جنگل کے قانون، جس کی لاٹھی اس کی بھینس یا مائٹ از رائٹ کا فلسفہ یوں تو انسانی تاریخ کے بیشتر ادوار میں دنیا پر حکمرانی کرتا رہا ہے،لیکن پچھلی صدی میں ہونے والی دو عالمی جنگوں کے تباہ کن نتائج دیکھ لینے کے بعد تمام اقوام عالم نے طے کیا تھا کہ اپنے اختلافات اور تنازعات کا تصفیہ طاقت کے بل پر اور جنگ کے میدان میں نہیں بلکہ مذاکرات کی میز پر کریں گی اور پوری انسانی برادری کی ترقی و خوشحالی کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں گی۔
اس مقصد کیلئے ہونے والی تاریخی کانفرنس کا اہتمام دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑی عالمی طاقت کی حیثیت سے ابھرنے والے امریکہ نے کیا تھا۔ آج سے 80سال پہلے سان فرانسسکو میں پچاس ملکوں کے نمائندوں نے پچیس اپریل سے چھبیس جون 1945 ءتک تقریباً دو ماہ کے غور و فکر کے بعد عالمی امن کی خاطر ایک بین الاقوامی ادارے کی تشکیل پر اتفاق کیا ۔ اس وقت کے امریکی صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ نے اس ادارے کا نام یونائٹڈ نیشنز آرگنائزیشن تجویز کیا ۔ اس ادارے کا منشور اس اعلان کے ساتھ دنیا کے سامنے آیا کہ’’ہم اقوام متحدہ کے ارکان نے طے کیا ہے کہ آنے والی نسلوں کو جنگ کی لعنت سے بچائیں گے۔ انسانوں کے بنیادی حقوق کی بحالی کو یقینی بنائیں گے اور انسانی اقدار کی عزت اور قدر ومنزلت کریں گے۔مرد و زن اور چھوٹی بڑی قوموں کے حقوق برابر ہوں گے۔ایسے حالات پیدا کریں گے کہ معاہدوں اور بین الاقوامی قانون کی عائد کردہ ذمہ داریوں کو نبھایا جاسکے۔ آزادی کی ایک وسیع فضا میں اجتماعی ترقی کی رفتار بڑھے اور زندگی کا معیار بلند ہو۔ ‘‘
اقوام متحدہ کے قیام اور پھر اس کی سرپرستی میں امریکہ کے قائدانہ کردار نے اس کے بارے میں عالمی سطح پر انسانی حقوق، آزادی اور عالمی امن و سلامتی کے علم بردار ہونے کا تاثر عام کیا۔ اسے مہذب دنیا کے لیڈر کا مقام ملا اور اس نے فی الواقع اعلیٰ تعلیمی اداروں اور سائنسی تحقیق کی تنظیموں کے قیام کے ذریعے پوری انسانی برادری کی ترقی میں نہایت قابل قدر کردار ادا کیا۔ اقوام متحدہ کے تحت قائم عالمی صحت ، موسمیاتی تبدیلیوں اور انسانی بہبود سے متعلق دیگراداروں کیلئےامریکی حکومتوں کا بھرپور تعاون پوری دنیا کے لوگوں کی فلاح کا سبب بنا۔ بہت سے بین الاقوامی تنازعات میں بھی اقوام متحدہ کے ساتھ امریکی تعاون نتیجہ خیز ثابت ہوا۔ تاہم فلسطین اور کشمیر کے قضیوں کے منصفانہ تصفیے میں امریکہ کی عدم دلچسپی بلکہ غاصب قوتوں کی پشت پناہی ، نیز ویت نام ، عراق اور افغانستان پر بلاجواز فوج کشی جیسے اقدامات کی بنا پر عالمی رائے عامہ کا ایک بڑا حصہ اسے پرامن جمہوری قوت کے بجائے ایک سامراجی طاقت قرار دینے لگا۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو کے ہتھیار کا بے محابا اور ناجائز استعمال کرکے امریکہ نے دنیا سے ظلم و جبر کے خاتمے کے بجائے اس کے فروغ میںمعاونت کا رویہ اپنا لیا اور یوںاقوام متحدہ اور خود اپنی کی ساکھ کو بری طرح متاثر کیا۔
