• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایک زمانہ تھا جب مہینے میں ایک بار سینما جانا خاندانی تفریح کی ایک صحت مند روایت سمجھا جاتا تھا۔ 1970ء کی دہائی میں اردو اور پنجابی فلموں میں ایسی کشش، جان داری اور اخلاقی وضاحت موجود تھی جس کا تصور آج کے ناظرین شاید ہی کر سکیں۔ ہیرو بلاشبہ ہیرو ہوتے تھے، ولن کھلے عام اپنی بدی کا اظہار کرتے تھے، اور مکالمےاکثر گرجداراجتماعی یادداشت پر گہرا نقش چھوڑ جاتے تھے۔ انہی گونجتی آوازوں میں ایک نہایت باوقار اور رعب دار آواز مظہر شاہ کی تھی، جن کی سخت گیر شخصیت اور وضع قظع کے باعث اسکرین پر ان کی موجودگی نے دہائیوں تک اردو اور پنجابی فلموں پر اپنی دھاک بٹھائے رکھی۔ 1958ء سے 2016ء تک وہ تقریباً 193 فلموں میں نظر آئے، زیادہ تر ولن کے کرداروں میں، جن کے غصے، تکبر اور بلند آہنگ پنجابی للکاریں اور بڑھکیں افسانوی حیثیت اختیار کر گئیں۔

ان کی فلموں میں ایک منظر خاص طور پر عوامی یادداشت میں ثبت ہے۔ ایک فلم میں مظہر شاہ بطور ولن ہیروئن کے والد کو اس کی بیٹی سے شادی کی پیشکش بھجواتا ہے اور صاف لفظوں میں اس کا ہاتھ مانگتا ہے۔ باپ کے انکار پر غیظ و غضب بھڑک اٹھتا ہے۔ اپنی مخصوص، تیز اور کرخت آواز میں ایک ہی حکم دیتا ہے اور اپنے کارندوں کو لڑکی (ہیروئن) اٹھا لانے کا فرمان جاری کرتا ہے۔ ہیروئن کو گھر سے اغوا کر کے ولن کے ڈیرے پر لایا جاتا ہےپورا منظر اس دور کے مبالغہ آمیز ڈرامے کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ برسوں تک مجھے وہ فلم یاد نہ آئی، مگر اچانک وہ منظر پوری شدت سے ذہن میں تازہ ہو گیا جب خبر آئی کہ وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو امریکہ کے صدر کے حکم پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس حقیقی واقعے میں نہ تو امریکی صدر روایتی فلمی ولن ہیں اور نہ وینزویلا کے صدر کوئی بے بس ہیروئن، مگر بصری اور علامتی مشابہت نظر انداز کرنا ممکن نہ تھا۔

واشنگٹن کے ساتھ طویل کشیدگی رکھنے والا وینزویلا بین الاقوامی فورمز، خصوصاً اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاسوں میں، مسلسل امریکی پالیسیوں اور امریکی صدور پر تنقید کرتا رہا ہے۔ اس کے قائدین خودمختاری، مزاحمت اور وقار کے نعرے بلند کرتے رہے ہیں۔ اس پس منظر میں وینزویلا کے صدر کی گرفتاری محض ایک معمول کی قانونی کارروائی سے زیادہ ایک سیاسی ہلچل کے منظر کی مانند دکھائی دی۔ اطلاعات کے مطابق‘‘آپریشن ایبسولیٹ ریزولو’’کے نام سے کی جانے والی اس کارروائی میں وینزویلا کے فوجی اہداف پر فضائی حملے بھی شامل تھے، جن میں درجنوں افراد جان سے گئے، اس کے بعد صدر اور ان کی اہلیہ کو کاراکاس سے گرفتار کر کے نیویارک منتقل کیا گیا تاکہ ان پر منشیات دہشت گردی کی سازش اور اسلحہ سے متعلق جرائم سمیت وفاقی الزامات کی سماعت ہو۔ یہ الزامات 2020ء کی ایک فردِ جرم سے جڑے ہیں، جس میں ان پر نام نہاد‘‘کارٹل آف دی سنز’’کی قیادت اور فارک جیسے مسلح گروہوں سے تعاون کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

