• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میرے گذشتہ کالم بعنوان ”کیا یہ پاکستان کا ”فخر“ ہے“ جو بروز جمعرات15 جنوری 2026 کو شائع ہوا کے جواب میں ملالہ یوسفزئی کے والد ضیاءالدین یوسفزئی نے سوشل میڈیا پر مجھے جواب دیا۔ اگرچہ ضیاء صاحب نے اُن سینئر صحافیوں کے حوالے سے کچھ بات نہیں کی جو ملالہ کو پاکستان کا “فخر” سمجھتے ہیں لیکن ملالہ کے ایران کے متعلق تازہ بیان پر اُسی طرح نالاں ہیں جس کا میں نے اپنے کالم میں اظہار کیا لیکن اس کے باوجود میں ملالہ کے والد کا جواب جنگ کے قارئین کے لیے اپنے اس کالم میں شائع کر رہا ہوں۔

“محترم انصار عباسی صاحب،

السلام علیکم!

آپ تحقیقاتی صحافت (Investigative Reporting) کے میدان میں پاکستان کے ایک مستند اور قابلِ تعریف صحافی ہیں، مگر مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ جب بھی ملالہ یوسف زئی کا ذکر آتا ہے تو آپ کی بصارت و بصیرت پر گویا نفرت کے پردے کیوں پڑ جاتے ہیں۔

ملالہ کی پہلی کتاب شائع ہونے کے بعد آپ نے طباعت کی ایک غلطی کو بنیاد بنا کر جس انداز میں اُن کی بدترین کردار کشی کی، وہ نہایت افسوس ناک تھا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ آپ ملالہ پر تنقید اور ہرزہ سرائی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔

جہاں تک ملالہ کے ایران کے مظاہرین کے حق میں بیان کا تعلق ہے تو آپ نے اپنے کالم کے آغاز میں لکھا ہے کہ:

“ایران میں حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے پرتشدد احتجاج کو محض اندرونی عوامی ردِعمل قرار دینا ایک سادہ بیانیہ ہوگا۔”

بالکل اسی طرح، ایران کے طول و عرض میں شہروں اور دیہاتوں سے لاکھوں لوگوں کا سڑکوں پر نکل آنا محض “بیرونی قوتوں کی پشت پناہی” کہہ کر رد کر دینا بھی ایک سادہ بیانیہ ہی ہوگا۔

ملالہ نے اپنے بیان میں بیرونی قوتوں اور جابرانہ نظاموں کے تسلط کو مسترد کیا ہے؛ مگر آپ اس اہم نکتے کو “محض تکلف” کہہ کر اڑا دیتے ہیں، جو کہ واضح تعصب کے زمرے میں آتا ہے۔

آپ کو ایران کی سرکاری سرپرستی میں جمع ہونے والے لاکھوں افراد کا مجمع تو نظر آتا ہے، مگر باوثوق ذرائع کے مطابق ہزاروں مظاہرین کے بے دردی سے قتلِ عام کا ذکر آپ کے تجزیے میں کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ تو پھر کیا آپ کا یہ تجزیہ گمراہ کن نہیں؟

آپ فرماتے ہیں:

“کیا آپ چاہتے ہیں کہ وہ ایک ایسا موقف اپنائیں جو اُن کے نوبل پرائز جیسے عالمی اعزاز کو خطرے میں ڈال دے جس کے حصول کے لیے ملالہ کے والد نے خاص طور پر بڑا ‘اہم کردار’ ادا کیا؟”

عباسی صاحب!

ملالہ کے نوبل انعام میں میرے کس نوعیت کے “اہم کردار” کی بات کی جا رہی ہے؟ یہ بات میرے لیے بھی قابلِ فہم نہیں۔ بہتر ہوتا کہ آپ اس کی واضح وضاحت فرما دیتے تاکہ مجھے بھی معلوم ہو جاتا۔

میرا ہمیشہ سے ایک ہی اصول اور عقیدہ رہا ہے: میں نے ایک باپ کی حیثیت سے ملالہ کی صلاحیتوں اور جرأت پر یقین رکھا۔ جب لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ میں نے ایسا کیا کیا کہ ملالہ اتنی پراعتماد اور باصلاحیت بنی، تو میرا جواب یہی ہوتا ہے:

مجھ سے یہ نہ پوچھیں کہ میں نے کیا کیا، یہ پوچھیں کہ میں نے کیا نہیں کیا۔

میں نے اُس کے پر نہیں کاٹےبس۔

میرے اور آپ کے سوچنے کے انداز میں بنیادی فرق یہی ہے کہ آپ ایک لڑکی کو “مظلوم بچی” سے آگے بڑھ کر کوئی حیثیت دینے کے روادار نہیں، جبکہ میری نظر میں اُس کے لیے “ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔”

یہ کہنا کہ ملالہ نے یہ موقف اس لیے اختیار کیا تاکہ نوبل جیسے عالمی اعزاز کو خطرے میں ڈال دے، یہ دعویٰ بھی کمزور اور بے بنیاد ہے۔ آپ کو شاید معلوم ہو کہ نوبل انعام واپس نہیں لیا جا سکتا۔ مثال کے طور پر، میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی پر دنیا کے بعض اداروں نے آنگ سان سوچی سے اپنے اعزازات واپس لے لیے، مگر نوبل انعام آج بھی اس کے پاس موجود ہے۔

آخر میں چند گزارشات ہیں، جن پر آپ سنجیدگی سے غور فرمائیں:

1) ملالہ اور اُن کی تنظیم نے فلسطین اور شام سمیت دنیا بھر میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے عملی اور نمایاں کام کیا ہے۔ آپ کو کبھی بھی اسے سراہنے کے لیے ایک جملہ لکھنے کی توفیق کیوں نہیں ہوئی؟

2) پچھلے چند برسوں میں ایک طاقتور مسلمان بادشاہ نے رجعت پسندانہ اسلامی نظریات کی دھجیاں اڑائیں، مگر آپ اُن کے خلاف کبھی کوئی کالم نہ لکھ سکے؛ حالانکہ آپ کی “دینی حمیت” ہمیشہ ہمیں للکارتی رہتی ہے۔ ایسا کیوں ہے؟

اور آخر میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ آپ ہمیشہ ایک " مرد اور مسلمان“ بن کر سوچتے ہیں۔ صرف ایک دن کے لیے ایک آزاد انسان کی طرح سوچیں ، آپ کو دنیا بھی بڑی نظر آئے گی اور آخرت بھی۔شکریہ۔”

تازہ ترین