• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا نے وینزویلا پر کھلی جارحیت کرکے سب ممالک کو گویا دوٹوک پیغام دیا ہے کہ وہ پوری دنیا کو اپنی کالونی سمجھتا ہے۔ وہ کسی بھی قاعدے قانون کا پابند نہیں۔ جو بھی ہمارے مفادات کیخلاف کام کرئیگا اسکا انجام یہی ہوگا۔ 1945ء سے لیکر آج 2026ء تک کی تاریخ اس کی گواہ ہے کہ 1945ء سے آج تک دنیا میں مجموعی طور پر 108بڑی جنگیں ہوئیں جن میں بارود کا کھلم کھلا استعمال ہوا۔ گھر جلے، شہر ویران ہوئے، لاشیں گریں، زخمیوں کی چیخوں اور مرنیوالوں کی آہوں سے زمین اور آسمان کے دامن میں چھید ہوئے۔ ان سب جنگوں کے پیچھے ایک ہی ملک اور ایک ہی قوم تھی یعنی امریکا اور امریکی۔ بعض جنگیں امریکا نے براہِ راست لڑیںاور بعض میں اس کا اسلحہ استعمال ہوا۔ وہ جنگیں جن میں امریکا شامل نہیں تھا، ان میں بھی مرنے والوں کے خون کے چھینٹے امریکی آستینوں پر ہی دکھائی دیتے ہیں۔ ان 108 جنگوں میں 1996ء تک ایک کروڑ نوے لاکھ تہتر ہزار انسان ہلاک ہوئے۔ مختصر تفصیل حاضر ہے۔ لاطینی امریکا میں ارجنٹائن، بولیویا، برازیل، چلی، کولمبیا، کوسٹا ریکا، کیوبا، ڈومنیکن ری پبلکن، فاک لینڈ، گوئٹے مالا، ہنڈراس، جمیکا، نکاراگوا، پانامہ، پیراگوئے اور پیرو میں 4 لاکھ 70 ہزار لوگ مارے گئے۔ مڈل ایسٹ اور شمالی افریقا میں الجیریا، مصر، ایران، عراق، اسرائیل، اردن، کویت، لبنان، مراکش، شام، تیونس اور یمن میں جنگیں ہوئیں جن میں 9 لاکھ 93 ہزار لوگ لقمہ اجل بن گئے۔ امریکا کی سازش سے افریقا کے 17ممالک جنگ کی بھٹی میں پگھلتے رہے۔ انگولا، برونڈی، ایتھوپیا، گھانا، گنی بساؤ، کینیا، لائیبریا، مڈغا سکر، موزمبیق، نائیجیریا، روانڈا، ساؤتھ افریقہ، سوڈان، یوگنڈا، زائرے، زیمبیا اور زمبابوے میں جنگیں اور خانہ جنگیاں ہوئیں جن میں 41لاکھ 64ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ یورپ کے ممالک چیکو سلواکیہ، یونان، ہنگری، رومانیہ اور ترکی جنگوں کا شکار رہے جن میں ایک لاکھ 86ہزار لوگ مارےگئے۔ ایشیا کے وسطی اور جنوبی ممالک افغانستان، بنگلہ دیش، بھارت، پاکستان اور سری لنکا میں جنگیں ہوئیں جن میں28 لاکھ57 ہزار لوگ مارے گئے۔ مشرقی ایشیا کے ممالک میں زیادہ خوفناک جنگیں ہوئیں جن میں کمبوڈیا، چین، انڈونیشیا، کوریا، لاؤس، ملائشیا، برما، فلپائن، تائیوان، روس اور ویتنام کی جنگوں میں ایک کروڑ 39 لاکھ 6 ہزار انسان ہلاک ہوئے۔ ان تمام جنگوں کے پیچھے امریکا تھا، ان تمام جنگوں میں امریکی اسلحہ استعمال ہوا۔ ان میں سے چند جنگیں تو ایسی تھیں اگر امریکا کی وزارتِ دفاع سے ایک ٹیلیفون آجاتا تو لاکھوں افراد خوفناک موت سے بچ جاتے لیکن فون تو رہا ایک طرف امریکی دفتر خارجہ نے عین جنگ کے موسم میں ایسے بیانات دینا شروع کردیئے جن کے نتیجے میں وہ جنگیں ناگزیر ہوگئیں۔

