• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نسلِ نو، اس مُلک کی سب سے بڑی طاقت، ایک ایسی توانائی، جذبہ اور تخلیقی قوّت ہے، جو اگر صحیح سمت حاصل کرلے، تو پورا معاشرہ بدل کے رکھ دینے کی صلاحیت رکھتی ہے، لیکن یہ صلاحیتیں اُسی وقت بروئےکار لائی جا سکتی ہیں کہ جب اُس کی آنکھوں میں مستقبل کا خوف نہیں بلکہ خواب جگمگا رہے ہوں، دل فکرِ معاش کی قید سے آزاد ہو، مگر شومئی قسمت کہ ایک اورسال گزر گیا،لیکن نوجوانوں کے مسائل میں کوئی کمی نہ آسکی، بلکہ اب تو یوں لگنےلگا ہے، گویا نیا سال نئے مواقع نہیں، نئے امتحان لے کر آتا ہے۔

اِسی بات سے اندازہ لگا لیجیے کہ وزارتِ منصوبہ بندی و ترقّی کی جانب سے جاری کیے جانے والے لیبرفورس سروے25-2024ء کے مطابق پاکستان میں بے روزگاری کی شرح 7.1 فی صد رہی، جو دو دہائیوں کی بلند ترین شرح ہے۔ سروے کے مطابق 2021ء سے2025ء تک مُلک میں 14 لاکھ بےروزگار افراد کا اضافہ ہوا، جس کے بعد مُلک کی لیبر فورس 45 لاکھ سے 59 لاکھ تک پہنچ گئی۔

سروے میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ 20 سے 30 سال کی عُمر کےافراد میں شرحِ بےروزگاری سب سے زیادہ ہے۔ بےروزگارافراد کی مجموعی تعداد، جو 21-2020ء میں 45 لاکھ تھی، اب بڑھ کر59 لاکھ ہوگئی ہے۔ جب کہ کُل بے روزگاروں میں سے 46 لاکھ یا 77 فی صد خواندہ اور تقریباً ایک ملین نوجوان ڈگری یافتہ ہیں۔

سروے کے مطابق بےروزگار نوجوانوں کی سب سے بڑی تعداد خیبرپختون خوا میں ( 9.6 فی صد)، پنجاب میں (7.3 فی صد)، بلوچستان میں (5.5 فی صد) اور سندھ میں (5.3 فی صد)ہے۔ نیز، بیوروآف امیگریشن اینڈ اوور سیز ایمپلائمنٹ کے مطابق سال گزشتہ کی پہلی ششماہی میں 3 لاکھ 36 ہزار افراد حصولِ روزگار کے لیے بیرونِ مُلک چلے گئے، یاد رہے، ان افراد میں اکثریت نوجوانوں کی ہے، جو تعلیم کے بجائے کمائی کو ترجیح دے رہے ہیں۔

بیوروآف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق گزشتہ تین برسوں میں تقریباً 29 لاکھ پاکستانی روزگار کے حصول کے لیے پردیس جا چُکے ہیں۔ بیرونِ مُلک جانے والوں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ پروفیشنلز جیسے ڈاکٹرز، انجینئرز، آئی ٹی ماہرین، اساتذہ، آرکیٹیکٹس، ڈیزائنرز، بینکرز اور آڈیٹرز کی بڑی تعداد کےعلاوہ ہنرمند نوجوان جیسے پلمبرز، ڈرائیورز اور ویلڈرز بھی شامل ہیں، جب کہ عرب اخبار ’’گلف نیوز‘‘ کے مطابق حالیہ چند برسوں میں پاکستان سے بڑے پیمانے پر پیرامیڈیکس بھی روزگار کی خاطر بیرون مُلک منتقل ہو رہے ہیں، کیوں کہ ڈاکٹرز اور دیگر تیکنیکی افراد کی طرح نرسز کو بھی خلیجی ممالک، برطانیہ اور کینیڈا جیسے ممالک پُرکشش تن خواہوں اور بہتر کام کے ماحول کے ساتھ راغب کر رہے ہیں۔

