نیا سال جن حالات میں شروع ہوا ہے، انہیں دیکھتے ہوئے یہ خدشہ بے بنیاد نہیں کہ اس کے دامن میں دنیا کیلئے امن و عافیت کی ٹھنڈی ہوائیں نہیں بلکہ جنگ و جدل کے شعلوں کے مزید بھڑکنے کے اندیشے ہیں۔ دو سال میں لاکھوں ہلاکتوں کا سبب بننے والی روس اور یوکرین کی جنگ بند ہوگی یا اس کا دائرہ دوسرے مغربی ملکوں تک پھیل جائیگا، اس بارے میں قطعیت سےکچھ نہیں کہا جاسکتا۔تاہم گریٹر اسرائیل کے حوالے سے صہیونی حکمرانوں کے علانیہ عزائم کے سبب شرق اوسط میں پہلے ہی سے جاری خوں ریزی اور بدامنی کے نئی انتہاؤں تک پہنچ جانے کے امکانات بہت واضح ہیں ۔غزہ میں خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر حماس کو غیر مسلح کرنے کی امریکی سرپرستی میں امکانی کوششیں امن کی جانب پیش قدمی کے بجائے فلسطینی مزاحمت اور اسرائیلی جارحیت کو شدید تر کردیں گی جبکہ نیتن یاہو کو صدر ٹرمپ کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے۔نیتن یاہو کے حالیہ دورہ امریکہ میں صدر ٹرمپ نے غزہ جنگ بندی منصوبے کے حوالے سے ان کی کارکردگی کو سو فی صددرست قرار دیا حالانکہ اسرائیل جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا مسلسل ارتکاب کرتا چلا آرہا ہے۔ نیتن یاہو ایران کے خلاف ایک بار پھر جارحیت کے منصوبے بنارہے ہیں اور صدر ٹرمپ بھی ایران کو جہنم بنادینے کی دھمکیاں دے کر واضح کررہے ہیں کہ اسرائیل نے ایسا کیا تو حسب سابق ان کی مکمل عملی حمایت صہیونی حکومت کو حاصل ہوگی۔ شام اور لبنان بھی اسرائیلی جارحیت کا مستقل ہدف ہیں اور ان ملکوں کی اسرائیل مخالف تحریکوں کی مزاحمت کی صلاحیت تیزی سے کم ہوئی ہے۔ صومالیہ میں علیحدگی پسندوں کی قائم کی ہوئی اور پوری عالمی برادری کی مسترد کردہ ناجائز مملکت جمہوریہ صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کااسرائیلی اقدام مسلم دنیا کے خلاف خاص طور پر ایک نئی فتنہ انگیزی ہے جسکی وجہ سے پاکستان سمیت متعدد مسلم ملکوں نے اس اقدام کی پرزور مذمت کی ہے۔ صدر ترکیہ رجب طیب اردوان نے صومالیہ کے صدرحسن شیخ محمود کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا ہے کہ صومالیہ کی سالمیت اور خودمختاری کے خلاف یہ غیرقانونی اسرائیلی اقدام افریقہ میں عدم استحکام کو بڑھانے کا سبب بن سکتا ہے ۔افریقہ کے دو مسلم ملک سوڈان اور لیبیا پہلے ہی تقسیم و تفریق کا شکار ہیں ۔ سوڈان میں تین سال سے جاری سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورس کی جنگ میں کم وبیش چار لاکھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور تیس لاکھ ہمسایہ ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ سوڈانی فوج کو مصر اور ترکی اور باغی گروپ کو متحدہ عرب امارات کی عملی حمایت حاصل ہے۔
سال رواں کا آغاز عرب اور مسلم دنیا کے نہایت اہم خلیجی ممالک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے مابین یمن کے حوالے سے کشیدگی سے ہوا ہے۔ یمن میں آزاد جنوبی ریاست کی تحریک کو مبینہ طور پر متحدہ عرب امارات کی حمایت حاصل ہے۔ نیا سال شروع ہونے سے دو دن پہلے سعودی عرب نے یمن کی مکلا نامی بندرگاہ پر امارات کے جہاز پر بمباری کی جس میں سعودی حکومت کے مطابق یمن کی علیحدگی پسند تحریک کیلئے اسلحہ بھیجا گیا تھا لیکن امارات کی وزارت خارجہ نے اس کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس سامان میں کوئی اسلحہ شامل نہیں تھا ۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ’’امارات سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کی غیرمتزلزل حمایت اور ایسے تمام اقدامات کی مخالفت کرتا ہے جو سعودی مملکت یا خطے کی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتے ہوں۔‘‘ اس کے ساتھ ہی امارات نے یمن میں اپنی افواج کی کارروائیاں ختم کرنے اور انہیں واپس بلانے کا اعلان بھی کردیا۔ اس کے نتیجے میں صورت حال اگرچہ فی الوقت بہتر ہوگئی ہے لیکن معاملے کے پورے پس منظر کی روشنی میں دیکھا جائے تو اس تنازع کے مستقبل قریب یا بعید میں دوبارہ ابھرنے کے خدشات بہرحال موجود ہیں۔واضح رہے کہ امارات اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کرچکا ہے اور واضح امکان ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نئے سال میں ابراہام اکارڈ میں مزید مسلم ملکوں کو شامل کرنے کی کوششیں تیز کریں گے اور اس کیلئے دباؤ کے تمام ممکنہ حربے استعمال کریں گے جن کا سامنا پاکستان کو بھی کرنا ہوگا ۔
حالات کی گواہی بظاہر یہ ہے کہ قدرت نے مسلم دنیا کے تنازعات اور ناجائز امریکی دباؤ جیسے چیلنجوں سے نمٹنے کی کوششوں میں عالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت پاکستان کیلئے قائدانہ کردار مختص کردیا ہے ۔اسکی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ سال کی پاک بھارت جنگ میں پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت اور مسلح افواج کی شاندار کارکردگی ، اسکے بعد نہایت متاثرکن سفارتی مہم اور پھر پاک سعودی دفاعی معاہدے کے نتیجے میں پاکستان کو عالمی سطح پر غیرمعمولی اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔ تاہم اس قائدانہ مقام کو دوام بخشنے کیلئے ہماری سیاسی اور عسکری قیادت کو داخلی محاذ پر ابھی بہت کچھ ٹھیک کرنا ہوگا۔سیاسی انتشار ، دہشت گردی اور کرپشن کے خاتمے کے بغیراور پوری قوم کو مستقل طور پر ’’بنیانُ مّرصوص ‘‘ بنائے بغیرحقیقی ترقی و خوشحالی محال ہے۔سیاسی انتشار کے خاتمے کیلئے سنجیدہ اور مخلصانہ مذاکرات ناگزیر ہیں۔جیونیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں گزشتہ روز اس ضمن میں وزیر اعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے سیاسی مفاہمت کیلئے صدر، وزیر اعظم، آرمی چیف اور بانی پی ٹی آئی سمیت پانچ بڑوں کے مل بیٹھنے کی تجویز پیش کرکے اور تحریک انصاف کے رہنما عامر ڈوگر نے اسکی مکمل حمایت کرکے ایک ایسے راستے کی نشان دہی کی ہے جو یقیناً مثبت نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔دہشت گردی کے خاتمے کیلئےبھی محض طاقت کا استعمال نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکتا، اچھی بات ہے کہ افغان قیادت بات چیت کی خواہش ظاہر کررہی ہے جسے ٹھکرایا نہیں جانا چاہیے۔ بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات کیساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر عام آدمی کی فلاح و بہبود کے اقدامات کرکے دل جیتے جانے چاہئیں۔ کرپشن کے خاتمے کیلئے پورے کاروبار مملکت میں مکمل شفافیت اور میرٹ کا یقینی بنایا جانا ضروری ہے، ڈیجیٹائزیشن شفافیت کا ایک مؤثر ذریعہ ہے لہٰذا اس سمت میں پیش رفت مزید تیز کی جانی چاہئے۔