• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شواہد سے ظاہر ہوا مئی تنازع میں جنگ بندی کیلئے بھارت نے تیسرے ملک سے مداخلت کروائی، ترجمان دفتر خارجہ

فائل فوٹو
فائل فوٹو

ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ شواہد سے ظاہر ہوا مئی تنازع میں جنگ بندی کیلئے بھارت نے تیسرے ملک سے مداخلت کروائی۔

ہفتہ وار بریفنگ کے دوران طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ بھارت کا دہشتگردی پر من گھڑت بیانیہ اور پاکستان کے خلاف جارحیت حقائق کو نہیں چھپا سکتا، بھارت خطے میں امن کا مسلسل خلل ڈالنے والا کردار ادا کرتا رہا ہے، بھارت نے بیرونِ ملک ماورائے عدالت قتل کیے اور ہمسایوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی۔

طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ کلبھوشن جیسے آپریٹوز کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کی گئی، بھارت نے مطلوب مجرموں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کیں، بھارت میں اقلیتوں کو بڑھتی ہوئی ہراسانی اور جبر کا سامنا ہے۔

طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں کشمیری سیاسی رہنما اور سول سوسائٹی کے ارکان قید ہیں، سینئر کشمیری رہنما شبیر شاہ کئی برسوں سے طویل قید کا سامنا کر رہے ہیں، خاتون کشمیری رہنما آسیہ اندرابی بھی طویل عرصے سے بھارتی حراست میں ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ دیگر کشمیری سیاسی رہنما بھی دہائیوں پر محیط قید و بند کی سزا کاٹ رہے ہیں، یاسین ملک کو جعلی مقدمے میں سزا سنائی گئی، کشمیری صحافی عرفان مجید بھارتی حکام کی انتقامی کارروائیوں کے باعث جیل میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف بیرونی جارحیت اور دھمکیوں کی پاکستان نے مخالفت کی ہے، ایران پر پابندیوں کی پاکستان نے ماضی میں مخالفت کی اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔

ترجمان نے کہا کہ جوہری معاہدے سے متعلق پابندیوں کو غیر تعمیری قرار دیا گیا، ایران کی اندرونی صورتحال اس کا داخلی معاملہ ہے، پاکستان کسی بھی پڑوسی ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون مضبوط اور کثیر الجہتی نوعیت کا ہے، سعودی عرب سے کسی مخصوص دفاعی پلیٹ فارم یا قرض پر کسی حتمی معاہدے کی اطلاع نہیں۔

ترجمان نے کہا کہ کسی بھی ممکنہ دفاعی معاہدے کی تصدیق باضابطہ تکمیل کے بعد کی جائے گی، پاک سعودی دفاعی تعاون جاری ہے جو دوطرفہ فریم ورک کے تحت آگے بڑھ رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں مزید پاکستانی فوجی بھیجنے کے کسی فیصلے کی معلومات نہیں، فوجیوں کی تعداد میں اضافے سے متعلق قیاس آرائیوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جاسکتا، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان متعدد دفاعی منصوبے زیرِ غور ہیں۔

قومی خبریں سے مزید