• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تاریخ کے مقتل میں جب بھی آزادی کا علم بلند ہوا، استعمار کے قزاقوں نے جمہوریت کے لبادے میں انسانیت کا خون پینے کی روایت برقرار رکھی۔ امریکہ کی ڈیڑھ سو سالہ تاریخ’’ترقی‘‘ کا عنوان نہیں آزاد ریاستوں کی خودداری کو تار تار کرنے اور انکے وسائل پر غاصبانہ قبضے کی ایک وحشت ناک سرگزشت ہے۔ یہ داستان انیسویں صدی کے اواخر سے شروع ہوتی ہے جب فلپائن کی آزادی کو امریکی بوٹوں تلے روندا گیا اور کیوبا سے لے کر پورٹو ریکو تک، خود مختاری کا جنازہ نکال کر’’پیکس امریکانا‘‘ کا جھنڈا گاڑ دیا گیا۔ بیسویں صدی کا سورج طلوع ہوا تو لاطینی امریکہ کی پررونق ریاستوں کو’’بنانا ریپبلک‘‘ میں بدلنے کیلئے درجنوں بار جارحیت مسلط کی گئی تاکہ امریکی کارپوریشنز کا مفاد اس مٹی کے بیٹوں کے خون پر پل کر جوان ہو سکے۔ویتنام کے گھنے جنگلوں سے لیکر کمبوڈیا کی خاموش بستیوں تک، کوریائی جزیرہ نما سے لیکرمشرقِ وسطیٰ کے تپتے صحراؤں تک، واشنگٹن کے مقتدر ایوانوں نے ہمیشہ’’امن‘‘ کے نام پر بارود بارش برسائی ۔ حتیٰ کہ ہیروشیمااورناگاساکی پر ایٹم برسائے گئے۔اسی طرح جب کبھی کسی قوم نے اپنے وسائل خواہ وہ ایران کا تیل ہو، گوئٹے مالا کی زمین ہو، یا چلی کا تانبا اپنے عوام کیلئے وقف کرنیکی جسارت کی، سی آئی اے کے زیرِ سایہ بغاوتوںکا سلسلہ شروع کرا دیا گیا۔ انڈونیشیا میں لاکھوں کا قتلِ عام ہو یا نکاراگوا کی خانہ جنگی، افغانستان کی سنگلاخ چوٹیاں ہوں یا عراق کے قدیم تمدن کی بربادی، امریکی مہم جوئی نے ہر جگہ جمہوریت کے نام پر آمریت کی آبیاری کی اور آزادی کے نام پر غلامی کی زنجیریں پہنائیں۔ لیبیا کی خوشحالی کو راکھ کا ڈھیر بنانا ہو یا شام ٫لبنان اورفلسطین کی گلیوں کو نوحہ کناں کرنا، یہ سب اسی ’’عظیم الشان‘‘منصوبے کا حصہ تھا ۔جسکا واحد مقصد دنیا کے خزانوں پر قبضہ کرنا ہے۔تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی کہیں انسانی حقوق کا نعرہ بلند ہوا سمجھ لو کہ کسی آزاد ملک کے وسائل پر شبخون مارنے کی تیاری مکمل ہو چکی ۔دنیا کے نقشے پرلاطینی امریکا کے ایک گوشے میں وینزویلانامی اس ملک کو محض ایک جغرافیائی اکائی سمجھنا تاریخ کی بوالعجبی ہوگی۔ یہ خطہ زمین قدرت کا وہ شاہکار ہے جسکی مٹی میں اتنے خزانے ہیں کہ اسکے نصیب میں دائمی اضطراب لکھ دیا گیا۔جہاں رزق وافر ہو جائے، وہاں شکاریوں کا ہجوم ایک فطری امر ہے۔اس سرزمین کے سینے میں تین سو ارب بیرل خام تیل کی صورت میں سیاہ سونا موجزن ہے۔ عالمی تجزیہ نگاروں کےمطابق یہ مقدار سعودی عرب کے صحراؤں کو بھی پیچھے چھوڑ دیتی ہے۔افسوس کہ یہی تیل اس قوم کیلئے چراغ کی روشنی نہیں بلکہ شعلہِ جوالا ثابت ہوا۔

