• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بیٹی اور باپ کا تعلق گہری محبت اور شفقت کا ہوتا ہے۔کارکن اور قائد کے تعلق میں احترام اور اطاعت کا رشتہ ہوتا ہے۔ آئیڈیل کے ساتھ انسان کامعاملہ اخلاص ، انسپائریشن اور اس کے لیے سب کچھ وار دینےسے عبارت ہوتاہے۔

میں پوری دیانتداری اور شعور کے ساتھ یہ سمجھتی ہوں کہ اپنے آغا جان کے ساتھ میرا تعلق ان تینوں حوالوں سے ہے۔ میں ان کی گہری محبت اور شفقت کی حامل بیٹی بھی رہی ہوں ۔ دل کی گہرائیوں سے ان کا احترام کرنے اور ان کے ساتھ وفاداری کا عہد رکھنے والی ان کی کارکن بھی رہی ہوں اور ان کی شخصیت سے بے حد متاثر ان کو آئیڈ یل سمجھنے والی ان کے قافلۂ حق کی ایک ساتھی بھی اور ان سب حیثیتوں سے ان کے ساتھ مخلصانہ تعلق پر مجھے فخر ہے۔

آغا جان کی زندگی ان کے بارے میں میرے علم ،تجربے اور شعوری و لاشعوری تعلق سے عبارت ہے۔وہ کہتے ہیں کہ میں جب پیدا ہوئی تو ان کے لیے خوشیوں اور خوشحالی کا پیغام لائی تھی اور دوسری طرف اپنی تخلیق کے ابتدائی لمحوں سے ان کے پیار بھرے لمس اوربھرپور محبت سے حاصل ہو نے والی ایک پُر کیف آسودگی خود میرے لا شعور کاحصہ بن گئی ۔میں نے شعور کی آنکھ کھولی تو انہیں دنیا سے بے نیاز ، شب و روز جماعت اسلامی کی خدمت میں مگن پایا ۔ میں انہیں اکثر گھر سے غائب پا کر جب معصومیت کے ساتھ امی سے پوچھتی تو ان کا یہی جواب ہوتا ’’ جماعت کے کام سے گئے ہیں ۔ ‘‘

میں اپنے کارکن ابو کو ہمیشہ پوسٹر لگاتے ،نعرے بلند کرتے اور اسٹیج سجاتے دیکھتی بڑی ہوئی ۔ میں نے انہیں الخدمت کے ٹرکوں کے ساتھ مزدوروں کی طرح دور دراز دیہا ت میں سامان تقسیم کرنے کے لیے جاتے بھی دیکھا اورلاکھوں کے مجمع میں اونچے اسٹیجوں سے وقت کے طاغوت کو للکارتے ہوئے بھی سنا۔ حلقہ یاراں میں انہیں ریشم کی طرح نرم ، سمندر کی طرح وسیع ، شفقت سے معاف کردینے والا ،اپنوں کے درد پر تڑپ اٹھنے والا ، محبت سے چمٹا کر گردن پر بوسہ دینے والا بھی پایااور رزم حق و باطل میں آہنی اعصاب والے قائد کی حیثیت سے بھی دیکھا ، گھوڑے کی پیٹھ پر ہر دم مستعد ، قرون اولیٰ کے کسی لشکر کا مجاہد بھی پایا اور مڑنے نہیں موڑ دینے ، دبنے نہیں ، دبا دینے اور جھکنے نہیں جھکا دینے کی صلاحیت رکھنے والا بے باک و جی دار لیڈر بھی پایا ۔ افغانستان میں برستی گولیوں سے لے کر بوسنیا کے جنگی میدانوں تک میرے آغاجان مجھے جب بھی ملے صف اول میں ملے ۔ یہی نہیں ان کے بدترین مخالف ، ان پر زبان طعن دراز کرنے والے بھی جب ان کے صاف اور اجلے کردار کی بات کرنے پر آئے تو الزام کاکوئی ایک چھینٹا بھی نہ اڑاسکے۔ مجھے اپنے ایسے ہی آغا جان پر فخر ہے جنہوںنے آج سے برسوں قبل سفر حج کے دوران ہم چاروں بہن بھائیوں کو مدینہ میں اصحاب صفہ کے چبوترے پر بٹھا دیا تھا اور پھر بھیگی پلکوں کے ساتھ دعا مانگی تھی کہ ’’اے میرے پروردگار !مجھے اور میرے ان معصوم بچوں کو اپنے دین کا نوکر بنالے۔ ہم سے اپنی نوکری کاکام لے لے۔ ‘‘وہ زار و قطار روتے جاتے اور بس یہی جملے دہراتے جاتے تھے ۔ ہم سب ان کی دعا پر آہوں اور سسکیوں کے ساتھ آمین کہہ رہے تھے۔ میرے قائد ، میرے آئیڈیل ،میرے آغا جان نے الحمدللہ جس لمحے مولاناسیدابوالاعلیٰ مودودی ؒ کی دعوت و فکر کو جانا اور اسے رسول اللّٰہ ﷺکی دعوت کا تسلسل پایا ،اسی دن سے انہوں نے اپنی ذات اور اپنے دائرہ اثر کو اس دعوت کے رنگ میں رنگ ڈالا۔ جوں جوں وقت گزرا ، ان پر فکر مودودی ؒ کا رنگ گہرا ہوتا چلاگیا، جوں جوں ان کا دائرہ اثر بڑھا ، مولانا کی فکر بھی انہی دائروں میں وسعت اختیار کرتی گئی ۔ انہوں نے تحریکی لٹریچر سے فکر کشیدکی ۔

