• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں جب بھی پچھلے پندرہ برسوں میں وزیرِاعلیٰ ہاؤس کے دروازے پار کرتا ہوں تو وہاں طاقت، اختیار اور پروٹوکول سے زیادہ ایک منظر میرا منتظر ہوتا ہے۔ ایک ایسا منظر جو کراچی کی دھول، ناظم آباد کی گلیوں اور غریب آدمی کے پسینے سے جڑا ہوا ہے۔ اس منظر میں ایک شخص بار بار نظر آتا ہے۔ وقار مہدی۔

میں نے ان کو کبھی کسی قیمتی صوفے پر ٹیک لگائے، فائلوں کے انبار کے پیچھے چھپتے نہیں دیکھا۔ میں نے انہیں ہمیشہ کھڑے دیکھا۔ کبھی کسی بوڑھی عورت کے ساتھ، کبھی کسی نوجوان کے ساتھ جس کی آنکھوں میں نوکری کی آس ہوتی ہے، کبھی کسی مزدور کے ساتھ جس کے ہاتھ میں فریاد ہوتی ہے۔ وزیرِاعلیٰ ہاؤس کے دروازے ان کیلئے محض دروازے نہیں تھے، یہ راستے تھے، جن سے وہ مظلوم اور غریب آدمی کو اندر لاتے تھے۔ میں نے بارہا دیکھا کہ وہ خود درخواست لیتے، خود سنتے، خود متعلقہ افسر کو فون کرتے اور خود پیچھے پڑ جاتے کہ مسئلہ حل ہوا یا نہیں۔

یہ مشاہدہ ایک دن، ایک ہفتے یا ایک سال کا نہیں۔ یہ پندرہ برس کی مسلسل دیکھنے اور پرکھنے کی کہانی ہے۔ میں نے ان کو ہمیشہ غریب اور مظلوم لوگوں کے لیے نوکریوں کی بھاگ دوڑ کرتے دیکھا، تب بھی جب کیمرے بند تھے اور تب بھی جب کوئی خبر بننے والی نہیں تھی۔ میں نے انہیں کبھی ذاتی فائدہ لیتے نہیں دیکھا۔ نہ کسی پلاٹ کی بات، نہ کسی ٹھیکے کی خوشبو، نہ کسی کاروباری مفاد کی سرگوشی۔ وہ سیاست جو مفادات سے شروع ہو کر مفادات پر ختم ہو جاتی ہے، وہ اس سیاست کا حصہ کبھی نہیں بنے۔

ان کی سیاست کا مرکز پارٹی رہی۔ وہ پارٹی جو انہوں نے انیس سو ستر کی دہائی میں جوائن کی۔ وہی پارٹی، وہی جھنڈا، وہی نعرہ۔ نہ کبھی وفاداری بدلی، نہ کبھی دروازہ بدلا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو ہوں، آصف علی زرداری ہوں، بلاول بھٹو زرداری ہوں یا فریال تالپور، میں نے ان کو ان سب کے ساتھ مخلص پایا۔ اختلاف رائے ہو سکتا ہے، رائے بدل سکتی ہے، مگر وفاداری میں لغزش نہیں دیکھی۔وقار مہدی کا تعلق کراچی سے ہے، ناظم آباد سے۔ وہ ناظم آباد جس نے متوسط طبقے کو جنم دیا، جہاں گھروں کے دروازے چھوٹے مگر دل بڑے ہوتے ہیں۔ ان کے والد اصغر مہدی مرحوم صاحب لکھنؤ سے تعلق رکھتے تھے، شاعر تھے۔ شاید اسی لیے ان کی گفتگو میں سختی کم اور درد زیادہ ہوتا ہے۔ شاید اسی لیے وہ الفاظ سے پہلے انسان کو پڑھتے ہیں۔ شاعر کا بیٹا ہونا بھی ایک تربیت ہوتی ہے، حساسیت کی تربیت۔

