• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنزکی نجکاری کے حوالے سے مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ جہاں حکومتی سطح پہ اسکے صاف اور شفاف طریقے سےطے ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے تو اسکے ردعمل میں اسے حسب روایت حکومتی ناکامی گردانے جانے کی کوششیں بھی زوروں پر ہیں۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ کسی بھی حکومتی ادارے کی نجکاری پہ عوام کا ردعمل منفی ہی ہوتا ہے اور اس میں سیاست بھی شامل ہوتی ہے جبکہ اس ادارے کے ملازمین بھی اپنے پرانے معاہدہ ملازمت میں حاصل شدہ مراعات میں تبدیلی کا خوف محسوس کرتے ہیں۔ جہاں تک حکومت کا تعلق ہے تو اطمینان کا اظہار کرنے کے باوجود اس کو اس بات کا ادراک ہوتا ہے کہ اسطرح ایک ادارے کی نجکاری کوئی پسندیدہ عمل نہیں ہوتی اور نہ ہی خوشی سے عمل میں لائی جاتی ہے ۔لیکن حکومتی باگ ڈورسنبھال کر بیٹھی سیاسی قیادت اس کے تمام پہلوؤں سے آگاہ ہوتی ہے اور ادارے پر اُٹھنے والے خسارے پر قومی وسائل سے ادائیگیاں کرتے ہوئے حکومتی وسائل کے ضیاع کا ادراک رکھتی ہے۔لہٰذا ان کے نزدیک سیاسی سے زیادہ حقیقی تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔ حکومت وقت کے نزدیک ایک تو اس ادارے کی کار کردگی کو بہتر بنانا مقصود ہوتا ہے تو دوسرا اس میں خسارے سے قومی خزانہ کو ہونے والے نقصان کی روک تھام ہوتا ہے۔ اس سے انکار ممکن نہیں کہ ایک ایسا ادارہ جو کئی دہائیوں سے سرکاری زیر سرپرستی چل رہا تھا اسکی نجکاری کوئی قابل ستائش عمل تصور نہیں کیا جاتا۔لیکن جب کبھی کوئی ادارہ سرکاری خزانے پر بوجھ بن جائے تو پھر اسکو چلانے کے متبادل راستوں پر غور کرنا حکومت کی اول ذمہ داری ہوتی ہے تا کہ محدود وسائل کے حامل قومی خزانہ کو خسارہ میں جانے والے اداروں سے پاک کرتے ہوئے بچت کر کے قومی خزانہ کو سہارا دیا جائے۔پی آئی اے پچھلی کئی دہائیوں سے قومی خزانہ کے وسائل کو کھا رہی تھی جسکا پاکستان جیسا ملک متحمل نہیں ہو سکتا تھا اور اسکا کوئی نہ کوئی حل نکالنا ضروری تھا۔ پاکستان بیشتر ترقی پذیرممالک کی طرح سرکاری اداروں کی ناقص کاردگی سے دوچار ہے لیکن اگر دیکھا جائے تو یہ مرض یورپ جیسے ترقی یافتہ ممالک کو بھی در پیش ہے اور وہاں پر بھی سرکاری افسر شاہی کے ہاتھوں سرکاری ادارے مشکلات کا شکار ہیں جن کی کارکردگی جدید دور کے تقاضوں پر پورا اُترنے میں ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے اور جس کا حل بڑی حد تک نجکاری کی صورت میں نکل رہا ہے۔ اس میں افسر شاہی کی قابلیت یا نیت کا عمل دخل نہیں ہوتا بلکہ وہ نظام ہے جس میں افسر شاہی درکار سرعت فیصلوں کی بجائے جامع اور کثیر شراکتی فیصلہ کےطریقہ کار کے تابع ہوتی ہے جہاں چھوٹا سا چھوٹا فیصلہ بھی کئی مراحل سے گزرتا ہے ۔ لہذا برق رفتار فیصلوں اور اقدامات کا فقدان اداروں کے زوال کا سبب بنتا ہے۔ایسی صورتحال سے بروقت نبٹنے کے لیے کلی اختیارات کی عدم دستیابی سرکاری ادارے کو بتدریج مسائل کے گرداب میں گھیر کر بحران کے ایسے مقام تک پہنچ دیتی ہے جہاں مرض لا علاج ہو جاتا ہے۔ دنیا بھر میں ایسی صورتحال کا نتیجہ نجکاری کی صورت میں سامنے آتا ہے ۔ پی آئی کی نجکاری بھی اسی روایت کا شاخسانہ ہے جس میں درکار اصلاحات کو بروقت بروئے کار نہ لایا جاسکا جس کی پاداش میں اسے نجکاری سے دوچار ہونے کے علاوہ کوئی متبادل نہ بچا۔لہذا پی آئی اے کو اس مقام تک پہنچانے میں کسی ایک حکومت وقت کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا البتہ یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ بہت دیر کر دی مہربان آتے آتے۔ پچھلی چند دہائیوں میں بر سر اقتدار آنے والی حکومتوں نے پی آئی اے کی نجکاری کو غیر مقبول تصور کرتے ہوئے کوئی حتمی فیصلہ کرنے سےاجتناب کیا اور اس چشم پوشی کے نتیجے میں یہ بحران بے قابو ہوتا گیا۔ بہر حال اسوقت جو نجکاری عمل میں آئی ہے اُس میں لگتا ہےکہ یہ قومی ادارہ اب بھی ترقی کی جانب گامزن ہو سکتا ہے اس میں مثبت پہلو یہ ہے کہ پی آئی اے کسی غیر ملکی نہیں بلکہ ایک پاکستانی کنسورشیم کے حوالے ہونے جا رہی ہے جس سے اس کی قومی شناخت کے برقرار رہنے کے قوی امکانات موجود ہیں ۔ دوسری بات یہ ہے کہ اسکو بحیثیت قومی ایئرلائن ہی آگے بڑھانے میں ہی نئے مالکان کیلئے بے پناہ فوائد مضمر ہیں کیونکہ پی آئی اے کی قومی شناخت بذات خود ایک بہت بڑا اثاثہ ہے ۔ آج سے چالیس سال قبل برطانیہ میں مارگریٹ تھیچڑ کی حکومت نے خسارہ میں چلنے والے کئی سرکاری اداروں کو نجکاری کے ذریعے بہتر بنانے کی کامیاب پالیسی کا تجربہ کیا تھا جس سے برطانوی معیشت کو سہارا ملا تھا۔اسکی ایک مثال برطانیہ کی ائیرلائن برٹش ائیرویز بھی ہے۔ جو خسارے سے مالی طور پر سرکاری خزانے پر ایک بہت بڑا بوجھ تھی اور جس کا زوال انتہا کو پہنچنے والا تھا۔ برطانیہ میں مضبوط مزدور تنظیموں کے احتجاج کے باوجود اسوقت کی حکومت نے اداروں کو نجکاری کے ساتھ جدیدیت سے ہم آہنگ بنا کر انکی کارکردگی کی بہتری کے ساتھ قومی خزانہ کو بے پناہ مالی خسارہ سے نجات دلاتے ہوئے بچت کی صورت میں دستیاب ہونے والے وسائل کو قومی دولت کا حصہ بنایا۔مغرب کے بیشتر ترقی یافتہ ممالک میں سرکاری اداروں کی نجکاری کا عمل صرف خسارے میں جانے والے اداروں تک ہی محدود نہیں بلکہ منافع میں چلنے والے کئی اداروں کی کارکردگی اور استعداد کار کو مزید بہتر بنانے اور صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے بھی نجکاری کو اپنایا جاتا ہے۔ پاکستان کی ایئر لائن پی آئی اے کی نجکاری پہ شادیانے تو بجانے کا ہر گز جواز نہیں لیکن اس حقیقت سے انکار بھی نہیں کہ موجودہ حالات میں یہ اقدام قومی مفاد سے متصادم نہیں ہے کیونکہ پاکستان جیسا محدود وسائل کا حامل ملک اس طرح کے خسارے کا متحمل نہیں ہو سکتا جو قومی خزانہ کے لیے وبال جان بنا ہوا تھا ۔

