گرین لینڈ: یہ نام سنتے ہی ایک وسیع سفید پردہ ذہن میں ابھرتا ہے، برف کی گہری چادر، بے آواز ہوا اور وہ خاموشی جو صدیوں سے انسانی قدموں کے بغیر زندگی گزار رہی ہو مگر تاریخ اس خاموشی کو چھپانے کی کوشش کر چکی ہے کیونکہ گرین لینڈ کبھی صرف برف اور سردی کا نام نہیں رہا۔ یہ جزیرہ انسانی جدوجہد، طاقت کی خواہش اور عالمی سیاست کی کشمکش کا مرکز رہا ہے۔ اس حوالے سے تاریخ سے ہمیں یہ رہنمائی ملتی ہے کہ ہزاروں سال پہلے، نووائی قبائل نے یہاں اپنے چھوٹے چھوٹے گھر بنائے، شکار کیا، ماہی گیری کی اور سخت موسم کے خلاف زندہ رہنے کے اپنے طریقے ایجاد کئے۔ یہ ابتدائی بستیوں کی داستانیں آج بھی آرکیالوجیکل کھدائیوں میں ملتی ہیں، جو ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ انسان کی حوصلے کی کوئی حد نہیں۔ ساتویں صدی میں یہاں و ایکنگز آئے، ایریک دی ریڈ کی قیادت میں، یورپ سے کشتیوں کے ذریعے اور یہاں اپنی نوآبادیاتی بستیوں کی بنیاد رکھی۔ یہ بستیاں صرف رہائش گاہیں نہیں تھیں بلکہ ایک تجارتی، اسٹریٹجک اور ثقافتی مرکز بن گئی تھیں۔ جس نے جزیرے کو عالمی تاریخ کے نقشے پر جگہ دلائی۔ بارہویں صدی میں وایکنگ بستیوں نے عروج دیکھا، مگر قدرتی مشکلات، سخت موسم اور مقامی انوئٹ آبادی کیساتھ ٹکراؤ نے ان کی بقا کو محدود کر دیا۔ سولہویں صدی میں ڈنمارک اور ناروے نے یہاں حکمرانی مضبوط کی، مذہبی اور تجارتی اثرات قائم کیے اور جزیرے کے وسائل کو یورپی منڈیوں کیلئے اہم بنایا۔ اٹھارویں اور انیسویں صدی میں صنعتی انقلاب نے گرین لینڈ کی اہمیت بڑھا دی، معدنیات، مچھلی اور دیگر وسائل کی تلاش نے اسے عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا۔سرد جنگ کے دوران امریکہ نے شمالی حصے میں فوجی اڈے قائم کیے ۔یوں یہ جزیرہ عالمی طاقتوں کے درمیان اسٹریٹجک محاذ بن گیا۔ برف کے نیچے چھپے راستے، آرکٹک کے کھلے سمندری راستے اور عالمی طاقتوں کے جغرافیائی مقابلے نے گرین لینڈ کو جغرافیہ کا حصہ نہیں بلکہ سیاست اور طاقت کا بھی مرکز بنا دیا۔ 1979ء میں ڈنمارک نے گرین لینڈ کو محدود خودمختاری تو دے دی مگر دفاع اور خارجہ امور میں بدستور اپنا اختیار برقرار رکھا۔ بیسویں صدی کے آخر اور اکیسویں صدی کے آغاز میں گرین لینڈ نے مزید خودمختاری حاصل کی اور اپنی مقامی حکومت قائم کی۔ یہ خودمختاری آج بھی جزیرے کی سیاسی زندگی کا ستون ہے لیکن اسٹریٹجک محل وقوع اور معدنی وسائل کی وجہ سے عالمی طاقتیں ہمیشہ اس پر نظر رکھتی رہی ہیں۔یہی پس منظر ہمیں امریکی صدر ٹرمپ کے حالیہ بیان’’گرین لینڈ تو ہم نے لینا ہے،اگر آرام سے ڈیل نہ بنی تو دوسرا طریقہ استعمال کریں گے‘‘کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ الفاظ ایک بیانیہ نہیں، ایک عالمی حقیقت کی عکاسی محسوس ہوتے ہیں:طاقتور اکثر قانون اور اخلاقیات کی پابندی سے بالاتر ہو کر عمل کرتا ہے۔’’آرام سے ڈیل‘‘ایک مہذب دھمکی ہےاور ’’دوسرا طریقہ‘‘واضح کرتا ہے کہ طاقتور اپنی مرضی نافذ کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا۔