ان کی زندگی کا ایک سخت موڑ ان کی گرفتاری بھی تھی۔ ماضی میں پیپلز پارٹی کی حکومت ختم ہوئی تو وہ گرفتار ہو گئے،پارٹی چھوڑنے اور قیادت کے خلاف جانے کا دباؤ بھی تھا، وہ لمحہ جب آسان راستے کھلے تھے، مگر انہوں نے مشکل راستہ چنا۔ گرفتاری نے انہیں کمزور نہیں کیا، بلکہ پارٹی کی قیادت اور کارکنوں کی نظر میں مضبوط کر دیا۔ وہ دن پیپلز پارٹی کے لیے بھی ایک پیغام تھا کہ اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو قیمت ادا کرتے ہیں، سودے نہیں کرتے۔

یہاں پیپلز پارٹی کا ذکر ناگزیر ہے۔ ایک ایسی جماعت جسے کراچی میں ووٹ ملنا ہمیشہ مشکل رہا، مگر اس کے باوجود اس جماعت نے کراچی کے اردو بولنے والوں کو نظرانداز نہیں کیا۔ پیپلز پارٹی نے کراچی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ایوانِ بالا تک پہنچایا۔ سینیٹ میں شیری رحمان، سلیم منڈوی والا، فاروق حمید نائیک، شہادت حسین اعوان، سید مسرور احسن، سرمد علی، فیصل واوڈا جیسے نام اس بات کی گواہی ہیں کہ یہ پارٹی ووٹ بینک سے آگے دیکھتی ہے۔یہ وہ فیصلے ہیں جو صرف بلاول بھٹو زرداری جیسی قیادت ہی کر سکتی ہے۔ سندھ کے وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے ایک ملاقات میں بتایا کہ بلاول کی کراچی سے محبت اب محض سیاسی بیان نہیں۔ انہوں نے واضح کر دیا ہے کہ کراچی کو بدلنا ہے۔ بڑے منصوبے، بڑی سرمایہ کاری، وسائل کی منصفانہ تقسیم۔ کراچی کو اب لاوارث نہیں چھوڑا جائے گا۔ یہ شہر اب مرکزِ توجہ ہے، اور یہ فیصلہ وقتی نہیں، طویل المدت ہے۔

وقار مہدی بلاول بھٹو اور پیپلز پارٹی کی اس سوچ کی مثال ہیں کہ کراچی کا متوسط طبقہ بھی سینیٹ کے فلور پر بیٹھ سکتا ہے، وہاں کھڑے ہو کر غریب کی بات کر سکتا ہے۔ میں نے ان کو ایوانِ بالا میں بھی ویسا ہی پایا جیسا وزیرِاعلیٰ ہاؤس میں دیکھا تھا۔ کراچی کے مسائل، مردم شماری، وسائل، شہری محرومیاں۔ ان کے لہجے میں شور نہیں، دلیل ہوتی ہے۔ ان کی بات میں اشتعال نہیں، تجربہ ہوتا ہے۔

یہ کالم کسی سرکاری تعارف کا خلاصہ نہیں۔ یہ ایک آنکھوں دیکھا حال ہے۔ ایک ایسے سیاست دان کی کہانی ہے جسے میں نے ہمیشہ دوسروں کے لیے کھڑا پایا۔ جو ہیرو بننے کی کوشش نہیں کرتا، جو گرفتاری دے کر بھی نظریہ نہیں چھوڑتا۔ جو طاقت کے مرکز میں رہ کر بھی کمزور کے ساتھ کھڑا رہتا ہے۔

ان کی سیاست میں شاید وہ چمک نہ ہو جو سوشل میڈیا مانگتا ہے، مگر اس میں وہ روشنی ضرور ہے جو اندھیرے میں راستہ دکھاتی ہے۔ وہ منفرد اس لیے ہیں کہ انہوں نے سیاست کو مفاد نہیں، خدمت بنایا۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ جب بھی میں وزیرِاعلیٰ ہاؤس کے دروازے سے اندر جاتا ہوں، وقار مہدی مجھے پھر کسی غریب کے ساتھ کھڑے ملتے ہیں۔ وہیں، اسی جگہ، اسی کردار میں۔یہ کردار بدلتا نہیںاور یہی اس کی سب سے بڑی طاقت ہے۔

تازہ ترین