علاوہ ازیں، سالِ رفتہ بچّوں کے حوالے سے بھی کچھ خاص اچھا ثابت نہ ہوا کہ بچّوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’’ساحل‘‘ کی رپورٹ کے مطابق 2025ء کی صرف پہلی ششماہی میں مُلک بھر سے 605 بچّوں کے اغوا اور 192 بچّوں کے گم ہونے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔

جب کہ مختلف واقعات کے کُل 1956 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے زیادہ تر جنسی استحصال، اِغوا، گم شدگی اور کم عُمری کی شادیوں کے کیسز تھے۔ رپورٹ کے مطابق استحصال کے 950 کیسز، کم عُمری کی شادیوں کے 34 اور نومولود بچّوں کو زندہ یا مُردہ حالت میں چھوڑجانے کے 62 واقعات رپورٹ ہوئے۔

متاثرین میں 52 فی صد (1019) بچیاں، 44 فی صد (875) بچّے اور 3 فی صد نومولود شامل تھے۔ مزید براں،49 فی صد کیسز میں زیادتی کرنے والے متاثرہ بچّوں کے جاننے والے تھے۔ واضح رہے، یہ وہ واقعات ہیں، جو رپورٹ ہوئے، وگرنہ تو شاید گنتی ختم ہوجائے، مگر درندگی کی داستانیں نہیں۔

ایک سروے رپورٹ میں، وفاقی دارالحکومت سے کافی تشویش ناک اعدادوشمار سامنے آئے کہ اسلام آباد میں 2021ء سے جون 2025ء تک جنسی استحصال کے 567 مقدمات درج ہوئے، جن میں سے 200 بچّوں سے متعلق تھے، ان میں 93 لڑکے جب کہ 108 لڑکیاں شامل ہیں۔ ان واقعات میں ملوث 222 ملزمان کو گرفتار کیا گیا، تاہم صرف 12 ہی کو سزا ہوسکی۔ 163 مقدمات زیرِ سماعت ہیں، 15 ملزمان بری کر دیئے گئے، جب کہ 26 اب بھی مفرور ہیں۔

بجٹ کی بات کی جائے، تو وفاقی حکومت نے 175 کھرب سے زائد کا بجٹ پیش کیا، جس میں ’’یوتھ اسکل ڈیویلپمنٹ پروگرام‘‘ کے تحت نوجوانوں کے لیے 4.3 ارب روپے مختص کیے گئے۔اور اسی کے تحت ایک لاکھ 61 ہزار 500 نوجوانوں کو فنی تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔ اس پروگرام کے مطابق 56 ہزار نوجوانوں کو آئی ٹی، 64 ہزار کو انڈسٹریل ٹریڈز اور 49 ہزار کوروایتی ٹریڈز میں تربیت دی جارہی ہے۔

نیز، وزیرِاعظم شہباز شریف نے’’ڈیجیٹل یوتھ حب‘‘ ایپلی کیشن کا افتتاح بھی کیا، جس کے ذریعے تعلیم، روزگار، ٹیکنالوجی، اسکالرشپس اور اِسکلز سمیت تمام مواقع ایک پلیٹ فارم پر فراہم کیے جارہے ہیں۔ صوبۂ پنجاب کا جائزہ لیں تو رواں مالی سال کے لیے5 ہزار ارب روپے سے زائد کا بجٹ پیش کیا گیا، جس میں 1 لاکھ 12 ہزار طلبہ میں لیپ ٹاپ اسکیم کے لیے 15 ارب روپے مختص کیے گئے۔ صوبائی حکومت نے سرکاری اسکولوں کی بہتری کے لیے 40 ارب روپے مختص کیے۔ اس کے علاوہ مستحق طلبہ کو تعلیمی مواقع فراہم کرنے کے لیے میرٹ اسکالرشپ پروگرام کے لیے 15 ارب روپے رکھے گئے۔