جیسا کہ کچھ روز قبل وینز ویلا میں امریکی کارروائی کی شکل میں دنیاکے سامنے طاقت کاواضح تصورسامنے آچکاہے۔دلچسپ امریہ ہےکہ گرین لینڈ کی اہمیت صرف معدنی وسائل تک محدود نہیں۔ یہاں تیل، گیس، معدنیات، اور آرکٹک کے کھلے سمندری راستے اسے تجارتی اور فوجی نقطہ نظر سے انتہائی حساس بنا دیتے ہیں۔ یہ وہ دنیا ہے جہاں قطبِ شمالی کے قریب ہر جزیرہ، ہر ساحل، ہر برفانی راستہ عالمی طاقتوں کیلئے گویا ایک مقدس نقطہ بن گیا ہے۔ ڈنمارک، یورپ اور بین الاقوامی اداروں کا موقف، خاموشی یا جواب، سب گرین لینڈ کی تقدیر پر اثر ڈالے گا۔ اگر عالمی قوانین اور خودمختاری کے اصول مضبوط رہیںتو چھوٹی ریاستیں بھی طاقتور قوتوں کے دباؤ کو محدود کر سکتی ہیں۔ دنیا خاموش رہی تو یہ جزیرہ ایک اسٹریٹجک اثاثہ کے طور پر زیر اثر آ جائیگا اور یہاں بسنے والی قوم کی امنگیں پس منظر میںدب جائیں گی۔ٹرمپ کے بیان سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ امریکہ عالمی سیاست میں اپنی ترجیحات واضح رکھتا ہے: قانون اور اخلاقیات تو بات کیلئے ہیں۔اصل کھیل طاقت، جغرافیہ اور مفاد کا ہے۔ یہی سبق ہے جو گرین لینڈ کی تاریخ نے ہمیں دیا۔قدیم شکارچیوں کی جدوجہد سے لیکر وایکنگز کی بستیوں، ڈنمارک کی حکمرانی اور سرد جنگ کے فوجی اڈوں تک، ہر دور میں جزیرہ طاقت کے کھیل کا مرکز رہا۔آج کی دنیا میں گرین لینڈ کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ معدنیات، تیل، گیس اور آرکٹک کے سمندری راستے اسے عالمی سیاست کیلئے ایک اہم مرکز بناتے ہیں۔ چین اور روس بھی اس خطے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔امریکی دباؤ، ڈنمارک کی حکمرانی اور مقامی حکومت کے حقوق کے درمیان ایک باریک توازن قائم ہے۔گرین لینڈ کی تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ طاقتور کی خواہشات ہمیشہ نافذ نہیں ہوتیں، لیکن وہ ہمیشہ موجود رہتی ہیں۔ انسانی حقوق، خودمختاری اور قانونی اصول وہ نشانیاں ہیں جو عالمی سیاست میں توازن برقرار رکھتی ہیں۔ ٹرمپ کا بیان ایک دھمکی سے زیادہ ایک علامت ہے کہ آنے والا وقت طاقت، مفاد اور اخلاقیات کے درمیان کشمکش کا دور ہوگا۔یہ جزیرہ آج صرف برف اور معدنیات کا مرکز نہیں، بلکہ ایسا سیاسی اور اسٹریٹجک آئینہ ہے جو عالمی طاقتوں کی نیت، مقامی آبادی کی جدوجہد اور بین الاقوامی قوانین کی اہمیت کو یکجا کرتا ہے۔ یقینی طور پر یہی وہ حقیقت ہے جو ہمیں یاد دلاتی ہےکہ طاقتور کے فیصلے ہمیشہ زمین کی حقیقت، انسانی جدوجہد اور عالمی اخلاقیات کی چھاؤں میں دیکھے جانے چاہئیں، ورنہ تاریخی سبق دوبارہ دہرایا جائیگا۔گرین لینڈ کی برف کی چادر کے نیچے چھپی یہ تاریخ، طاقت کے کھیل، سیاست کے پیچ و خم اور انسانی جدوجہد یہ بھی باور کراتی ہے کہ دنیا میں کچھ بھی دائمی نہیں اور ہر فیصلہ، ہر خواہش اور طاقت کا ہرعمل اپنے اثرات چھوڑ کر جاتا ہے۔