• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تیل کے بے پناہ ذخائر سے مالا مال ملک وینزویلا پر امریکی حملے اور صدر نکولس مادورو اور اُن کی اہلیہ کو اغواء کرکے امریکہ لے جانے کے واقعہ کے بعد اب یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ وینزویلا میں امریکی مداخلت کا اصل مقصد منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام اور جمہوریت کا قیام نہیں بلکہ وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ اب وینزویلا کا انتظام وہ خود چلائیں گے، وینزویلا کا تیل اور اس سے حاصل آمدنی کا فیصلہ امریکہ کرئیگا جس سے یہ تاثر ابھرا کہ ٹرمپ وینزویلا کے قائم مقام صدر ہوں گے۔ اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا یہ بیان قابل غور ہے کہ امریکہ کو وینزویلا کے تیل کی ضرورت نہیں لیکن ہم یہ نہیں چاہتے کہ ہمارے مخالفین اس تیل سے فائدہ اٹھائیں۔ امریکی قیادت کے ان بیانات سے صاف ظاہر ہے کہ وینزویلا کے خلاف امریکی کارروائی کا اصل ہدف تیل کے ذخائر پر قابض ہونا اور اس کا کنٹرول حاصل کرنا تھا۔ حالیہ دنوں میں وینزویلا سے تیل لے جانے والے دو روسی بحری جہازوں کو تحویل میں لینا بھی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امریکہ نہیں چاہتا کہ وینزویلا کا تیل اسکے مخالف ممالک تک پہنچے۔

واضح رہے کہ وینزویلا دنیا میں تیل کے ذخائر رکھنے والا سب سے بڑا ملک ہے جسکے تیل کے ذخائر 303 ارب بیرل ہیں اور اِن کی مالیت 22 کھرب ڈالر سے زائد ہے۔ اوپیک کے اعداد و شمار کے مطابق وینزویلا کے بعد دوسرے نمبر پر سعودی عرب (2 ارب 67 کروڑ بیرل) اور تیسرے نمبر پر ایران (2 ارب 8 کروڑ بیرل) ہے۔ امریکی حملے سے قبل وینزویلا یومیہ ایک ملین بیرل تیل پیدا کررہا تھا جس میں سے 8 لاکھ بیرل تیل چین امپورٹ کرتا تھا جو وینزویلا کی تیل ایکسپورٹ کا 85 فیصد ہے، اس طرح وینزویلا کی تیل سے حاصل ہونے والی سالانہ آمدنی 18 ارب ڈالر سے زائد تھی۔

وینزویلا کے بعد تیل کی سیاست کا رخ دنیا میں تیل کے ذخائر رکھنے والے تیسرے بڑے ملک ایران کی جانب مڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی واشنگٹن میں امریکی صدر سے ملاقات اور ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پرکہ ’’ایرانی عوام آزادی کیلئے امریکہ کی طرف دیکھ رہے ہیں‘‘ ایران میں جاری مظاہروں نے شدت اختیار کرلی ہے اور یہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ امریکہ مظاہرین کی ہلاکتوں کو بہانہ بناکر کسی وقت بھی ایران پر حملہ آور ہوکر رجیم چینج کا دیرینہ خواب پورا کرسکتا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو امریکہ نہ صرف ایران میںاپنی من پسند حکومتِ ایران یعنی سابق شاہ کے بیٹے رضا پہلوی کو لابٹھائے گا بلکہ ایران کے تیل کے ذخائر پر بھی کنٹرول حاصل کرلے گا۔ اس طرح دنیا میں تیل کے ذخائر رکھنے والے دو بڑے ممالک وینزویلا اور ایران کے تیل کے ذخائر پر امریکہ قابض ہوجائے گا۔

ایران میں رجیم چینج پاکستان کیلئے بھی ایک بھیانک خواب ثابت ہوگا اور شاہِ ایران کے بیٹے رضا شاہ کی ممکنہ حکومت اسرائیل اور بھارت نواز ہوگی جو پاکستان کی سلامتی کیلئے خطرہ ثابت ہوسکتی ہے۔ تیل کی سیاست میں ایک اور حکمت عملی کے تحت سعودی عرب کے اطراف ،یمن اور صومالی لینڈ میں گھیرا تنگ کیا جارہا ہے تاکہ وہاں سے گزرنے والے سعودی تیل بردار بحری جہازوں کی وقت آنے پر ناکہ بندی کرکے چین کو تیل کی سپلائی میں رکاوٹیں پیدا کی جاسکیں۔

یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ برسراقتدار آنے کے بعد چین کی معیشت کو کمزور کرنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ترجیحات میں شامل ہے۔ تجارتی ٹیرف کے ذریعے چین کو معاشی طور پر کمزور کرنے کی کوشش میں ناکامی کے بعد امریکہ اب دنیا کی تیل سپلائی پر کنٹرول حاصل کرکے چین کی معاشی ترقی کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے۔ میرے تجزیئے کے مطابق اگر امریکہ اپنے مذموم عزائم میں کامیاب ہوگیا تو وہ آدھی سے زیادہ دنیا کے تیل کے ذخائر پر کنٹرول حاصل کرلے گا اور یہ فیصلہ کرے گا کہ کس ملک کو تیل فراہم کرے اور کس ملک پر پابندی عائد کی جائے۔ چین کی ترقی کا انحصارچونکہ تیل پر ہے چنانچہ تیل کی سپلائی لائن پر امریکی کنٹرول سے خطے پر جو اثرات مرتب ہوں گے، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ امریکہ کوئی گولی چلائے یا جنگ مسلط کئے بغیر چین کی معیشت اور سلامتی کو کمزور کرنے کا خواب دیکھ رہا ہے۔ موجودہ صورتحال میں عالمی سیاست ایک خطرناک موڑ پر کھڑی نظر آتی ہے جہاں کسی طاقتور ملک کیلئے کمزور ملک اور اس کے وسائل پر قابض ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔

طاقت کے اس بے لگام گھوڑے نے عالمی امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ دنیا آج تیل کی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے۔ ماضی میں کہا جاتا تھا کہ آنے والی جنگیں پانی پر ہوں گی لیکن موجودہ عالمی حالات یہ ظاہر کررہے ہیں کہ مستقبل کی جنگیں تیل اور توانائی کے وسائل کے حصول کیلئے لڑی جائیں گی جو یقیناً لمحہ فکریہ ہے۔

تازہ ترین