’’وزیراعلیٰ پنجاب آسان کاروبار اسکیم‘‘ کے لیے 84 ارب روپے سے زاید مختص کیے گئے، نوجوانوں کو روزگار/ کاروبار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے آسان کاروبار کارڈ اسکیم کے لیے 48 ارب روپے سے زائد رکھے گئے، جب کہ آسان کاروبار فنانس اسکیم کے تحت 36 ارب روپے سے زائد بلاسود قرض فراہم کیا جا رہا ہے، جسے 5 سال کی آسان اقساط میں واپس کرنا ہوگا۔ واضح رہے، آسان کاروبار کارڈ کےذریعے25 فی صد تک کیش بھی نکلوایا جا سکتا ہے۔

علاوہ ازیں، خصوصی بچّوں کو ’’ہمّت کارڈ‘‘ پروگرام میں شامل کرنے کے اصولی فیصلے کے ساتھ ساتھ اسپیشل ایجوکیشن مراکز کے لیے مزید 48 نئی بسز کی فراہمی کی بھی منظوری دی گئی۔ اسی کے ساتھ پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مختصر ترین مدّت میں خصوصی بچّوں کے 5 ہزار سے زائد داخلوں کا نیا ریکارڈ بھی قائم ہوا۔

تاہم، جہاں ایک طرف پنجاب حکومت نوجوانوں اور خصوصی بچّوں کے لیے اہم اقدامات کرتی نظر آئی، وہیں دوسری جانب پنجاب میں سالِ گزشتہ کی پہلی ششماہی کے دوران بچّوں کے خلاف 4150 سے زائد تشدّد کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔ یہ اعدادوشمار پنجاب میں بچوں کے خلاف تشدّد (وی اے سی) پرسسٹینیبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ایس ایس ڈی او) کی فیکٹ شیٹ میں ظاہر کیے گئے، جو جنوری تا جون 2025ء کے عرصے کا احاطہ کرتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 4,150 میں سے 3,989 کیسز میں چالان پیش کیے گئے، جب کہ 3,791 مقدمات زیرِ سماعت تھے اور ضلعی سطح کے پولیس ڈیٹا کی بنیاد پر روزانہ اوسطاً 23 کیسز رپورٹ ہوئے، جو ’’ پنجاب ٹرانسپیرینسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 ‘‘ کے تحت حاصل کیے گئے۔ جنسی زیادتی کے واقعات کی صُورتِ حال تشویش ناک رہی کہ اِن کے 717 کیسز رپورٹ کیے گئے۔ بچّوں سے بھیک منگوانا (گداگری) سب سے زیادہ رپورٹ ہونے والا جرم ثابت ہوا، جس کے صوبے بھر میں 2,693 کیسز درج کروائے گئے۔

جب کہ حکومتِ پنجاب نےایک تاریخی پالیسی متعارف کرواتے ہوئے16 سال کے بچّوں کو اسمارٹ کارڈ، موٹر سائیکل ڈرائیونگ لائسینس کے اجراء کا بھی فیصلہ کیا۔ مزید براں، وزیرِاعلیٰ پنجاب، مریم نواز شریف نے نوجوان ٹیلنٹ کی شناخت اور انہیں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنے کے لیے پنجاب میں پہلی مرتبہ ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام شروع کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔

سندھ کی بات کریں، تو وزیرِاعلیٰ سندھ، سید مراد علی شاہ نے مالی سال 26-2025 ء کے لیے 34 کھرب 51 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا، جس میں امورِ نوجوانان کے لیے تین نئی اسکیمز شامل کی گئیں، جن کے لیے ڈھائی کروڑ 55 لاکھ روپے مختص کیے گئے، ان اسکیمز میں خواتین کی خُود مختاری، نوجوانوں کی معاشی ترقی کے علاوہ ذہنی خوش حالی پروگرامز وغیرہ بھی شامل ہیں، جب کہ نوجوانوں سے متعلق پرانی اسکیمزجاری رکھنے کے لیے بھی رقوم مختص کی گئیں۔

