• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ دو ہفتوں کے دوران دنیا اُن دہشت گردانہ اقدامات کی گواہ رہی ہے جو ریاست ہائے متحدۂ امریکہ اور صہیونی رجیم کی حمایت سے ایران کے اندر رونما ہوئے۔یہ سب کچھ 28دسمبر کو معیشت کی صورتحال پر کاروباری حضرات کے قانونی اور پُرامن اجتماع اور احتجاج سے شروع ہوا۔28 دسمبر سے 30دسمبر تک ہم نے زیادہ تر بازار، اصناف اور معیشت سے منسلک کارکنان کی سطح پر ایسے احتجاجات دیکھے جو مکمل طور پر پُرامن تھے اور مطالبات کے اظہار کیلئے کیے گئے، اور یہ احتجاجیوں کا فطری حق تھا۔ حکومت نے اُن سے بات چیت کی، احتجاجات کی شدت میں کمی آئی اور تیسرے دن تک عملی طور پر یہ اجتماعات ختم ہو گئے۔8سے 10جنوری تک مغربی حکام اور صہیونی رجیم نے اپنے پیغامات کے ذریعے ایران کے مختلف شہروں میں اُن افراد میں سے بعض کو، جو بیرونِ ملک سے رابطے میں تھے، کو تشدد پر اُکسایا۔

وہ لوگ جنہوں نے ماضی کی طرح اسلامی جمہوریہ ایران پرمسلط کردہ بارہ روزہ جنگ میں شکست کا سامنا کیا تھا نے پہلے سے تیار کردہ مذموم منصوبے اور نقشے کے ساتھ عملی طور پر اس جنگ کو تیرہویں دن، ایران کے شہروں کی سڑکوں پر شروع کیا، اور ہم نے احتجاجیوں کے درمیان مسلح دہشت گردوں کی موجودگی دیکھی جو منظم انداز میں اور ہلاکتوں کی تعداد بڑھانے کے مقصد سے بدامنی والی جگہوں پر سیکورٹی فورسز، پولیس اور عوام کی طرف فائرنگ کر رہے تھے۔ چند دنوں میں تہران اور ایران کے دیگر شہروں کی سڑکوں پر جو کچھ ہوا وہ احتجاج نہیں تھا بلکہ ایک دہشت گردانہ ( دہشت گردی کی) جنگ تھی۔

بدقسمتی سے بہت سارے ہلاک ہونے والے ، دہشت گرد عناصر کے ہاتھوں پیچھے سے نشانہ بنے تھے۔ دہشت گردوں نے داعش کی طرح زخمیوں کو قتل کیا۔ بعض ایرانی پولیس اہلکاروں کے سر قلم کیے۔ کچھ افراد حتیٰ کہ ایک نرس کو مریضوں کی مدد کے دوران زندہ جلا دیا گیا۔وسیع پیمانے پر عوامی مقامات، سرکاری عمارتوں اور پولیس کے دفاتر کو آگ لگائی۔ لوگوں کی دکانوں اور گھروں کو نذرِ آتش کیا ۔ بعض شہروں میں تقریباً 200 دکانیں جلا دی گئیں۔ 53فائر بریگیڈ کی گاڑیاں اور 180 ایمبولینسوں کو آگ لگا دی گئی۔ صرف تہران میں 26 بینکوں کو اور پورے ایران میں 53مساجد کو نذرِ آتش کیا گیا۔پُرامن احتجاجات اور ہنگامہ آرائی کے درمیان تفریق کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ جس طرح اسلامی جمہوریہ ایران شہریوں کے پُرامن اور قانونی احتجاج کے حق کی حمایت اور حفاظت کو اپنا مکمل فریضہ سمجھتا ہے، اسُی طرح عوامی سلامتی کے خلاف خطرات کے سد باب کو بھی اپنی ذمہ داری قرار دیتا ہے۔ اب تک مسلح دہشت گردوں سے 1300 سے زائد ہتھیار برآمد کیے جا چکے ہیں۔ لہٰذا بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کو ان دہشت گردانہ اقدامات کی مذمت کرنی چاہئے۔حالیہ دنوں کی ہنگامہ آرائیاں، عوام کے جائز اور قانونی معاشی مطالبات سے کوئی تعلق نہیں رکھتیں اور سوموار 12 جنوری کو ایران کے لاکھوں عوام نے سڑکوں پر آ کر اسرائیل سے وابستہ دہشت گرد گروہوں کے اقدامات کی مذمت کی۔معیشت کی مشکلات میں کمی کے لیے ضروری تدابیر اختیار کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے، اس بات کی طرف توجہ دینا ضروری ہے کہ ان مشکلات کا بڑا حصہ ایران کی قوم کے خلاف مغرب کی مکمل اقتصادی اور مالی جنگ کا نتیجہ ہے، جو غیر قانونی اور ظالمانہ پابندیوں کی صورت میں مسلط کی گئی ہے۔ یہ پابندیاں براہِ راست انسانی حقوق، معیشت اور ایرانیوں کی روزمرہ زندگی کو نشانہ بناتی اور انسانیت کے خلاف جرم کا واضح مصداق ہیں۔

مغربی ممالک پوری ایک قوم پر پابندیاں نہیں لگا سکتے اور پھر انسانی حقوق کا پرچم بلند کر کے یہ دعویٰ کریں کہ وہ انہی لوگوں کا دفاع کر رہے ہیں جنہیں انہوں نے پابندیوں کا نشانہ بنایا ہے۔ مثال کے طور پر ایران میں سینکڑوں افراد، جن میں وہ بچے بھی شامل ہیں جو جلد کی بیماری ’’ایپیڈرملائزس بولوسا‘‘ ( Epidermolysis Bullosa ) میں مبتلا ہیں، پابندیوں کے باعث یورپ میں تیار ہونے والی بعض مخصوص ادویات کی کمی کے سبب اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ مغربی ممالک کو اُن مفلوج کر دینے والی پابندیوں اور زیادہ سے زیادہ دباؤ کے بارے میں جواب دہ ہونا چاہیے جس نے ایرانی عوام پر بے پناہ دکھ مسلط کیے ہیں۔اسلامی جمہوریہ ایران ایک مقتدر ملک ہونے کے ناطے، چار دہائیوں سے زائد عرصے سے ان ظالمانہ اور غیر قانونی پابندیوں کی مزاحمت اور الله تعالی پر توکل کرتے هہوئے، اسی صلاحیت اور ایرانی عوام کی مکمل حمایت کیساتھ اس راہ یعنی خودمختاری کے تحفظ کو جاری رکھے گا اور اپنی علاقائی سالمیت کا دفاع کرتا رہے گا۔

(مقالہ نویس مہران موحدفر ،لاہور میں قونصل جنرل، اسلامی جمہوریہ ایران ہیں)

تازہ ترین