نئی نسل کی آگاہی اور صلاحیت کو مکمل طور پر انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا سے منسوب کرنا ایک یکطرفہ تجزیہ ہے۔ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ تک رسائی دو دھاری تلوار کی مانند ہے۔ اگر ایک جانب ان ذرائع نے نوجوان نسل کو بااختیار بنایا ہے تو دوسری جانب یہی پلیٹ فارمز انہیں غلط معلومات اور ”ایکو چیمبرز“ کی نذر بھی کر دیتے ہیں، جو انکے نظریات کو مسخ کر سکتے ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں حکومت عوام کو جان بوجھ کر ناخواندہ رکھنا چاہتی ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں قومی شرحِ خواندگی 63 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو گزشتہ پانچ برسوں میں تین فیصد اضافے کی عکاس ہے۔ یہ اعداد و شمار پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (PBS) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین گھریلو معاشی سروے کے مطابق ہیں۔
یہ دعویٰ کہ نوجوان اسلئے ملک چھوڑ رہے ہیں کہ وہ مقتدر قوتوں کو چیلنج نہیں کر سکتے، محض بے بنیاد پروپیگنڈا ہے اور اسکے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق پاکستانی نوجوانوں کی واضح اکثریت (75 فیصد) پاکستان میں ہی رہنا چاہتی ہے۔ البتہ مراعات یافتہ نوجوان طبقہ، جن میں 18سے 24سال کی عمر کے افراد، اعلیٰ سماجی و معاشی طبقات اور وفاقی دارالحکومت کے رہائشی شامل ہیں، ملک چھوڑنےکے رجحان میں زیادہ نمایاں ہیں۔ کچھ لوگ جو خودمع اہل و عیال بیرون ملک آباد ہیں دوسروں کے بچوں کو بیرون ملک بھیجنے کا طعنہ دیتے ہیں۔ آج کل کئی مضمون سطحی، یکساں اور گمراہ کن سیاسی نعرہ بازی پر مبنی ہیں، جس میں معقول دلائل کا فقدان نمایاں ہے۔ وہ یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ گویا جنریشن زی وہی کچھ سوچتی ہے جو ایک شخص کی سوچ ہے۔ وہ چند لوگ پوری نسل کےترجمان بننے کا مصنوعی اور متکبرانہ انداز اختیار کرتے ہیں تاکہ ان کی مبینہ مایوسی کو اجاگر کیا جا سکے۔ مزید برآں، یہ رویہ کہ صحیح اور غلط کو بڑی اور چھوٹی نسل کی بنیاد پر تقسیم کیا جائے، نہایت مضحکہ خیز ہے۔ والدین کو یہ کہنا کہ ”تمہارا وقت ختم ہو چکا ہے“، حماقت، نخوت اور نفرت کے سوا کچھ نہیں۔کوئی بھی قاری اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کر سکتا کہ آج کل بیشتر تجزیات عمومی اور مبالغہ آمیز بیانات سے بھرے ہوئے ہیں ، جو ایک متعصب ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایسی ذہنیت نظام میں خامیاں تلاش کر کے جذباتی نعرے بازی کو جواز فراہم کرتی ہے، حالانکہ اسکے پس منظر میں دیگر محرکات کارفرما ہوتے ہیں اور سیاسی چندہ کام آتا ہے۔
ہمیں ارنسٹ گلنر اور بینیڈکٹ اینڈرسن کا مطالعہ کرنا چاہئے تاکہ یہ سمجھ سکیں کہ قوم کی تشکیل کا عمل کیسے ہوتا ہے۔ اینڈرسن کے مطابق اقوام ”تصوراتی برادریاں“ ہوتی ہیں، جو مشترکہ یادداشتوں، اساطیر اور اجتماعی اقدامات کے ذریعے وجود میں آتی ہیں۔ حب الوطنی ایک اہم جذباتی ستون ہے جو ان بیانیوں کو مضبوط، مربوط اور پائیدار قومی طاقت میں ڈھالتا ہے۔
دنیا کی تمام ریاستیں قوم سازی اور نئی نسلوں میں حب الوطنی پیدا کرنے کیلئے مختلف ذرائع اور حکمتِ عملی استعمال کرتی ہیں۔ ان طریقوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، مگر انہیں مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔چند لاعلم تجزیہ کاروںنے غیر دانشمندانہ طور پر نوجوان فوجیوں کی قربانیوں کو کم تر ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، جب وہ یہ کہتے ہیں کہ جنریشن زی صرف میمز بنا رہی ہے جبکہ ”دیگر“ جنگیں چلا رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جنریشن زی اور جنریشن الفا سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں نوجوان فوجی افسران پاکستان کی سلامتی کیلئے دہشت گردوں اور دشمن عناصر کیخلاف اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔کاش صرف کاغذی جہاز چلانے والے بھی اس قابل ہو سکیں، یہ بھی حقیقت ہے کہ میمز ہائبرڈ وار کا ایک حصہ ہیں۔ اپنی یکطرفہ تنقید میں کئی نادان دوستوں نے نہ صرف یہ غلط تاثر دیا کہ بومرز اور جنریشن زی آمنے سامنے ہیں بلکہ نادانستہ طور پر جنریشن زی کو ایسی اجنبی مخلوق کے طور پر پیش کیا جو موجودہ نظام سے مکمل طور پر بیزار ہے۔ حالانکہ حقیقت اسکے برعکس ہے۔ جنریشن زی میں بے شمار مثبت خصوصیات موجود ہیں جنہیں دانستہ طور پر نظر انداز کیا گیا ہے اور وہ قومی دھارے میں رہ کر قربانیوں کی لازوال داستانیں رقم کر رہی ہے۔ یاد رہے کہ یہ نسل ٹیکنالوجی سے بخوبی واقف ہے، سماجی شعور رکھتی ہے، کم عمری میں کاروبار اور متبادل نوکریاں (Side Hustles) شروع کرنے کا رجحان رکھتی ہے اور ایک غیر یقینی دنیا میں ثابت قدمی، حوصلے اور لچک کیساتھ آگے بڑھنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور ملکی ترقی کی راہ بھی ہموار کر رہی ہے۔ ایک اور قابلِ توجہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر میں بومرز کا بیانیہ اب بھی غالب ہے۔ 2023 ء سے 2025ءکے اعداد و شمار کے مطابق دنیا کے 60فیصد سے زائد سربراہانِ مملکت بومرز (1946ءسے 1964ء کے درمیان پیدا ہونیوالے) ہیں، جو بومرز ہی کے ووٹوں سے اقتدار میں آئے۔ عالمی سطح پر ریاستی قیادت میں انکی بالادستی برقرار ہے۔ یہ کھیل پاکستان سمیت کسی ملک میں ختم نہیں ہوا بلکہ آنے والے چند سال میں بومرز ہی حکمران رہیں گے جنریشن زی کو انتظار کرنا ہوگا اور اسی میں ان کی بہتری ہے۔