امریکی قیادت کا یہ طرز عمل آج نئی انتہاؤں پر نظر آتا ہے۔ امریکہ کے موجودہ صدرڈونلڈ ٹرمپ آٹھ جنگیں بند کرانے اور اس بنیاد پر نوبل امن انعام کے حقدار ہونے کے دعووں کے بعد جنگ کے دیوتا کا روپ دھار چکے ہیں۔ وینزویلا کے خلاف کھلی جارحیت اور اس کے سربراہ صدر مادورو کو ان کی اہلیہ سمیت اغوا کرنے کے بعد اس ملک کے تیل کے وسیع ذخائر کو لامحدود مدت تک امریکہ کے لیے استعمال کرنے کے ان کے علانیہ عزائم اور وینزویلا کے بعد متعدد دوسرے ملکوں کے خلاف جارحیت کے اعلانات نے ان کی امن دوستی کے دعووں کی ہوا نکال دی ہے۔ ان ملکوں میں امریکہ سے دوہزار میل دور ڈنمارک کے زیر انتظام نایاب معدنیات سے مالا مال گرین لینڈ بظاہر اب ان کا پہلاہدف نظر آتا ہے۔ ایران کو وہ کھلی دھمکیاں دے رہے ہیں اور اسرائیل سے ملی بھگت کے ساتھ ایک بار پھر اس پر حملے کے واضح اشارے دے چکے ہیں جس کی وجہ بظاہر یہ ہے کہ امریکہ کے لے پالک صہیونی حکمرانوں کے گریٹر اسرائیل کے منصوبے کی راہ میں ایران ایک بڑی رکاوٹ ہے ۔ وینزویلا میں کارروائی کے چند گھنٹوں بعد صدر ٹرمپ نے کولمبیا کے صدر گسٹاؤ پیٹرو کو خبردار کیا کہ وہ بھی اپنی کرسی کی خیر منائیں ۔ واضح رہے کہ وینزویلا کا مغربی پڑوسی کولمبیا بھی نہ صرف تیل کے ذخائر سے مالا مال ہے بلکہ یہاںسونے، چاندی، پلاٹینم ، زمرد اور کوئلے کی کانیں بھی ہیں۔ وینزویلا اور کولمبیا کی طرح میکسیکو پر بھی منشیات فروشی کا الزام عائد کرتے ہوئے گزشتہ اتوار کو صحافیوں سے بات چیت میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ لگتا ہے اس کے خلاف بھی کچھ کرنا پڑے گا۔
صدر ٹرمپ اپنے اس رویے سے عالمی رائے عامہ کو نہ صرف اپنے بلکہ اپنے ملک کا بھی مخالف بنارہے ہیں۔ ان کے ملک نے انسانی حقوق اور امن و انصاف کے علم بردار کے طور پر مہذب دنیا کے قائد کا جو مقام حاصل کیا تھا ، ٹرمپ اس کے بجائے اسے دنیا میں جنگل کا قانون رائج کرنے والی طاقت ثابت کررہے ہیں۔ اپنے ایک تازہ اقدام سے انہوں نے اس تاثر کو مزید پختہ کرنے کا اہتمام بھی کرڈالا ہے۔ انہوں نے گزشتہ روز اقوام متحدہ کے 31 اداروں سمیت 66 بین الاقوامی اداروں سے امریکہ کو الگ کرنے کا اعلان کردیا ہے جن میں صحت عامہ، موسمیاتی تبدیلی اور انسانی بہبود کے متعدد ادارے اور تنظیمیں شامل ہیں۔اس طرح صدر ٹرمپ خود ہی اپنے ملک کو عالمی برادری کی قیادت اور سربراہی کے مقام سے محروم کرنے کے اس راستے پر چل رہے ہیں جو شاید آئندہ چند برسوں میں امریکہ کی بین الاقومی اہمیت کو اسی طرح ختم کرنے کا سبب بن جائے گا جس طرح پچھلی صدی کی آخری دہائی میں سابق روسی صدر گورباچوف کے ہاتھوں سوویت یونین کا خاتمہ ہوا تھا اور ایسا ہوا تھا تو عین ممکن ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ عالمی سیاسی تاریخ میں امریکی گورباچوف کا لقب پائیں ۔