• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی: آوارہ کتوں کی بہتات، شہریوں کا گھر سے نکلنا محال

فوٹو: فائل
فوٹو: فائل

کراچی میں آوارہ کتوں کی بہتات نے شہریوں کا گھر سے نکلنا محال کردیا ہے۔

رواں ماہ کے ابتدائی ہفتے میں ہی شہر میں کتے کے کاٹے کے 800 سے زائد کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں، شہر میں کتوں کی تعداد میں اضافہ شہریوں کے لئے خوف کا باعث ہے۔

2022ء میں شروع ہونے والا سندھ حکومت کا ریبیز کنٹرول پروگرام مطلوبہ ہدف حاصل نہ کرسکا، بڑے بجٹ اور طویل منصوبے کے باوجود صرف محدود ویکسینیشن اور نیوٹرنگ ہوئی ہے۔

رواں سال کے پہلے ہی ہفتے میں شہر میں کتے کے کاٹے کے 800 سے زائد کیس رپورٹ ہوچکے ہیں، لیکن ریبیز کنٹرول پروگرام جس کا آغاز 2022ء میں ہوا تھا، اس کی افادیت نظر نہیں آتی۔

اس پروگرام کے تحت کتوں کو مارنے کے بجائے ان کی افزائش نسل کو روکنا تھا، لیکن 4 سال گزر گئے اور مطلوبہ اہداف حاصل نہ ہوسکے، کتوں کو جب بھی اور جہاں بھی موقع ملتا ہے، وہ شہریوں کو بھنبھوڑ ڈالتے ہیں۔

ضلع غربی، کورنگی، کیماڑی اور ملیر میں کتوں کے کاٹنے کے سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے۔

کراچی میں ریبیز کنٹرول پروگرام کے تحت ٹارگٹ رکھا گیا تھا، 1 لاکھ 25 ہزار کتوں کو کور کرنا تھا، لیکن پروگرام کے لیے کے ایم سی کی صرف 4 گاڑیاں اور 2 کرائے کی گاڑیاں دستیاب ہیں۔

6 سے 7 سینٹرز کا مستقل عملہ بھی اتنا ہی ہے جبکہ پروگرام کے 96 کروڑ 30 لاکھ روپے کے بجٹ میں سے صرف 30 فیصد فنڈ استعمال ہوسکا ہے۔

ماہرین کے مطابق نیوٹرنگ ہی طویل المدتی حل ہے، لیکن پروگرام کی سست رفتاری، محدود بجٹ اور انتظامی رکاوٹوں کی وجہ سے شہری اب بھی خطرے میں ہیں۔

حکام کے مطابق کراچی میں 6 سینٹر فعال ہیں اور ملیر میں سینٹر تعمیر کے آخری مراحل میں ہے، کتوں کو پکڑ کر متعلقہ سینٹر میں لایا جاتا ہے، جہاں انہیں افزائش نسل سے روکنے کے لئے نیوٹر کیا جاتا ہے۔

کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں اضافہ تشویشناک ہے، شہریوں کو خوف سے نکالنے اور محفوظ رکھنے کے لئے آوارہ اور خطرناک کتوں کا خاتمہ ضروری ہے۔

قومی خبریں سے مزید