• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا میں آٹھ جنگیں بند کرانے کا مہینوں کریڈٹ لینے والے صدر ٹرمپ نے جس تیزی سے امن کے پیامبر کی جگہ جنگ کے دیوتا کا روپ دھارا ہے، وینزویلا کے تیل پر تسلط حاصل کرنے کے بعد گرین لینڈ کے معدنی ذخائر اور کئی دوسرے ملکوں کے قدرتی وسائل پر قبضہ کرنے اور ایران کو جہنم بنادینے کے عزائم کا جیسا برملا اظہار وہ کررہے ہیں، اسے محض ان کی تلون مزاجی کا شاخسانہ نہیں کہا جاسکتا۔ فی الحقیقت سیکولر سرمایہ دارانہ مغربی جمہوریت، جس کا سب سے بڑا نمائندہ امریکہ کو تصور کیا جاتا رہا ہے، حرص زدہ شہنشاہیت اور سنگ دل سامراجیت ہی کی ایک نقاب پوش شکل ہے۔ اپنے مفاد کی خاطر دوسری قوموں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنا ، اس نظام میں بھی عام ہے جس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ اقبال نے اس حقیقت کو یوں بیان کیا ہے کہ ’’تونے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام....چہرہ روشن‘ اندروں چنگیز سے تاریک تر‘‘ ۔ اس کیفیت کی وجہ بھی اس عظیم مفکر نے ان الفاظ میں بتادی ہے کہ ’’ جلال پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو... جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی‘‘۔ صدر ٹرمپ کے یہ الفاظ کہ’’ میں جس ملک پر چاہوں اپنی فوج کو حملہ کرنے کا حکم دے سکتا ہوں، مجھے اس کارروائی سے میرے اپنے دماغ کے سوا کوئی چیز نہیں روک سکتی‘‘ اسی کیفیت کی نشان دہی کررہے ہیں۔

یہی ذہنیت عالمی امن و سلامتی کیلئے بنائی جانے والی انجمن اقوام متحدہ کی قطعی بے اثری اور مکمل ناکامی کا باعث بنی ہے۔ جابر قوتوں کو ظلم و استحصال سے روکنے میں اس کا کردار محض وعظ و تلقین تک محدود ہے جبکہ طاقت رکھنے والے ملک عملاً ہر من مانی کیلئےآزاد ہیں۔ امریکہ کی پشت پناہی کے ساتھ فلسطین میں اسرائیل کی جانب سے اقوام متحدہ کے فیصلوں کی پوری ڈھٹائی کے ساتھ عشروں سے جاری خلاف ورزیاں، بھارت کا کشمیر پر ناجائز قبضہ اور انسانی حقوق کی بدترین پامالی روکنے میں اقوام متحدہ مکمل طور پر فالج زدگی کا شکار ہے جبکہ امریکہ اپنے مفادات کی خاطر اس عالمی ادارے کو بے دریغ استعمال کرتا رہا ہے۔ پچھلے عشروں میں ویتنام، عراق اور افغانستان پر امریکی فوج کشی اس کا کھلا ثبوت ہے۔صدر ٹرمپ کے تازہ ارشادات سے واضح ہے کہ اب انہیں کسی جارحانہ اقدام کیلئے ماضی کی طرح اقوام متحدہ کی رسمی منظوری کی بھی کوئی حاجت نہیں ، بلکہ اس کی مالی معاونت اور اس کے درجنوں فلاحی اداروں سے امریکہ کو الگ کرکے وہ عالمی امن و سلامتی کیلئے قائم کی گئی اس تنظیم کے کفن دفن کی راہ ہموار کررہے ہیں ۔ انجمن اقوام متحدہ اُسی حشر سے دوچار ہوتی نظر آرہی ہے جو پہلی جنگ عظیم کے بعد انیس سو بیس میں قائم کی گئی لیگ آف نیشنز کا ہوا تھا۔ بڑی طاقتوں کی مفاد پرستی اور من مانیاں اس تنظیم کے غیرمؤثر ہونے کا سبب بنیں اور اس کی موجودگی کے باوجود دنیا کو دوسری عالمی جنگ کا سامنا کرنا پڑا جس کا خاتمہ امریکہ کی جانب سے جاپان کو ایٹمی حملے کا نشانہ بنائے جانے پر ہوا۔صدر ٹرمپ دوسرے ملکوں کے وسائل پر تسلط کیلئے جن فوجی کارروائیوں کی بات کررہے ہیں، ان کے نتیجے میں یورپ اور امریکہ کے ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہونے کے امکانات نمایاں ہیں جبکہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت پورے عالم عرب اور مسلم دنیا میں جنگ کی آگ بھڑکا سکتی ہے۔

