جنوبی چین کے صوبے گوانگ ڈونگ میں مبینہ طور پر ’جن نکالنے‘ کی کوشش کے دوران ماں نے بیٹی کی جان لے لی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق گوانگ ڈونگ کے شہر شین ژین کی عدالت نے مذکورہ خاتون کو 3 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔
عدالت کے مطابق خاتون جس کا خاندانی نام لی بتایا گیا ہے، کو 3 سال قید کی سزا سنائی، جسے 4 سال کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔ اسی کیس میں شامل ان کی بڑی بیٹی کو بھی یہی سزا دی گئی ہے۔
یہ فیصلہ گزشتہ برس جولائی میں غفلت کے باعث قتل کے الزام میں سنایا گیا۔
استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ لی اور ان کی دونوں بیٹیاں توہم پرستانہ عقائد سے شدید طور پر متاثر تھیں، جن میں ذہنی رابطے اور آسیب کا تصور شامل تھا۔ ان کا ماننا تھا کہ ان پر شیاطین حملہ آور ہیں اور ان کی روحیں فروخت ہو چکی ہیں۔
گزشتہ ماہ دسمبر میں کم عمر بیٹی، جس کا خاندانی نام شیے بتایا گیا، نے اچانک دعویٰ کیا کہ اس پر آسیب کا اثر ہے اور اس نے اپنی والدہ اور بہن سے کہا کہ وہ اس پر جن نکالنے کی رسم انجام دیں، جس کے دوران شیے کی موت واقع ہوگئی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ اگرچہ ماں اور بہن کا بیٹی کو نقصان پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا اور وہ سمجھ رہی تھیں کہ وہ اس کی مدد کر رہی ہیں، تاہم ان کے اقدامات ہی براہِ راست اس کی موت کا سبب بنے، جو غفلت کے زمرے میں آتا ہے۔ عدالت نے سزا سناتے وقت ملزمان کے تعاون اور اظہارِ ندامت کو بھی مدنظر رکھا۔
یہ واقعہ چینی سوشل میڈیا پر شدید بحث کا باعث گیا، ایک صارف نے لکھا کہ یہ انتہائی خوفناک اور افسوسناک معاملہ ہے۔ ایک اور صارف کا کہنا ہے کہ یہ کیسا عقیدہ ہے؟ کیا ہم واقعی 2025 میں جی رہے ہیں؟۔
کئی صارفین نے توہم پرستی کے خلاف مضبوط سائنسی تعلیم اور عوامی آگاہی کی ضرورت پر زور دیا۔ ایک صارف نے لکھا کہ ایسے عقائد رکھنے والے لوگ حقیقت کو تسلیم کرنے کے بجائے یہی کہتے ہیں کہ جن بہت طاقتور تھا۔