تعلیم کے شعبے میں انقلابی اقدامات کے تحت جامعات کے لیے ریکارڈ 42 ارب کا بجٹ مختص کیا گیا، تو نسلِ نو کے لیے ڈیجیٹل ٹریننگ پروگرامز کا آغاز بھی کیا گیا۔ صوبائی حکومت نے پیپلز آئی ٹی پروگرام کے دوسرے مرحلے کے لیے 1.4 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا۔

واضح رہے، پیپلز آئی ٹی پروگرام کے پہلے مرحلے کے تحت اب تک 13,565 طلبہ کو جدید آئی ٹی شعبوں میں تربیت اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے 300 طلبہ کو گوگل کروم بکس اور لیپ ٹاپس تفویض کیے جا چُکے ہیں۔ جب کہ سالِ رفتہ پی آئی ٹی پی کا دوسرا مرحلہ شروع کیا گیا،جس کے تحت 12 ہائی ڈیمانڈ آئی ٹی شعبوں میں 35,000 طلبہ کو جدید ترین تربیت فراہم کی جارہی ہے۔

تاہم، افسوس ناک بات یہ ہے کہ سندھ کے نوجوانوں کو ڈیجیٹل دنیا میں قدم سے قدم ملا کر چلنے کے مواقع فراہم کرنےکی دعوےدار حکومتِ سندھ پاکستان کے معاشی حب کراچی کی نسلِ نو کو محفوظ اور صاف سُتھرا ماحول فراہم کرنے میں یک سرناکام نظر آئی۔

دیگر بڑے شہروں کے برعکس، کراچی کی سڑکیں سارا سال ہی موت کے جال بُنتی رہیں اور متعدد موٹرسائیکل سوار نوجوان اُن کا شکار ہوتے رہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال کے صرف پہلے سات ماہ میں ٹریفک حادثات میں کم از کم 538 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 68 بچّے اور 274 موٹر سائیکل سوار شامل تھے(واضح رہے، نوجوانوں کی اکثریت کی آمدورفت کا ذریعہ موٹرسائیکلز ہی ہیں)۔

دوسری جانب شہرِ قائد کی گلیوں ہی نہیں، شاہ راہوں کے کُھلے مین ہولز بھی درجنوں گھروں کے چراغ گُل کرگئے۔ ایک رپورٹ کے مطابق سالِ رفتہ کے ابتدائی چند ماہ ہی میں کُھلے نالوں اور گٹروں میں گرنے سے 24 رہائشی جان کی بازی ہار گئے، جن میں 5 بچّے بھی شامل تھے۔ جب کہ فلاحی ادارے ایدھی ویلفیئر کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال، نومبر تک تین سالہ بچّے ابراہیم سمیت 23 افراد کُھلے مین ہولز اور نالوں میں گر کر ہلاک ہوئے۔ یاد رہے، ہلاک ہونے والوں میں سے آٹھ بچّوں کی عُمریں 10 سال سے بھی کم تھیں۔

بلوچستان کی بات کی جائے تو، مالی سال 26-2025ء کے لیے1028 ارب روپے حجم کا بجٹ پیش کیا گیا، جس میں بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے حوالے سے 1200 سے زائد اسامیاں تخلیق کی گئیں، جب کہ بجٹ میں اسکول ایجوکیشن کے لیے، ترقیاتی مد میں 19ارب 80 کروڑ اور غیر ترقیاتی مد میں 101 ارب روپے مختص کیے گئے۔