ایران صدر ٹرمپ کا ہدف کیوں ہے؟ گزشتہ جون میں ایران کے خلاف شدید فضائی کارروائی کے بعد دوبارہ اس پر حملے کی تیاری کا اصل سبب کیا ہے؟ اس کارروائی سے کن نتائج کا حصول امریکہ اور اسرائیل کو مطلوب ہے؟ ان سوالوں کا جواب شاید اس کے سوا کچھ نہیں کہ اس کا مقصد گریٹر اسرائیل کے قیام کی راہ ہموار کرنا ہے جس پر پیش رفت میں ایران کی موجودہ حکومت سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ایران میں مہنگائی کے خلاف حالیہ عوامی مظاہروں کو اپنے کارندوں کے ذریعے تشدد اور بغاوت کی شکل دے کر حکومت کی تبدیلی کی کوشش میں ناکامی کے بعد اب باقاعدہ جنگی کارروائی اور نئی پابندیوں سے یہ مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ ایران میں رضا شاہ پہلوی کے بیٹے کو اقتدار میں لانے کا منصوبہ سامنے آچکا ہے۔ صدر ٹرمپ کے معاون خصوصی کی حال ہی میں ان سے ملاقات بھی ہوئی ہے۔ رضا شاہ پہلوی کے دور میں اسرائیل کی موساد اور ایران کی ساواک مشترکہ طور پر کام کرتی رہی ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل ایران میں وہی دور واپس لانے کے خواہش مند ہیں تاکہ گریٹر اسرائیل کی منزل کا حصول بہ سہولت ممکن ہوجائے۔ ایران پر امریکی حملے کا نتیجہ خطے کے کئی عرب ملکوں میں موجود امریکی اڈوں پر ایرانی میزائلوں کی بارش کی شکل میں نکلے گا اور یوں پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آجائیگا۔یہ صورتحال گریٹر اسرائیل کے قیام کیلئے یقینا ًبہت سازگار ہوگی اور صہیونی حکمراں اس سے پورا فائدہ اٹھائیں گے جن کے مطابق گریٹر اسرائیل کا قیام ان کا روحانی مشن ہے۔

تاہم حالات کا دوسرا رخ یہ ہے کہ عرب ممالک کو معاہدہ ابراہیمی کے جال میں لانے کی کوشش کے متوقع نتائج نہیں نکلے۔ اس کے برعکس اپنی سلامتی کیلئے وہ پاکستان سے دفاعی تعاون کی راہ پر گامزن ہیں۔ متعدد عرب ممالک پاکستان سے طیاروں اور دیگرسازو سامان کے حصول کیلئےمعاہدے کررہے ہیں۔ پاک سعودی دفاعی معاہدے میں ترکیہ کی شرکت کے امکان نے مسلم دنیا کے مضبوط دفاعی نظام کے قیام کے امکانات ر وشن کردیے ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ چین، روس ، او آئی سی اور دنیا کے تمام امن پسند ممالک انسانیت کو ایک ایسی جنگ سے بچانے کیلئے متحد ہوجائیں جو پوری دنیا کی تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔ اقوام متحدہ کی بے جان تنظیم کے بجائے عالمی امن و سلامتی کیلئے ایک نئے مؤثر، بااختیار اور بامقصد بین الاقوامی ادارے کا قیام بھی اس اتحاد کی اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔

تازہ ترین