بیسویں صدی کے وسط میں جب شمالی سمندروں سے کارپوریٹ عقاب یہاں اترے تو ریاست ایک بے بس تماشائی بن کر رہ گئی۔ منافع کی نہریں شمال کی طرف بہہ نکلیں اور جنوب کے شہروں کے مقدر میں صرف گردِ راہ ٹھہری۔ ہوگو شاویز نے جب تاریخ کے ماتھے پر یہ تحریر لکھی کہ’’زمین کا باطن اس کے باسیوں کا ہے‘‘، تو دراصل اس نے اس عالمی نظام کو للکارا تھا جو صرف اطاعت کا خوگر ہے۔ یہیں سے اس معتوب قوم کا وہ سفر شروع ہوا جسے دنیا 'ناراضی کہتی ہے اور صاحبِ نظر 'عزتِ نفس کی قیمت سمجھتے ہیں۔​تیل سے ذرا آگے بڑھیے تو اورینوکو کے کناروں پر سونے کی چمک آنکھوں کو خیرہ کرتی ہے۔ سونا، جو ہمیشہ سے اقتدار کی آخری پناہ گاہ اور ڈالر کے کاغذی جاہ و جلال کے لیے سب سے بڑا خطرہ رہا ہے۔ جب اس بدنصیب ملک نے مغربی تجوریوں سے اپنا امانت شدہ سونا واپس مانگا تو عالمی بینکوں کے در و دیوار سے اخلاقیات کے بجائے پابندیوں کے فرمان جاری ہوئے۔ اس دنیاکادستور تودیکھیے جب کسی کمزور نے اپنے ہی خزانے پر حق جتایا اسے دنیا کے بڑوں نے جرمِ عظیم قرار دے دیا۔وینزویلا کی داستاں صرف تیل اور سونے تک محدود نہیں۔ اسکے کوہساروں اور بیابانوں میں وہ 'نایاب معدنیات دفن ہیں جو اکیسویں صدی کی ٹیکنالوجی کا ایندھن ہیں۔ وہ کولٹن جسے دنیا 'نیلا سونا کہتی ہے اور جسکی طلب نے افریقہ کے امن کو چاٹ لیا یہاں کی مٹی میں بھی ایک خاموش طوفان کی طرح موجود ہے۔ جہاں کولٹن برآمد ہوا وہاں سکون نے ہجرت کر لی۔ جدید میزائل ہوں یا ہاتھ میں پکڑا اسمارٹ فون، ان سب کی روح وینزویلا کی گویا’’ کانوں‘‘میں قید ہے۔ چین اس خاموش حقیقت کو بھانپ چکا ہے اور مغرب اس کی آہٹ سے لرزاں ہے۔لوہا، باکسائٹ اور قدرتی گیس کے ذخائر اس ملک کو ایک عظیم صنعتی طاقت بنا سکتے تھے لیکن خود مختاری کا خواب عالمی مصلحتوں کی آنکھ میں ہمیشہ کھٹکتا رہا۔

سوال کبھی یہ تھا ہی نہیں کہ وینزویلا کے پاس کیا ہے۔ سوال تو ہمیشہ یہ رہا کہ وہ یہ دولت بانٹتا کس کے ساتھ ہے۔ جب یہ وسائل ماسکو اور بیجنگ کی طرف مائل ہوئے تو واشنگٹن کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔ یہ جنگ معاشی نہیں، اسٹریٹجک ہے۔ یہ معرکہ محض منڈیوں کا نہیں بلکہ اس مرکزِ ثقل کو بچانے کا ہے جو صدیوں سے ایک ہی سمت میں قائم رہا ہے۔ایران، عراق اور لیبیا کے مزاروں پر لکھے کتبے پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ جن اقوام کے پاس وسائل کی بہتات ہوانہیں دفاع کی ضرورت دوچند ہو جاتی ہے۔ وسائل نے انہیں مضبوط نہیں کیا انہیں 'ہدف بنا دیا۔

وینزویلا آج اسی دوراہے پر کھڑا ہے جہاں تاریخ اپنا آخری فیصلہ سناتی ہے۔ کیا وہ اپنی دولت کے ساتھ جئے گایا اسی کے بوجھ تلے دفن ہو جائے گا؟​تاریخ کا سبق ایک ہی ہے: جو قومیں اپنے خزانے کی حفاظت اپنے خون سے نہیں کرتیں ان کا مالِ غنیمت دوسروں کے کام آتا ہے۔ وینزویلا کی مٹی آج ایک بوجھل سناٹے میں سانس لےرہی ہے ایک ایسا سناٹا جو شاید کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ یا پھر شاید کسی عظیم تہذیبی زوال کا نوحہ ہی ثابت ہو۔

تازہ ترین