نیز، بلوچستان حکومت نے ’’چیف منسٹر یوتھ اِسکلز ڈویلپمنٹ اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ پروگرام‘‘ شروع کرنے کا بھی اعلان کیا۔ اس منصوبے کے تحت حکومتِ بلوچستان آنے والے پانچ سالوں کے دوران 30 ہزار نوجوانوں کو بیرونِ ملک ملازمت کے مواقع فراہم کرے گی، جب کہ پروگرام کے ابتدائی مرحلے میں تقریباً 6 ہزار نوجوان سعودی عرب روانہ ہوچُکے ہیں، جن کےتمام اخراجات حکومتِ بلوچستان نے خُود برداشت کیے۔

اس پروگرام کے تحت بلوچستان کے نوجوانوں کو تعمیرات، صحت (نرسنگ)، انفارمیشن ٹیکنالوجی، الیکٹریشن اور دیگر شعبوں میں عملی کام کرنےکے سلسلے میں جرمنی اور رومانیہ جیسے یورپی اور سعودی عرب جیسے خلیجی ممالک بھیجا جا رہا ہے۔

خیبرپختون خوا کے ضمن میں ایک افسوس ناک امریہ رہا کہ نوجوانوں کو ترقی، خوش حالی اور کروڑوں نوکریاں دینے کا نعرہ لگا کر اقتدار میں آنے والی پی ٹی آئی کی حکومت نے اپنے صوبے میں نسلِ نو کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدامات کیے، نہ ہی بجٹ میں نوجوانوں کے لیے کچھ نمایاں پیش رفت نظرآئی۔ اعلانات، وعدوں، دعووں، حکمتِ عملیوں اور منصوبہ بندیوں سے ہٹ کر کچھ ٹھوس حقائق، مثبت خبروں کی بات کریں، تو دو پاکستانی نوجوان ’’فوربس30 انڈر30 ‘‘ کی فہرست میں اپنی جگہ بنانے میں کام یاب رہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کے دو نوجوان، سلمان حبیب اور حسن چوہدری نے فوربس کی معروف فہرست ’’30 انڈر 30 یونائیٹڈ اسٹیٹس 2026‘‘ میں جگہ بنا کر مُلک و قوم کا نام خُوب روشن کیا۔ واضح رہے، اس فہرست میں امریکا کے 600 اُبھرتے ہوئے نوجوان کاروباری اور پیشہ ور افراد کو شامل کیا گیا تھا، جو مختلف شعبوں میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ سلمان حبیب کو ’ٹرانسپورٹیشن اینڈ ایرو اسپیس‘‘ کیٹیگری میں رکھا گیا، وہ ڈیلیوری ٹیکنالوجی کمپنی برَق کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر ہیں۔

یہ کمپنی کاروباری اداروں کو بغیر اپنی ڈیلیوری انفرا اسٹرکچر بنائے، ڈیلیوری سروس فراہم کرنے کی سہولت دیتی ہے۔ سلمان نے یہ کمپنی 2021 ء میں اپنے بڑے بھائی شعبان کے ساتھ مل کر قائم کی تھی۔ فوربس کے مطابق برَق نے امریکا کے 4 ہزار سے زاید شہروں میں 500 سے زیادہ ڈیلیوری سروس فراہم کرنے والی کمپنیز کو ایک نیٹ ورک میں جوڑ دیا ہے، جن میں اوبر اور ڈور ڈیش جیسی کمپنیز بھی شامل ہیں۔

کمپنی اب تک سرمایہ کاروں سے ایک کروڑ ڈالر سے زاید سرمایہ حاصل کر چُکی ہے اور البرٹسنز، سیف وے اور کروگر جیسے بڑے گروسری ادارے اس کے صارفین میں شامل ہیں۔ دوسری جانب حسن چوہدری کو ’’وینچر کیپیٹل‘‘ کیٹیگری میں شامل کیا گیا ہے۔ وہ بلیک راک پرائیویٹ ایکویٹی پارٹنرز میں وائس پریذیڈنٹ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور گروتھ ایکویٹی سرمایہ کاری کی قیادت کر رہے ہیں۔

سنڈے میگزین سے مزید