اس وقت بھی دنیا میں 68 ایسے تنازعات موجود ہیں جو دنیا کے 43فیصد معاشی وسائل کھارہے ہیں۔ میکسیکو امریکی ریاست ٹیکساس کا حصہ ہوا کرتا تھا، دونوں کا کلچر،زبان اور ثقافت ایک ہے۔ ٹیکساس کا سرحدی شہر الپا سو، آدھا میکسیکو اور آدھا امریکا میں ہے۔ دونوں ریاستیں تجارتی پارٹنر بھی ہیں لیکن میکسیکو کے اندر خانہ جنگی چل رہی ہے۔ 1996ء تک اس خانہ جنگی میں پانچ ہزارلوگ مارے گئے لیکن امریکا نے آج تک یہ خانہ جنگی رکوانے کی کوشش نہیں کی۔ کولمبیا کا تنازع 1963ء سے چل رہا ہے۔ اس میں 47 ہزار لوگ ہلاک ہوئے۔ ایکواڈور میں سات ہزار انسان مارے گئے۔ پیرو میں 1995ء میں30 ہزار، لیما، بولیویا اور پیراگوئے میں 11ہزار، برطانیہ اور ائر لینڈ 1969ءسے لڑ رہے ہیں۔ اس میں تین ہزار لوگ مارے گئے ہیں۔ الجیریا میں 1992ءتک 82ہزار، مغربی صحرا میں 1975ءسے 88ءتک 19ہزار۔ گنی بساؤمیں 98-1999ءکے دوران 2 ہزار۔ سیرالیون میں 1991ءمیں 43ہزار۔ نائیجیریا میں 1994-95ءکے دوران 5ہزار۔ کیمرون میں 1994ءمیں ایک ہزار۔ سوڈان میں 1983ءمیں 52 ہزار۔ یوگنڈا میں 9 ہزار۔ کانگو میں 1996ءکے دوران ایک لاکھ۔ انگولا میں 1992ءتک 61 ہزار۔ روانڈا 1990ءتک 8 لاکھ 13 ہزار۔ سوئزر لینڈ میں 14 ہزار۔ موزمبیق 1976ءسے 1995ءتک 50ہزار۔ صومالیہ 1991ءمیں 35 لاکھ 7 ہزار۔ کینیا 1996ءمیں ایک ہزار۔ ایتھوپیا 1997ءمیں دو ہزار۔ یونان میں 75ہزار۔ بلغاریہ 2 ہزار۔ گوئٹے مالا 1998ءمیں ڈیڑھ لاکھ۔ سلواڈور 95ءمیں 75 ہزار۔ نکارا گوا 1998ءمیں 30ہزار۔ مالے 1994ءمیں دو ہزار۔ چاڈ میں 1996ءکے دوران 13ہزار۔ یمن 1994ءمیں 7ہزار۔ الغازیہ 1994ءمیں 6ہزار۔ چیچنیا میں 1996ءمیں 35 ہزار۔ 1999ءمیں 5ہزار۔ نگورنو کا را باخ میں 1992ءسے 1994ء تک 22ہزار۔ شام 1988ءمیں 60 ہزار۔ عراق 1991ء میں 31 ہزار۔ ایران، عراق 1979ء میں مجموعی طورپر 28ہزار۔ افغانستان 1992ءتک 76ہزار۔ تاجکستان 1992ءسے 1997ء تک 51ہزار۔ کشمیر 1989ء میں 23ہزار۔ سیاچن 1984ء میں ایک ہزار۔ نیپال 1992ءمیں دو ہزار۔ آسام 1989ء میں 3ہزار۔ برما 1985ءمیں 9ہزار۔ کمبوڈیا 97-1998ء میں ایک ہزار۔ جاوا 1965ءمیں 30ہزار۔ فیجی، جزائر سلیمان، سائیپریس میں 14ہزار اور فلسطین میں 1978ءمیں 30ہزار انسان جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ شمالی اور جنوبی کوریا کا مسئلہ 1950ءاور تائیوان اور چین کا تنازع 1947ء سے چل رہا ہے۔ افغانستان پر 2001ء میں، عراق پر 2003ء میں اور اب 2026ء میں وینزویلا پر امریکی یلغار ۔ اگر امریکا 1945ء سے2026ء تک سو سے زیادہ جنگیں دنیا پر مسلط کرکے اب بھی باز نہیں آتا تو پھر اسے تاریخ یاد رکھنی چاہئے کہ کتنی سپر پاورز مٹ گئیں۔ انہوں نے بھی مظلوم قوموں پر طاقت کے گھمنڈ میں اتنے ہی ظلم کئے تھے ۔ بے شک ہر عروج کے بعد زوال ہے۔ امریکی مظالم کا حد سے بڑھنا، دنیا پر 108جنگیں مسلط کرنا، ملکوں ملکوں شب خون مارنا کہیں امریکا کے زوال کی طرف اشارہ تو نہیں؟اس پر ذرا سوچئے گا ضرور۔

تازہ ترین