اگر پی آئی آئے کے نئے مالکان حکومت کے ساتھ ملکر خالص تجارتی بنیادوں پر اس ادارہ کو چلائیں گے تو وہ اپنے لیے بھی بے پناہ منافع بھی کما سکیں گے اور قومی خزانہ کیلئے بھی سہارا بن سکتے ہیں۔ کیونکہ پی آئی اے کے پاس ایسے روٹ اور تارکین وطن پاکستانیوں کی صورت میں بہت بڑی بزنس کا پوٹینشل potential موجود ہے جس سے بہت زیادہُ بزنس حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ضرورت صرف اس کو جدید اور پیشہ ورانہ بنیادوں پر چلانے کی ہے۔ کیونکہ اس وقت پوری دنیا کے ہر کونے میں پاکستانی آباد ہیں جن کی سفر کے لیے اول ترجیح پی آئی اے ہے اور ائیر لائن کو اگر مسافر ملیں اور پھر انہی ممالک میں پاکستانی تارکین وطن کی روزمرہ کی ضروریات کی پاکستانی مصنوعات کی طلب پی آئی آے کو بے پناہ بزنس مہیا کرے گی جس سے کی جانے والی سرمایہ کاری ہی محفوظ نہیں ہو گی بلکہ منافع بخش بھی بنے گی۔لہذا پی آئی اے نجکاری کے بعد بھی پاکستانی تارکین وطن کی پسندیدہ ترین ائیر لائن رہے گی اور اسکے علاوہ پی آئی اے کو فضائی سفر کے کچھ ایسے روٹ میسر ہیں جن پر پی آئی اے سے سفر کرنا ہی بین الاقوامی مسافروں کی مجبوری ہے۔ لہذا اگر نئی پی آئی اے اعلیٰ معیاری فضائی سروس مہیا کرتے ہوئے آگے بڑھے تو اس کے لیے کامیاب عالمی فضائی کمپنی بننے کے تمام ممکنات موجود ہیں اب یہ نئی انتظامیہ پہ منحصر ہے کہ وہ کتنی اُونچی اڑان کی آرزو مند ہے۔

(کالم نگار سابق ممبر پارلیمنٹ ناروے ہیں)

تازہ ترین