ایران کے دارالحکومت تہران اور دیگر بڑے شہروں میں جاری حکومت مخالف مظاہرے شدت اختیار کرگئے، تہران اور مشہد میں گزشتہ رات مظاہرین نے مارچ کیا۔
انسانی حقوق کے گروپوں کے مطابق احتجاج ایران کے تمام 31 صوبوں میں 100 سے زیادہ شہروں تک پھیل چکا ہے، جس میں اب تک 47 افراد ہلاک ہوچکے ہیں، 2,500 کے قریب مظاہرین گرفتار ہیں۔
ایران عوام سے خطاب میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے عوام سے اتحاد و یکجہتی برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ کچھ فسادی عناصر عوامی املاک کو نقصان پہنچا کر امریکی صدر ٹرمپ کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔
خامنہ ای نے ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ملک کے مسائل پر توجہ دیں، ایران کسی غیر ملکی طاقت کے لیے کام کرنے والے کرائے کے فوجیوں کو برداشت نہیں کرے گا۔
دوسری جانب ایران نے اقوام متحدہ سے ریاستی خود مختاری کے تحفظ اور مداخلت روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ داخلی معاملات پر امریکی بیانات مداخلت اور دھوکا دہی ہیں اور امریکی مؤقف ایران کے خلاف دشمنی اور دباؤ کی پالیسی کا تسلسل ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی بیانات عوام کی ہمدردی نہیں، بدامنی اور تشدد کو ہوا دینےکی کوشش ہیں، آئین کے تحت پُرامن احتجاج کو تسلیم کیا جاتا ہے، جائز عوامی مطالبات قانون کے دائرے میں حل کیے جائیں گے۔
وزارت خارجہ نے کہا کہ ایران میں معاشی مشکلات کی بڑی وجہ غیرقانونی اور ظالمانہ امریکی پابندیاں ہیں، امریکا ہمارے خلاف معاشی نہیں بلکہ نفسیاتی اور میڈیا جنگ بھی کر رہا ہے، امریکی اقدامات یواین چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر کا بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ دنیا بھر کے ممالک پر امریکی فوجی حملے یا جارحیت کا حکم دینے کا مکمل اختیار رکھتا ہوں۔
اپنے ایک بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ بحیثیت کمانڈر اِن چیف اپنے اختیارات کی حد کا فیصلہ کرنے والا میں خود ہی ہوں، جو واحد چیز مجھے روک سکتی ہے وہ میری اپنی اخلاقیات اور میرا اپنا دماغ ہے۔