• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

غالبؔ نے کہا تھا دیر و حرم پناہ گاہیں ہیں جنہیں واماندگیِ شوق تراشتی ہے۔ دیر و حرم کے علاوہ بھی کچھ خندقیں ہیں جو انسانوں نے کھود رکھی ہیں، زندگی کی یلغار سے بچنے کیلئے، بے آسرا پن کے شب خون سے تحفظ کی خاطر، رخشِ ہست و بود کے سموں تلے کچلے جانے کے خوف سے۔ کسی نے نشے میں پناہ ڈھونڈی، کسی نے کھیلوں میں۔ زندگی تازیانے رسید کرتی ہے۔ انسان مرہم تلاش کرتا ہے۔ زندگی خاک میں ملاتی ہے، انسان اوپر اٹھنا چاہتا ہے، زندگی پاؤں میں بیڑیاں ڈالتی ہے، انسان رقص کرنا چاہتا ہے، زندگی انسان کو بسر کرنے پر مصر ہے، اور حضرتِ انسان زندگی کو بسر کرنا چاہتے ہیں۔ ازل سے بس یہی جھگڑا ہے، یہی اُم الحرب ہے۔

شعر و ادب زندگی کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہیں، ادب بد صورتی کے ہاتھ پر بیعت کرنے کیلئے کسی صورت تیار نہیں، ادب کی حکمتِ عملی کچھ یوں ہے کہ سب سے پہلے یہ ہماری عبائیں، ہماری دستاریں اتارتا ہے، ہمارے بہروپ مٹاتا ہے، ہمارے ماسک نوچ لیتا ہے، اور ہم کو ہم سے ملواتا ہے۔ پھر ہمیں ایک ایسی دنیا میں لے جاتا ہے جہاں خیر کا راج ہے، روشنی کی حکم رانی ہے، جہاں حق کا سکہ چلتا ہے، جہاں حُسن کامل و دائم ہے، جہاں عشق ازل گیر و ابد تاب ہے۔ قصہ مختصر، شعر و سخن ایک خیمہ عافیت نصب کرتا ہے، چین کی گھڑی کا اہتمام کرتا ہے اور ہمیں اپنی بانہوں میں بھر کے پیشانی پر ایسا بوسہ ثبت کرتا ہے کہ پور پور جگمگا اٹھتی ہے۔ بلا شبہ، آغوشِ شعر و سخن سے بہتر کوئی جائے پناہ نہیں۔ اس حقیقت کی مزید تصدیق پچھلے ہفتے فیصل آباد میں ہوئی جہاں سہ روزہ جشنِ جون ایلیا منایا گیا۔

نصرت فتح علی خان اوڈے ٹوریم کھچا کھچ بھرا ہوا، شعر سے محبت میں شرابور سینکڑوں لوگ، مسکراتے ہوئے، جم کر بیٹھے ہوئے، مصرعے اٹھاتے ہوئے، اور جتنے لوگ ہال میں ہیں اتنے ہی باہر، لہٰذا باہر بھی منڈلیاں لگی ہوئیں، الاؤ جل رہے ہیں، جونؔ ایلیا کے شعر سنے اور سنائے جا رہے ہیں، فضا میں وفور ہے، ایک کیفیت ہے ۔ لگتا ہے ان لوگوں کو بجلی کے بلوں کی فکر ہے نہ آٹے دال کی کوئی پریشانی، نہ حیات جرم ہے نہ زندگی وبال۔ آرٹس کونسل کے ڈائریکٹر فرمانے لگے ایسی فضا اور اتنی حاضری انہوں نے اپنی تعیناتی کے دوران پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ فیسٹیول کے دوران جب بھی حضرتِ عباس تابش پر نظر پڑتی ہے وہ تمتماتے ہوئے پائے جاتے ہیں، کبھی انکساری سے کبھی خوشی سے۔ فیسٹیول کا اہتمام ان کی تنظیم عشق آباد نے کر رکھا ہے، سو مسلسل داد سمیٹنے سے ان کی یہ حالت قابلِ فہم ہے۔

