• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ففتھ جنریشن وار فیئر کی اصطلاح آپ نے سنی ہوگی۔ یہ ایک ضابطہ حیات تھا جو کچھ جین زی بزرگوں نے دیا تھا۔ اس ضابطے کا خلاصہ یہ تھا کہ بیرونی دشمنوں سے زیادہ ہمیں اندرونی دشمنوں سے خطرہ ہے۔ ان دشمنوں سے نمٹنے کیلئے سوشل میڈیا کے مختلف مقامات پر توپ خانے بنانے کی بہت ضرورت ہے۔ اس باب میں اندرونی دشمنوں کی کچھ علامات بھی بتائی گئی تھیں۔ یہ علامات صرف ان سیاستدانوں میں پائی جا رہی تھیں جو پارلیمنٹ کی بالادستی، صوبائی رواداری اور پڑوسی ممالک کیساتھ بہتر تعلقات پر اصرار کر رہے تھے۔ ان دانشوروں اور اساتذہ میں پائی جارہی تھیں جو تنقیدی مطالعے پر یقین رکھتے تھے۔ ان صحافیوں میں پائی جاتی تھیں جن کے تجزیے سے خبر، مطالعے اور مشاہدے کی خوشبو بیک وقت آتی تھی۔ ان ملک دشمن عناصر کا گرم تعاقب کرنے کیلئے کی بورڈ وارئیرز چاہئے تھے۔ طاقتور حلقوں کے بزرگ جینزیوں نے کچھ تربیتی مراکز قائم کر دیئے۔ ڈیجیٹل میڈیا کے ایسے ماہرین کو ان مراکز میں بھرتی کیا گیا جو حب الوطنی کے جذبے سے بھی سرشار تھے۔ ملک بھر سے ایسے ذہین اور جینزی دماغوں کو تربیت کیلئے اکٹھا کیا گیا جنکی انگلیاں پیدائش کیساتھ ہی کی بورڈ پر تھرک رہی تھیں۔ذرائع ابلاغ کے صرف ایک سرکاری محکمے میں 400 جینزیوں کوانٹرن شپ کرنے کاموقع دیا گیا۔جنزیوں میں جوزیادہ جینزی تھےانہیں تربیت کیلئے بیرون ملک بھی بھیجا گیا۔بیرون ملک مقیم پاکستانیوں میں کم ہی کوئی ایسا ہوتا ہے جس میں جینزیت نہ ہو۔ وہ پاکستان میں رہنے والوں سے بھی زیادہ پاکستان سے محبت کرتے ہیں۔ زیر تربیت کی بورڈ وارئیرز کو انہوں نے جی جان سے اسپانسر کیا۔

زیر تربیت جینزیوں کے دل قومی خدمت جذبے سے یوں تو پہلے ہی لبالب بھرے ہوئے تھے، مگر بے رحم پروپیگنڈے کا عادی بنانے کیلئے ضروری تھا کہ انکے دل میں اضافی اطمینان بھرا جائے۔ انہیں بتایا گیا کہ دیکھو قومی سلامتی کا سوال سامنے آجائے تو جان لے لینا بھی روا ہو جاتا ہے۔ ویسے تو جھوٹ بولنا اور پگڑی اچھالنا بری بات ہوتی ہے لیکن ملک دشمن عناصر سامنے آجائیں تو جھوٹ قومی فریضہ بن جاتا ہے۔ جینزیوں کی ایک بات اچھی ہے۔ خلوص دل سے کہی گئی بات پر فورا مطمئن ہو جاتے ہیں۔ سو مطمئن ہوگئے۔ پھر انہیں کردار کشی کے ننانوے جدید طریقے سکھائے گئے۔ انہیں بتایا گیا کہ سائبر اسپیس پر فیک نیوز جنریٹ کرنے کا مستند طریقہ کیا ہے۔ دو نمبر بات کو ایک نمبر کا ٹیکہ لگا کر ٹوئٹر کے ٹاپ ٹاپ ٹرینڈ پر کیسے لیکر آتے ہیں۔ سوشل میڈیا الگورتھم کو اپنے حق میں کیسے موڑتے ہیں۔ حقیقی تاثر قائم کرنے کیلئے غیرحقیقی عناصر کا استعمال کیسے کرتے ہیں۔ ہیش ٹیگ کا فائدہ کیا ہوتا ہے، ایڈ کیسے لگاتے ہیں، سرچ انجن آپٹیمائزیشن کی اہمیت کیا ہے اور پھر اس سب کیلئے کرسپ ایڈیٹنگ اور Sigma Edits کتنی ضروری ہیں،یہ سب انہیں سکھایا گیا۔ یہ جینزی ابھی تربیت کے مرحلے میں ہی تھے کہ ملک میں جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا ایک سیلاب آگیا۔ ان اکاؤنٹس کو چلانے والے لوگوں کے بیچ صرف کلاس کا فرق تھا۔اسی فرق کی وجہ سے ان کی دلچسپیوں میں فرق واضح ہوتاتھا۔جوبچے اچھے گھرانوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں سے تھے انہوں نے کرپشن اوراحتساب والاچیپٹرپکڑلیا۔جنکے درجے درمیانے تھے انہوں نے غداری کے سرٹیفکیٹ چھاپنے والی مشین لگالی۔