• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’بہت افسوس ہوا تمہارے دوست جیرے پہلوان کی وفات کا سن کر ،بہت پیارا آدمی تھا ! ‘‘،’’ ان ہاتھوں سے نہلایا ہے جی اسے۔ ایک ہی تو اپنا دوست تھا، ؤآج کل ایسے دوست کہاں ملتے ہیں؟ ‘‘،’’ اسے ہوا کیا تھا ؟‘‘،’’ہونا کیا تھا، بالکل ٹھیک ٹھاک تھا، ایک دن پہلے اکھاڑے میں اس کے ساتھ زور کیا کیسے کیسے استادی’’ دا ‘‘ اس نے سکھائے ، مگر ، اگلے دن پتہ چلا کہ اللّٰہ کو پیارا ہو گیا۔ ان ہاتھوں سے نہلایا ہے جی اسے۔ اللّٰہ کے کاموں میں کسے دخل ہے!‘‘،’’لیکن ہوا کیا تھا اسے ؟ ‘‘،’’ہونا کیا ہے جی اکھاڑے میں ہم زور کرنے گئے ابھی پنڈے پر مٹی نہیں ملی کہ کہنے لگا سینے میں درد ہو رہا ہے، میں نے کہا زور کرو، پنڈا کھل جائے گا۔ اس نے ڈنڈ نکالنے کی کوشش کی دو ہی ڈنڈ نکالے تھے کہ سانس ٹوٹنے لگا، باؤ ارشد اس وقت پاس ہی تھا وہ اسے سکوٹر پر بٹھا کر ہسپتال لے گیا۔ ڈاکٹر ابھی ٹوٹی لگا کر دیکھ ہی رہے تھے کہ اس کا دم نکل گیا۔ نالائق ڈاکٹر ہیں جی! اپنی نالائقی پر پردہ ڈالنےکیلئے کہنے لگا ’ہارڈ‘ اٹیک ہوا ہے! ‘‘،’’جیرا پہلوان سگریٹ وغیرہ تو نہیں پیتا تھا ؟ ‘‘،’’ نئیں جی اس نے تو کبھی خالی سگریٹ کو ہاتھ تک نہیں لگایا ! ‘‘،’’کیا مطلب؟ ‘‘،’’نر بندہ تھا جی بھرا ہوا سگریٹ پیتا تھا۔ اوہو !!! کتنی خوبیوں والا یار تھا میرا۔ خدا ترس اتنا کہ کسی کی تکلیف دیکھ ہی نہیں سکتا تھا۔ ہفتہ پہلے وہ ٹیکس وصول کرنے کا کا سگریٹ فروش کے کھوکھے پر گیا کا کا سگریٹ فروش جیرے کے پاؤں پڑ گیا کہ روزوں کی وجہ سے اسکی بکری آدھی رہ گئی ہے گھر میں بچے بھوکے بیٹھے ہیں خدا کیلئے میرا پیچھا چھوڑ دو۔ یہ سن کر میرے پہلوان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، اسے اٹھا کر سینے سے لگایا اور کہا دل چھوٹا نہ کر کاکے۔ آج اگر پیسے نہیں ہیں تو کل ادا کر دینا تم پر بےاعتباری تھوڑے ہی ہے ! ‘‘،’’یہ جیرا پہلوان غنڈہ ٹیکس بھی لیتا تھا ؟ ‘‘،’’ نئیں جی نئیں، میرا یار غنڈہ نہیں تھا جی، وہ تو غریب پرور تھا۔ وہ ان جیبیں کاٹنے والے دکانداروں سے جرمانہ وصول کرتا تھا اور آگے غریبوں میں تقسیم کر دیتا تھا۔ بڑا خوبیوں والا یار تھا میرا .... مگر بے وفائی کر گیا ساتھ چھوڑ گیا، ان ہاتھوں سے نہلایا ہے جی اسے‘‘!’’ میں نے سنا ہے اسکی ماں بہت روتی ہے‘‘،’’ ماں نے نہیں رونا تو اور کس نے رونا ہے جی ..... اور پھر پہلوان ماں کا فرماں بردار بھی بہت تھا جو کماتا تھا، اسکی قدموں میں ڈھیر کر دیتا تھا، ماں بھی اتنے نصیبوں والی تھی کہ جس روز ماں کی شکل دیکھ کر گھر سے نکلتا اس کے سارے کام خود بخود ہوتے چلے جاتے، پولیس نے اسے مفرور قرار دیا ہواتھا، مگر وہ پولیس کے سامنے سے گزر جاتا اور انہیں نظر نہ آتا !‘‘،’’پولیس نے اسے مفرور قرار دیا ہوا تھا؟ وہ کیوں؟ ‘‘۔’’بڑا جی دار یار تھا میرا .... دو چار بندے’’ لاء‘‘ دیئے تھے اس نے بس اسکے بعد پولیس اسکے پیچھے تھی۔ پولیس کے ہاتھ نہیں آیا جی۔ ڈاکٹروں کی نالائقی سے مر گیا۔ کیسا کڑیل جوان تھا میرایار پھٹے پر کیسے شیر کی طرح پڑا ہوا تھا۔

