہاں علاج مہنگا ترین ہے اور کروڑوں لوگ بنیادی صحت سے محروم ہیں۔ یہی ماڈل اگر پاکستان میں نافذ کیا گیا تو نتائج کہیں زیادہ تباہ کن ہونگے۔برطانیہ، اسکاٹ لینڈ اور ناروے جیسے ممالک نے نجکاری کے تجربات کے بعد دوبارہ پبلک / سرکاری کنٹرول مضبوط کیا، کیونکہ انہیں احساس ہوا کہ صحت کو منافع کی منڈی بنانا انسانی اقدارکیخلاف ہے۔ ان ممالک میں ہسپتال ریاست کے پاس رہے، انتظام بہتر کیا گیا، احتساب مضبوط کیا گیا، مگر نظام کو بیچ نہیںدیا گیا۔پاکستان میں نجکاری کا مطلب یہ لیا جا رہا ہے کہ ہسپتال کارپوریشن بن جائے، ڈاکٹر کنٹریکٹ پر آ جائیں اور مریض گاہک بن جائیں۔ یہ تصور نہ صرف غیر انسانی ہے بلکہ عملی طور پر ناکام بھی ہے۔
ایک غریب ملک میں جہاں اکثریت پہلے ہی مہنگائی سے پس رہی ہے، صحت کو بازارکے حوالے کرنا ایک سماجی ناانصافی ہے۔یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ صحت کا نظام صرف ڈاکٹروں سے نہیں چلتا، مگر ڈاکٹر اس کا مرکزی ستون ضرور ہیں۔ اگر اسی ستون کو غیر محفوظ کر دیا جائے تو پوری عمارت لرزنے لگتی ہے۔ دنیا میں کہیں بھی صحت کے نظام کو ڈاکٹروں کی بے یقینی پر استوار نہیں کیا گیا۔اصل اصلاحات کا راستہ یہ ہے کہ پبلک ہیلتھ سروس کو مضبوط کیا جائے، مستقل بھرتیاں ہوں، شفاف احتساب ہو، کارکردگی کے واضح پیمانے ہوں اور سیاست کو انتظامیہ سے الگ رکھا جائے۔
نجی شعبہ معاون ہو سکتا ہے، مگر ریاستی ذمہ داری کا نعم البدل نہیں۔اگر پاکستان نے صحت کو اسی طرح کنٹریکٹ، نجکاری اور وقتی فیصلوں کے حوالے کیے رکھا تو یہ محض نظام کا نہیں بلکہ انسانی جانوں کا بحران بن جائے گا۔ صحت کو کنٹرول نہیں، اعتماد سے چلایا جاتاہےاور اعتماد خوف میں نہیں، تحفظ میں پروان چڑھتا ہے۔خدارا مریضوں کی بہتری اور ڈاکٹروں کی صلاحیتوں کے حصول کیلئے برق رفتار اقدامات کئے جائیں۔