• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی تاریخ میں اگر کسی طبقے نے خاموشی، تسلسل اور اخلاص کے ساتھ ملکی معیشت کو سہارا دیا ہے تو وہ اوورسیز پاکستانی ہیں۔ یہ وہ پاکستانی ہیں جو روزگار، تعلیم اور بہتر مستقبل کی تلاش میں وطن سے دور جا بسےمگر ان کا دل سوچ اور وابستگی آج بھی پاکستان کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ ہر مشکل وقت میں ان کی ترسیلاتِ زر سرمایہ کاری اور فلاحی خدمات پاکستان کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔لیکن افسوس کہ ریاستی سطح پر انہیں آج بھی محض زرمبادلہ بھیجنے والے افراد تک محدود سمجھا جاتا ہے۔

یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ اوورسیز پاکستانی سالانہ اربوں ڈالر پاکستان بھیجتے ہیں، جس سے نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ لاکھوں خاندانوں کی معاشی مشکلات میں بھی کمی آتی ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا ان کی خدمات کا دائرہ صرف پیسے تک محدودہے؟ ہرگز نہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں خدمات انجام دینے والے پاکستانی ڈاکٹر، انجینئر، آئی ٹی ماہرین، بزنس لیڈرز اور دیگر پروفیشنلز وہ قیمتی انسانی سرمایہ ہیں جو جدید سوچ، نظم و نسق اور عالمی تجربات پاکستان منتقل کر سکتے ہیں۔بدقسمتی سے پاکستان میں اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ رویہ اکثر مایوس کن رہا ہے۔ سرمایہ کاری کے نام پر پیچیدہ قوانین ،بیوروکریسی کی غیر ضروری مداخلت، عدم شفافیت اور پالیسیوں کے تسلسل کی کمی نے کئی سنجیدہ سرمایہ کاروں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔ سیاسی میدان میں بھی ان کی آواز کمزور رہی ہے۔ ووٹ کے حق پر بحث تو بہت کی گئی مگر ایک مؤثر قابلِ اعتماد اور مستقل نظام آج تک قائم نہ ہو سکا۔

اوورسیز پاکستانی دراصل پاکستان کے غیر رسمی سفیر ہیں۔ وہ بیرونِ ملک پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرتے ہیں، منفی پروپیگنڈے کا جواب دیتے ہیں اور تجارت، سرمایہ کاری اور سیاحت کے نئے مواقع پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ مگر اس کے لیے ریاست کو انہیں محض نعرے دینے کے بجائے عملی طور پر شراکت دار بنانا ہوگا۔

اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان سنجیدگی سے اپنی ڈائسپورا پالیسی پر نظرِ ثانی کرے۔ محفوظ اور شفاف سرمایہ کاری کے مواقع ،بااختیار ادارہ جاتی پلیٹ فارمز، قابلِ اعتماد اوورسیز ووٹنگ سسٹم اور پالیسی سازی میں حقیقی مشاورت جیسے اقدامات اوورسیز پاکستانیوں کو پاکستان کے مزید قریب لا سکتے ہیں۔ یہ اقدامات نہ صرف اعتماد بحال کریں گے بلکہ ملکی ترقی میں ایک نئی رفتار بھی پیدا کریں گے۔

آخر میں سوال بہت سادہ ہے: کیا ہم اوورسیز پاکستانیوں کو صرف مشکل وقت میں یاد کریں گے، یا انہیں قومی ترقی کا مستقل اور باوقار حصہ بنائیں گے؟ اگر پاکستان نے اس خاموش طاقت کو درست سمت دے دی تو معاشی استحکام، عالمی وقار اور مضبوط جمہوریت کوئی خواب نہیں رہیں گے۔فیصلہ اب بھی ہمارے ہاتھ میں ہے۔ آخر میں بات پھر وہی ہے مسئلہ صلاحیت کا نہیںاعتماد اور نیت کا ہے۔ اوورسیز پاکستانی آج بھی پاکستان کے لیے سوچتے ہیں، دعا کرتے ہیں اور کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ریاست انہیں وہ مقام دے گی جس کے وہ حقدار ہیں؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر یہ خاموش طاقت بہت جلد ایک مؤثر قومی قوت میں بدل سکتی ہے۔

تازہ ترین