سٹیج پر اور سٹیج سے ہٹ کر جونؔ بھائی کے شعر مسلسل سماعت سے ٹکرا رہے ہیں، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ کوئی بھی شخص جونؔ بھائی کا پورا شعر خود مکمل نہیں کر پا رہا، دوسرا مصرع مخاطَب پڑھ دیتا ہے۔ ہم نے تو سٹیج سے اپنی گفتگو میں اس کا عملی مظاہرہ بھی کر کے دکھایا ہے۔ ہم نے کہا ’’یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا‘‘، مجمع پکارا ’’ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا۔‘‘ ہم نے پڑھا ’’یوں جو تکتا ہے آسمان کو تو‘‘ ہال گونجنے لگا ’’کوئی رہتا ہے آسمان میں کیا‘‘۔’’کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے‘‘ کا بہ یک زبان جواب آیا ’’روز اک چیز ٹوٹ جاتی ہے‘‘۔ یہ سلسلہ بہت دیر جاری رہا۔ یہ اور بھی لمبا ہو سکتا تھا۔ جونؔ بھائی کے عُشاق کا مجمع تھا، اور سب حفاظِ جون تھے۔ بے شک جون ایلیا لگ بھگ ربع صدی سے اردو زبان کے مقبول ترین شاعر ہیں۔ یہ جو ہم دھڑلے سے’’مقبول ترین‘‘ کہہ دیتے ہیں تو فقط ان کی محبت میں نہیں کہتے، سوشل میڈیا کے الگورتھم کی روشنی میں کہتے ہیں، یعنی ناقابلِ تردید گواہی کی موجودگی میں کہتے ہیں۔ اور یہ جو ہم انہیں ’’عظیم‘‘شاعر کہہ کر نہیں پکارتے تو وہ اس لیے کہ یہ حیثیت ہم آپ طے نہیں کرتے، یہ فیصلہ وقت کرتا ہے۔اب ذرا سٹیج سے ہونے والی گفتگو کی جھلکیاں بھی سُن لیں۔ افتخار عارف کہہ رہے ہیں کہ جون ایلیا نے لہجے کو شعر بنا دیا، جونؔ کو روزمرہ اور محاورے پر جو دست رس تھی وہ انکے تمام ہم عصروں سے برتر تھی۔ منور سعید فرما رہے ہیں کہ چچا جونؔ کو پہلوانی کا بہت شوق تھا، وہ خود تو کبھی اکھاڑے میں نہیں اترے لیکن امروہہ میں دنگل دیکھنے شوق سے جایا کرتے تھے۔ عامر سیدین جون ایلیا جنت مکانی کے خطوط سنا رہے ہیں۔ ناصر عباس نیر عشاقِ جونؔ کو تلقین کر رہے ہیں کہ اپنے محبوب کی دل ربا شخصیت کے قصیدوں سے آگے بڑھ کر انکی شاعری پر سنجیدہ کام پر بھی توجہ دیں (ویسے وہ خود اس کیلئے موزوں ترین شخص ہیں) معیشت کی نسبت سے نشست میں فواد حسن فواد کہہ رہے ہیں کہ ہر مثبت معاشی اشارہ فریب ہے اگر وہ عام آدمی کی زندگی بہتر نہیں بنا رہا۔ جون بھائی کے گھرانہ کے دو افراد نے معیشت پر بات کی، اور خوشی یہ ہوئی کہ دونوں نے عوام دوست معیشت کا پرچم لہرایا۔ ظفر مسعود کہتے ہیں کہ ادب اور معیشت کا گہرا رشتہ ہے، انسان دوست معیشت کی بنیاد وہ فیصلہ ساز ہی فراہم کر سکتے ہیں جو ادب سے انسان دوستی، خیر و شر میں تمیز اور حُسن و سچ سے محبت سیکھتے ہیں۔ کاظم سعید بھی اُس معاشی نظام کے گُن گا رہے ہیں جس کا مرکزی کردار افتادگانِ خاک ہیں۔ اور میڈیا کے سیشن میں جناب سہیل وڑائچ حاضرین کو نصیحت کرتے ہیں کہ مخالف کے نظریات بنا تعصب سنیے، ان پر غور کیجیے، آدھا سچ گمراہ کن ہوا کرتا ہے، اور آج ہمارا معاشرہ اسی گمراہی میں مبتلا ہے۔ بہت سی باتیں رہ گئیں مگر... یہی ممکن ہے اتنی عجلت میں۔(’’پناہ گاہ‘‘سے لوٹے ہیں تو گھر اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے، بیگم صاحبہ بتا رہی ہیں کہ بجلی صبح سے نہیں آ رہی)۔

تازہ ترین