ان ہاتھوں سے نہلایا ہے جی اسے ! ‘‘،’’ میں نے سنا ہے اسے اپنی بہنوں سے بھی بہت محبت تھی‘‘،’’ محبت تو کوئی لفظ ہی نہیں ہے جی۔ عشق تھا اسے عشق۔ مگر اس کے باوجود بڑا رعب تھا اس کا، گھر میں داخل ہوتا تو وہ کمروں میں چھپتی پھرتیں۔ پورے محلے میں کسی نے ان کی جھلک تک نہیں دیکھی تھی۔ پہلوان کی زندگی میں انہوں نے کبھی گھر سے باہر قدم نہیں رکھا تھا، ان کی ضرورت کی چیزیںماں بازار سے خرید کر لا دیتی تھی !’’اب کیا حال ہے ان بیچاریوں کا؟ ‘‘،’’بھائی کی موت کا انہیں اتنا صدمہ ہوا کہ دیوانگی کی حالت میں گھر سے نکل گئیں۔ آج تک ان کا سراغ ہی نہیں مل سکا۔ یہ تو اچھا ہوا کہ کپڑا لتا بھی ساتھ لے گئیں، ورنہ اللّٰہ جانے ان معصوموں کا کیا حال ہوتا ! نہ ایسی باتیں چھیڑیں باؤ جی میرا کلیجہ چھلنی ہو رہا ہے ، میرا یار اس وقت قبر میں بے چین ہو رہا ہو گا کیسا کڑیل جوان تھا اس کے نام کی دہشت سے لوگ کانپتے تھے۔ لیکن مرنے کے بعد کیسی بے بسی کے عالم میں پھٹے پر پڑا ہوا تھا۔

اپنے ان ہاتھوں سے اسے نہلایا ہے جی! ‘‘،’’ مرحوم کی بیوہ کا کیا حال ہے؟ ‘‘،’’جیرا پہلوان اپنا یار تھا جی اور یاریاں زندگی تک نہیں، مرنے کے بعد بھی قائم رہتی ہیں، اپنی اس بیوی کے ساتھ اس نے چند مہینے پہلے شادی کی تھی جب یہ اسے اٹھانے گیا ہے ہے تو ....‘‘ اٹھانے گیا ؟ ‘‘،’’ ہاں جی لڑکی کے گھر والے نہیں مانتے تھے تو جب یہ اسے اٹھانے گیا ہے جی تو میں بھی اس کے ساتھ تھا، اٹھانا ہم نے اسے کیا تھا جی وہ خود ہی اچک کر جیپ میں بیٹھ گئی۔ اسے کیا پتہ تھا کہ اس کے نصیب پھوٹ جائیں گے!‘‘،’’ہاں یہ تو اس کے ساتھ اچھا نہیں ہوا ! ‘‘،’’ مگر جی یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میرے ہوتے ہوئے میرے یار کی بیوہ ساری عمر روتے گزار دے میں ایک مہینہ پہلے اس کی خیر خیریت پوچھنے اس کے گھر گیا دیکھا تو گھر میں کھانے کو بھی کچھ نہیں تھا، جیرا پہلوان جو کماتا تھا، لٹا دیتا تھا مجھ سے اپنے یار کی بیوہ کی یہ حالت دیکھی نہیں گئی، میں نے اسے اسی وقت نکاح کا پیغام دیا۔ اب وہ میرے گھر کی مالک ہے جی ‘‘۔’’تو جیرے پہلوان کا کوئی بچہ وچہ نہیں تھا ‘‘بچارا اس معاملے میں بد نصیب تھا اس نے بڑے علاج کرائے مگر بچہ کہاں سے ہونا تھا جی ان ہاتھوں سے نہلایا ہے جی اسے‘‘

تازہ ترین