میری محبتوں کے مرکز میرے آغاجان نے اپنی سابقہ پوری متحرک اور فعال تحریکی زندگی میں مختلف حوالوں سے بے شمار تقاریر کیں، انٹرویو ز دیئے ، بیانات جاری کیے ، فیصلے کیے،ان میں رہنمائی کے کئی پہلو اور زاویے موجود ہیں۔آغا جان کی وفات پر اہل قلم نے انہیں بہت خوبصورت خراج پیش کیا اور جب بھی ان کی یاد آتی ہے تو میں ان پر کوئی تحریر پڑھ لیتی ہوں ۔ان کی یادوں کا شجر روشن ہے۔بشریٰ رحمٰن ان کے بارے میں لکھتی ہیں’’ جب کوئی چلا جاتا ہے تو اپنے پیچھے یادوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ چھوڑ جاتا ہے۔ ایک نورانی چہرہ محفلوں میں اور ٹی وی پر نظر آیا کرتا تھا۔ یکا یک ان کے جانے کی خبر نے اداس کر دیا ۔

میں ان کی جگر گوشہ سمیحہ راحیل قاضی سے بات کرنا چاہتی ہوں،جس کی تربیت انہوں نے خونِ جگر سے کی ہے، جو مجھے چھوٹی بہن کی طرح محسوس ہوتی ہے۔ پانچ سال میرے ساتھ نیشنل اسمبلی میں بھی رہی ہے اور میں جانتی ہوں مشفق والد کی ابدی جُدائی سے اس کے دل پر کیا گزر رہی ہو گی ۔ میں کہنا چاہتی ہوں کہ راحیل میری بہن ! والد کی جدائی کا درد ایسا درد نہیں کہ آنسوؤں میں بہہ جائے، یہ کہیں کلیجے میں جاکر کھڑا ہو جاتا ہے، کیل ہوجاتا ہے، پھر زندگی کے کڑے کوس ، زندہ ہو جاتا ہے ، جاگ اُٹھتا ہے۔کوئی عید کوئی بقر عید ، کوئی لمحہ، کوئی ساعت ان کی یادوں کے بغیر گزرتی نہیں۔ بس ایک بات یاد رکھنا ! عظیم والد اپنے کردار اور اعمال سے نصب العین کی ایک قندیل روشن کر کے جاتے ہیں اس قندیل کو ہمیشہ روشن رکھنااولاد کا اولین فر ض ہے اور یاد افزائی کا یہی بہترین طریقہ بھی ہے۔ بیٹیا ںیہ فرض خوب نبھاتی ہیں ۔ آگے بڑھ کر تم یہ قندیل اُٹھا لو ۔ تمہارے سامنے ایک راستہ ہے ، نقوشِ قدم ہیں، تربیتِ نفس ہے، آگہی کی لگن ہے۔ اُن کے بنائے ہوئے رستوں پر چلنا۔ ملک وملت کی خدمت کرنا۔ قوم کی بیٹیوں کی رہنمائی کرنا۔ یہی مرہم ہے زخمِ جدائی کا اور یہی سلیقہ ہے انہیں زندہ و تابندہ رکھنے کا۔

تازہ ترین