• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

زکوٰۃ کے نصاب کی وضاحت اور واجب الادا زکوٰۃ معلوم کرنے کا طریقہ

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو 

آپ کے مسائل اور ان کا حل

سوال: زکوٰۃ ادا کرنے کے لیے سال گزرنے پر نصاب کیسے نکالیں؟ یا زکوٰۃ کی رقم کتنی ہے؟ یہ کیسے معلوم ہوگا؟

جواب: زکوٰۃ واجب ہونے کے لیے صاحبِ نصاب ہونا شرعاً ضروری ہے، صاحبِ نصاب سے مراد وہ شخص ہے جس کے پاس ساڑھے 7 تولہ یا اس سے زائد سونا ہو یا ساڑھے 52  تولہ یا اس سے زائد چاندی ہو یا بنیادی ضرورت سے زائد اتنی رقم یا مالِ تجارت ہو، جس کی مالیت ساڑھے 52 تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زائد ہو یا مذکورہ اموال میں سے کوئی بھی 2 یا زائد قسم کے مال ہوں، جن کی مجموعی مالیت ساڑھے 52 تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زائد ہو اور اس پر اتنا قرض بھی نہ ہو جسے منہا کرنے کے بعد باقی رہنے والا مال ساڑھے 52 تولہ چاندی کی قیمت سے کم ہوجائے۔

مذکورہ تفصیل کے مطابق جس تاریخ کو بھی کسی کی ملکیت میں نصاب کے برابر مال آگیا وہ اس دن سے صاحبِ نصاب شمار ہوگا، اس کے بعد چاند کی تاریخ کے اعتبار سے سال مکمل ہونے پر بھی اگر وہ صاحبِ نصاب برقرار رہے تو اس پر زکوٰۃ ادا کرنا واجب ہوگی، سال کے درمیان مال کی کمی زیادتی کا اعتبار نہیں ہے، البتہ اگر مال بالکل ختم ہوجائے تو از سرِ نو حساب ہوگا، پھر جس وقت ملکیت میں نصاب کے مقدار مال جمع ہو، اس تاریخ سے سال کا حساب ہوگا۔

بہرحال جب نصاب پر سال گزر جائے اس وقت ملکیت میں بنیادی ضرورت اور قرض سے زائد جو نقدی موجود ہو اور اگر سونا، چاندی اور مالِ تجارت بھی ہو، تو اس کی قیمتِ فروخت نکال کر، مجموعی مالیت پر ڈھائی فیصد زکوٰۃ کی ادائیگی واجب ہوگی، اگر قابلِ وصول ادائیگیاں (receivable) ہوں تو انہیں بھی مالِ تجارت میں شمار کیا جائے گا۔ 

زکوٰۃ کی مقدار معلوم کرنے کا طریقہ 

زکوٰۃ کی مقدار معلوم کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ مجموعی مالیت کو 40 سے تقسیم کر دیجیے، جو جواب حاصل ہو، وہ زکوٰۃ کی مقدار ہوگی۔

خاص رپورٹ سے مزید