• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایک صاحب تھے پیٹر کانسٹیبل، وہ 1976 ءسے 1979 ءتک پاکستان میں امریکی سفارت خانے کے ڈپٹی چیف تھے، انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک مقامی کہاوت کا استعمال کیا تھا کہ’’بندے دو تھے اور قبر ایک۔‘‘ یعنی بھٹو صاحب جیل میں رہتے یا جلاوطنی میں، ضیاالحق کا اقتدار مسلسل خطرے میں گھرا رہتا، اور اگر بھٹو صاحب دوبارہ اقتدار میں آ جاتے تو غالباً ضیاالحق کو آئین کے آرٹیکل چھ کی خلاف ورزی پر سخت ترین سزا ملتی، اس پس منظر میں بھٹو صاحب کا عدالتی قتل کر دیا گیا۔پاکستان میں جمہوری قوتوں کیلئےبھٹو صاحب کی پھانسی آج بھی اخلاقی و سیاسی طاقت حاصل کرنے کا سب سے بڑا منبع ہے۔ اس پھانسی سے سب فریقین نے کچھ نہ کچھ، صحیح یا غلط، سبق حاصل کیا۔ بھٹو صاحب کے بعد آج تک ریاست نے کسی مقبول سیاسی راہ نما کو ’’قانون‘‘کی مدد سے سب کی آنکھوں کے سامنے، کسی بھی حیلے بہانے سے، صفحہء ہستی سے نہیں مٹایا۔ بے نظیر بھٹو کو بھی’’خفیہ ہاتھ‘‘ نے قتل کیا تھا، قانون اور عدالت کو زحمت نہیں دی گئی تھی۔ عدالتی اور ’’قانونی‘‘ طور پر لیڈر گرفتار بھی ہوتے رہے، سزائیں بھی بھگتتے رہے، جیلیں اور جلا وطنیاں بھی کاٹتے رہے، مگر زندہ سلامت ان جھمیلوں سے نکلتے رہے۔ وہ نعرہ کبھی دوبارہ نہیں سنا گیا کہ’’بندے دو ہیں اور قبر ایک۔‘‘ذہین سیاست دانوں نے کبھی شعوری طور پر ایسا بیانیہ ایجاد ہی نہیں کیا جس سے طاقت کے مراکز میں ایسی کوئی بے چینی پیدا ہو۔سیاست دانوں کے بعد کچھ تذکرہ عمران خان کا بھی ہو جائے جنہوں نے ہماری سیاسی تاریخ کے ہر سبق کا انکار کیا ہے۔ وہ ریاست کی طاقت کا مقابلہ تشدد سے کرنا چاہتے ہیں، یعنی وائلنس پر سٹیٹ کی اجارہ داری کو توڑنا چاہتے ہیں، اور اس کیلئے نو مئی اور اس جیسی کچھ اور کوششیں بھی کر چکے ہیں۔ وہ بار بار ناکام ہوئے ہیں، وہ آئندہ بھی ناکام ہوں گے، اس لیے کہ یہ کسی گوریلا تنظیم کی حکمتِ عملی تو ہو سکتی ہے، کسی بڑی سیاسی جماعت کی نہیں۔ کسی کمز ور کو تشدد کے راستے نہ کبھی کامیابی ملی ہے، نہ آئندہ ملنے کی کوئی توقع ہے۔ تشدد کا استعمال کرنے سے تو طاقتور بھی ہچکچاتے ہیں، کجا کہ کوئی ’’ماڑا‘‘کسی گبھرو جوان کو اینٹ دے مارے۔ آپ ذرا تصور کریں کہ اگر علاقے کا نیا ایس ایچ او تعینات ہونے جا رہا ہے، اور محلے کا ایک چودھری اپنے حواری لے کر تھانے کا گھیراؤ کرلے کہ ہم نے یہ تھانے دار نہیں لگنے دینا، کیوں نہیں لگنے دینا؟ کیوں کہ یہ ہمارے ساتھ’’تعاون‘‘ نہیں کرے گا۔ اور پھر وہ ایس ایچ او جب تعینات ہو جائے تو آپ وہ تھانہ جلانے کی بھرپور کوشش بھی کریں تو اس کے بعد کیا ہو گا؟ یقیناً لتر پولا۔ اور جب آپ کی’’مدارات‘‘ شروع ہو تو آپ تھانیدار کو گالیاں دینے لگیں۔ پھر کیا ہو گا؟ یقیناً مزید لتر پریڈ۔ جب طاقت سے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی جائے تو جو زیادہ طاقت ور ہو گا وہ جیت جائے گا۔ یہ بہت سادہ اور سیدھی بات ہے جو ہمارے ’’زیرک‘‘لیڈر کو تا دمِ تحریر سمجھ نہیں آ سکی۔