اس واقعے کو خاص طور پر تشویش ناک بنانے والی بات محض اس کی ڈرامائی نوعیت نہیں، بلکہ اس کا تزویراتی اور قانونی پس منظر ہے۔ وینزویلا کوئی بے دست و پا ریاست نہیں۔ 2025ء کے گلوبل فائر پاور انڈیکس کے مطابق اس کی فوجی درجہ بندی 145 ممالک میں 50ویں نمبر پر ہے، اس کے پاس خاطر خواہ افرادی قوت اور تقریباً 4.1 ارب ڈالر کا دفاعی بجٹ ہے۔ جغرافیہ اور فورس اسٹرکچر اسے خطے میں بالخصوص دفاعی اعتبار سے مضبوط بناتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ حیران کن اس کی قدرتی دولت ہے۔ اندازوں کے مطابق وینزویلا کے قدرتی وسائل کی مالیت 14.3 کھرب ڈالر کے قریب ہے، جس کی بنیاد اس کے وسیع تیل کے ذخائر ہیںتقریباً 303 ارب بیرل، جو دنیا میں ثابت شدہ ذخائر میں سب سے زیادہ اور عالمی مجموعے کا لگ بھگ 18فیصد بنتے ہیں۔ اس اعتبار سے وینزویلا سعودی عرب اور ایران سے بھی آگے ہے، اگرچہ پابندیوں اور بنیادی ڈھانچے کی زبوں حالی نے اس برتری کو ماند کر دیا ہے۔اس کے باوجود عسکری طاقت اور وسائل کی فراوانی اس وقت بے معنی ثابت ہوئی جب معمول کے بین الاقوامی طرزِ عمل سے ماورا طاقت استعمال کی گئی۔

امریکہ اپنے اقدام کو داخلی نظائر کے ایک متنازع امتزاج سے درست ثابت کرتا ہے؛ بیرونِ ملک اطلاق رکھنے والی وفاقی فردِ جرمیں، آئین کے آرٹیکل دوم کے تحت صدارتی اختیارات، اور کیر–فرسبی جیسے قانونی نظریات، جن کے مطابق عدالتیں اس بات سے قطع نظر مقدمہ چلا سکتی ہیں کہ ملزم کو عدالت کے سامنے کیسے لایا گیا۔ تاریخی مثال کے طور پر 1989ء میں پاناما کے مینوئل نوریگا کی گرفتاری (‘‘آپریشن نفٹی پیکج’’) پیش کی جاتی ہے۔ مزید یہ کہ واشنگٹن کا استدلال ہے کہ چونکہ وہ 2019ء سے وینزویلا کے رہنما کو جائز تسلیم نہیں کرتا، اس لیے وہ خودمختار استثنا کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔ تاہم بین الاقوامی قانون کے ماہرین کی غالب اکثریت اس منطق کو مسترد کرتی ہے اور خبردار کرتی ہے کہ بین الاقوامی اصولوں کی جگہ داخلی تشریحات مسلط کرنا عالمی نظام کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔

اگر ایسے واقعات معمول بن گئے تو عالمی امن کا مستقبل تاریک دکھائی دیتا ہے۔ جب طاقتور ریاستیں زبردستی غیر ملکی رہنماؤں کو گرفتار کرنے کا حق اپنے لیے مان لیں گی تو کمزور ممالک مستقل عدمِ تحفظ کا شکار رہیں گے، سفارت کاری کھوکھلی ہو جائے گی، اور مکالمے یا قانونی طریقوں سے تنازعات حل کرنے کی ترغیب کم ہوتی جائے گی۔ حوالگی (ایکسٹراڈیشن) کا قائم شدہ نظام—جو معاہدات اور عدالتی جانچ پر مبنی ہے—اسی یک طرفہ پن کو روکنے کے لیے وجود میں آیا تھا۔

آگے بڑھنے کا راستہ ضبطِ نفس اور بین الاقوامی قانون سے ازسرِنو وابستگی میں ہے۔ اگر فلمی جذبات قانونی اصولوں کی جگہ لے لیں تو عالمی امن برقرار نہیں رہ سکتا۔ طاقتور ریاستوں کو سرحدوں سے باہر خود کو منصف، منصفِ اعلیٰ اور سزا پر عمل درآمد کرنے والا سمجھنے کی خواہش پر قابو پانا ہوگا۔ کثیرالجہتی اداروں کو—خواہ وہ کتنے ہی ناقص کیوں نہ ہوں—نظرانداز کرنے کے بجائے مضبوط کرنا ہوگا۔ بصورتِ دیگر دنیا ایک ایسے انتشار کی طرف بڑھ سکتی ہے جہاں ہر گرجدار حکمِ‘‘ چُک لیاؤ اونہو’’یا‘‘ اٹھا لاؤ اسے’’سنیما اسکرین سے نہیں، بلکہ ایک منقسم اور خوف زدہ عالمی اسٹیج پر گونجتا سنائی دے۔

تازہ ترین