امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ نکولس مادورو وینزویلا کے قانونی صدر نہیں تھے، اُن کے سر کی قیمت 50 ملین ڈالر تھی جو اہم نے بچائی ہے۔
ایک بیان میں امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا میں نکولس مادورو پر 2020ء میں فرد جرم عائد کی گئی تھی، انہوں نےجرائم پیشہ افراد کا سیلاب امریکا بھیجا، امریکی کو قیدی بنایا۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کے پہلے دور حکومت، بائیڈن حکومت اور ٹرمپ کے دوسری حکومت نے مادورو کو صدر تسلیم نہیں، یورپی یونین اور دیگر کئی ممالک بھی مادورو کو صدر تسلیم نہیں کیا۔
مارکو روبیو نے مزید کہا کہ مادورو کے سر کی قیمت 50 ملین ڈالر مقرر تھی، ہم نے وہ رقم بچائی، مادورو کے پاس اس صورتحال سے بچنے کے کئی مواقعے تھے، اُسے بہت پرکش پیشکش بھی کی گئی۔
اُن کا کہنا تھا کہ مادورو ایران کو اپنے ملک دعوت دی، ہمارا تیل ضبط کیا، صدر ٹرمپ گیم نہیں کرتے، جو کہتے ہیں وہ کر کے دکھاتے ہیں۔