جو بیچارے غربت کی لکیر کے آس پاس رہتے تھے انہوں نے مذہب والا کارڈ اٹھالیا۔چونکہ ان سب کا ہدف مشترک تھا،چنانچہ کرپشن، غداری اور اسلام دشمنی والے الزامات ایک ہی شخص کے نصیب میں آجاتے تھے۔یعنی نشانے پراگرایک سیاست دان ہے تواسے صرف کرپٹ ہونے کا ٹائٹل نہیں ملے گا۔ملک دشمنی اوراسلام دشمنی کے دواضافی ٹائٹل بھی ملیں گے۔بغیرکسی لگی لپٹی کے یہ اعتراف کرنا چاہیے کہ ففتھ جنریشن وارفیئر کے یہ کی بورڈ وارئیرز اپنے مقصد میں کامیاب رہے۔ 2008 کے بعد جو سیاسی ماحول قائم ہوا،جینزی نے اسے اڑاکررکھ دیا۔ہروہ شخص جودریا کی دوسری طرف کھڑا تھا اسے بومربناکے رکھ دیا۔انکوہرسہولت سے محروم کرنے کی بات بھی شروع کردی گئی۔ان سے بات کرنے کی آزادی بھی چھین لو۔انکے شناختی کارڈبلاک کردو۔انکے نام ای سی ایل میں ڈال دو۔ان میں سے پچاس کوسرعام لٹکادو۔جو بچ جائیں انہیں جیل میں ڈال دو۔جیل میں بھی ان سے اے سی، ٹی وی اخبار،سنگل بیڈاوراٹیچڈباتھ کی سہولت چھین لو۔انکی ٹیلیفون لائن کاٹ دو اوران سے انٹرنیٹ کی سہولت بھی چھین لو۔یہ سلام کریں توجواب مت دو۔سلگتاہوا کوئی ہیش ٹیگ انکی کمر پہ چپت کرو اور آگے بڑھ جاؤ۔ ایک مرحلے پر کی بورڈ وارئیرزنے اپنے جینزی بزرگوں سے پوچھا،ملک کوتباہ کرنےوالے بومرزتو ہم نےجان لیے کہ کون سے ہیں۔اب یہ بھی بتادو کہ ملک کو بچانے والے جینزی کون ہوں گے؟جواب میں ایک جینزی جج صاحب کی طرف اشارہ کیا گیا جن کا زیادہ وقت چھاپہ مار کارروائیوں میں گزرتاتھا۔ایک جینزی لیڈرکی طرف بھی اشارہ کیاگیا جوففتھ جنریشن والے ڈاکٹرائن کوڈاکٹرائن سے بھی زیادہ جانتا تھا۔وقت آیا کہ اسی جینزی کی بورڈ وارئیرز کی حکومت آگئی۔جوارادے یہ بومرز کیلئے رکھتے تھےان پرعملدرآمد بھی شروع کردیا۔یہ سارا عرصہ انہوں نے اسی عملدرآمد میں گزاردیا۔کرپشن کاخاتمہ کرنے کی بجائے کرپٹ بومرزکے خاتمے میں جت گئے۔انہیں قوم تعمیر کرنی تھی،اس لیے ترقیاتی منصوبوں سےدوررہے۔پھروقت نےپلٹا کھایا۔ففتھ جنریشن وارفیئرکامنصوبہ دینے والوں کےارادے بدل گئے۔ارادے بدلے توسیاسی حالات بدل گئے۔سیاسی حالات بدلے توحکومت بدل گئی۔جوبومرز نشانہ بنے ہوئے تھے وہ کسی طرح واپس اقتدار میں آگئے۔ وہ جینزی بزرگ،جس نے ففتھ جنریشن وارفیئر والا ڈاکٹرائن دیا تھا وہ دیکھتے ہی دیکھتے بومرہوگیا۔ جج صاحب جینزیت اور بومیت کے بیچ کہیں پھنس کر رہ گئے۔ لیڈرکی جینزیت کوچارچانداور بھی لگ گئے۔ کی بورڈ وارئیرز ردعمل میں اسی سیاسی نقطہ نظر کے قائل ہوگئے جوبومرزکا تھا۔اسی سیاسی نقطہ نظرکے قائل ہوکر بھی انکی جینزیت پر کوئی فرق اسلئے نہیں پڑا کہ انکی سوچ بدستور وہی رہی کہ ملک کی سلامتی اوربقا کیلئے سیاست دانوں کاخاتمہ بہت ضروری ہے۔یہ سب سیاسی بومرز ہیں۔ہم سیاسی بومرز سے بات کیوں کریں۔ہم جین زی لوگ بہت کلیئر ہوتے ہیں۔ہمیں پتہ ہوتاہے کس بومر سے بات کرنی ہے کس سے نہیں کرنی۔ہم تب تک ڈٹے ہوئے جب تک ایک طاقتور بومرجینزی نہیں ہوجاتا۔ہم مایوس نہیں ہیں۔وہ ہمارے لکھے ہوئے تین خط ایک دن کھول کرپڑھے گا۔پھر دیکھنا، پیکا ایکٹ لاگوکرنے کااختیار واپس جینزی کےپاس آجائے گا۔تب ہم والیم اونچا کرکے سپوٹیفائی پہ گانے سنیں گے،تم کیا کروگے؟مان لو یہ دنیا جینزیوں کی ہے۔ہم جینزی ہیں۔ ہم ہمیشہ سے جینزی تھے تم ہمیشہ کیلئے بومرز ہو۔ تم بومرز ہو تمہاری آنیوالی نسلیں بھی بومرز ہیں۔ فٹے منہ تمہارا۔!!

تازہ ترین