’’طاقت‘‘بہ ذاتِ خود ایک دلچسپ تصور ہے، اپنے جوہر میں یہ برہنگی پسند نہیں ہوا کرتی، یہ اذہان و قلوب میں احترام یا ڈر پیدا کرتی ہے، جب’’طاقت‘‘ اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہو جاتی ہے تو ’’تشدد‘‘کا سہارا لیتی ہے۔ اور تشدد کا سہارا ’’طاقت کی کمی کا مظہر ہوا کرتا ہے۔

یہ بات لکھتے ہوئے یکدم دھیان امریکا کے وینزویلا پر حملے کی طرف چلا گیا۔ امریکا کی’’طاقت‘‘ بھی دنیا میں کم ہو رہی ہے، دنیا میں طاقت کے نئے مراکز ابھر رہے ہیں، سٹیٹس کو جب تبدیل ہونے کے اشارے مجسم ہونے لگیں تو سٹیٹس کو کی طاقتیں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھی رہتیں، بلکہ آخری حد تک جا کر پرانے نظام کو بچانے کی کوشش کرتی ہیں۔

امریکا بھی دو سو سال پرانے مونرو ڈاکٹرائن کا احیاء چاہتا ہے، لاطینی امریکا کے ممالک کے چین اور روس سے تعلقات کو ناجائز تعلقات سمجھتا ہے، تیل اور نایاب دھاتوں پر قبضہ چاہتا ہے، ڈالر راج کا دوام چاہتا ہے۔ ملٹی پولر دنیا میں وسائل کی جنگ تیز تر ہونے کا اندیشہ ہے، 2026 کے آغاز سے ہی یہ بات ثابت ہونا شروع ہو گئی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ بہ بانگِ دُہل مزید پر تشدد جنگوں کی نوید دے رہے ہیں۔ اب اگر چین تائے وان کو خود میں ضم کر لے تو کون سا اصول اسے روک سکتا ہے، اب کس منہ سے روس کے یوکرائن پرحملے پر تنقید کی جا سکتی ہے۔ ملٹی پولر دنیا میں طاقت تقسیم ہوتی ہے، اور زیادہ سے زیادہ طاقت اکٹھی کرنے کی خواہش تشدد و جارحیت کو جنم دیتی ہے۔اس کے برعکس، ملٹی پولر دنیا میں داخلی طور پر ملکوں کے اندر طاقت کے مراکز سکڑتے ہیں۔ ہمارے یہاں بھی یہ عمل ہوا ہے، طاقت مزید مرتکز ہوئی ہے۔ پارلے مان کی طاقت میں نمایاں کمی ہوئی ہے، عدالتیں نحیف نظر آ رہی ہیں، میڈیا کے مسل لٹک گئے ہیں، الیکشن کمیشن نڈھال ہوا ہے، حتیٰ کہ ’’سر تن سے جدا‘‘کرنے والوں کو بھی نہتا کر دیا گیا ہے۔ یہ ہے وطنِ عزیز میں’’طاقت‘‘کا گوشوارہ۔ یہ ہے وہ منظر نامہ جس میں عمران خان طاقت، جارحیت اور تشدد کے راستے پر بگٹٹ دوڑے چلے جا رہے ہیں۔ اس دوڑ کا انجام کیا ہو گا، صاف دکھائی دے رہا ہے۔ جانے نہ جانے گُل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے۔

تازہ ترین